ریاستی ہوم ڈیپارٹمنٹ کی تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ضروری ہدایت
سرینگر:١٨،جولائی : گور نر انتظامیہ نے مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر کشمیر وادی میں 30پاکستانی اور سعودی چینلز کی نشر یات پر مکمل طور پر پابندی عائد کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ۔حکمنامے پر عمل در آمد کرنے کیلئے ریاستی محکمہ داخلہ نے تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ضروری ہدایت دی ہے جبکہ اس ضمن میں کیبل آپریٹرزکے نام ایک آڈر بھی جاری کیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ جموں وکشمیر میں پہلے ہی کشمیر وادی میں 22سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی عائد ہے ۔یاد رہے کہ ان چینلز کی نشریات پر محبوبہ مفتی کی سربراہی والی مخلوط حکومت میں بھی پابندی عائد کردی گئی تھی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق گور نر انتظامیہ نے مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر کشمیر وادی میں تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو پاکستان اور سعودی عرب کی تمام30 چینلز کے خلاف ایکشن لینے کی ہدایات جاری کردیں۔گور نر انتظامیہ نے یہ ہدایات اس خدشے کے پیش نظر جاری کی ہیں کہ ان چینلز سے نشر ہونے والا مواد تشدد پر اکسانے کے ساتھ ساتھ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بھی خراب کر سکتا ہے۔گور نر انتظامیہ نے یہ ہدایات مرکزی حکومت کے احکامات پر جاری کیں، جس نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے کشمیر میں ان تمام پاکستانی اور سعودی چینلز کو بند کرنے کا حکم دیا ہے جو بغیر اجازت اپنی نشریات نشر کر رہے تھے۔ مرکزی محکمہ داخلہ کے پرنسپل سیکریٹری آر کے گوئل نے کی جانب سے جاری حکم نامے میں تمام ڈپٹی کمشنرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کشمیر میں چند کیبل آپریٹرز مخصوص ٹی چینلز کی نشریات نشر کر رہے ہیں جس کیلئے وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے اجازت نہیں ہے۔حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ان نشریات کو نشر کرنا ناصرف جرم ہے بلکہ اس سے وادی کشمیر میں پرتشدد واقعات بڑھنے اور امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ کیبل ٹیلی ویژن آپریٹرز کے قانون کی دفعہ11 کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کیبل آپریٹرز کا سامان ضبط کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔اس حکم نامے کے بعد گور نر انتظامیہ نے ہندوستان میں پابندی کا شکار ڈاکٹرذاکر نائیک کے پیس ٹی وی سمیت پاکستان اور سعودی عرب کے30 چینلز کی فہرست جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرز کو ان کے بارے میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ان چینلز کی فہرست میں پی ٹی وی اسپورٹس سمیت پاکستان اور سعودی عرب کے بڑے نیوز اور تفریحی چینلز شامل ہیں۔تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ جن ٹی وی چینلز کی نشریات بند کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں، ان میں سے بیشتر مذہبی ٹی وی چینل جیسے پیس ٹی وی، سعودی سنت، سعودی قرآن، العربیہ، پیغام، ہدایت، نور، مدنی، سحر، کربلا، ہادی اور اہلبیت شامل ہیں۔ پاکستانی چینلز جیو ،اے آر وائی ،کیو ٹی وی کے علاوہ پیس ٹی وی انگلش ،پیس ٹی وی اردو ،اے آر وائی مدنی ،چینل نور ،ٹی وی ہادی ،اے آر وائی نیوز ،ایشیا اے بی بی تک ،ٹی وی 92،نئی دنیا ،نیوز سامنا ،نیوز جیو ،تیز ایکسپریس وغیر ہ بھی شامل ہیں ،جن پر پابندی عائد کی گئی۔ رپورٹوں کے مطابق اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیرنے ریاستی چیف سکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ وادی میں پاکستانی ٹی وی چینلزکی نشریات روکنے ضروری اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں امتناع کے باوجود ٹی وی چینل دکھانے والے کیبل آپریٹرس کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔یاد رہے کہ جموں وکشمیر حکومت کی جانب سے وادی کشمیر میں22 سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی عائد کئے جانے کے بعد مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت سے وادی میں تین مسلم ممالک بشمول پاکستان، سعودی عرب اور ایران کے ٹیلی ویڑن چینلز کی نشریات کو روکنے کی ہدایت دی ہے۔یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کشمیر میں حکام کی جانب سے اس طرح کے اقدامات اٹھائے گئے ہو ،بلکہ اس سے پہلے وادی میں انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والوں کو فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ جیسے مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارم بند کرنے کا حکم بھی دیا جاچکا ہے۔تاہم بیشتر صارفین کا کہنا ہے کہ یہ فضول مشق ہے کہ کیونکہ پابندی کے باوجود انٹر نیٹ کے ذریعے ان چینلز تک لوگوں کی رسائی ممکن ہو پاتی ہے ۔پابندی پر عمل در آمد کرنے کیلئے ایڈیشل ڈسٹرکٹ مجسٹر یٹ سرینگر نے ’سین ڈیجٹل نیٹ ورک ‘ کے نام ایک نوٹس زیر نمبر DMS/jud/Misc/667-668/2018جاری کیا گیا ہے ،جس میں ضلع انتظامیہ نے فوری طور مقامی کیبل آپریٹروں کو ہدایات جاری کردیں کہ وہ پاکستان ،سعودی اور ایران کی تمام نشریات کو معطل کردیں۔‘
Comments are closed.