رپورٹ سرکاری حکام اور محکمہ جات کی اطلاعات پر مبنی :زید راعدالحسین
اقوام متحدہ نے کشمیر رپورٹ پر بھارتی الزامات کو مسترد کردیا: پاکستان
سرینگر:١٨،جولائی : اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے حقوقِ انسانی نے کشمیر سے متعلق حقوق ِ انسانی کی حالیہ رپورٹ پر بھارتی حکام اور میڈیا تنقید کو مایوس کن قرار دیا ۔اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی حقوق کے ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفترکی کشمیر رپورٹ سرکاری حکام اور محکمہ جات کی اطلاعات پر مبنی ہے ۔انہوں نے اس بات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا کہ ہند پاک حکومتیں اس خطے میں ہمیں غیر مشروط رسائی دینے میں ناکام رہیں ۔ادھر پاکستان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے کشمیر رپورٹ پر بھارتی الزامات کو یکسر مسترد کیا ۔کے این این مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے حقوقِ انسانی نے متعلق انسانی حقوقِ انسانی کی حالیہ رپورٹ پر بھارتی حکام اور میڈیا کی تنقید مایوس کن ہے ۔اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی حقوق کے ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر سے متعلق حالیہ رپورٹ کو جانبدارانہ اور حقیقت سے بعید کردینا افسوسناک اور مایوس کن ہے ۔یاد رہے کہ ہندوستان نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی رپورٹ پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے امتیاز پر مبنی قرار دیاہے۔ ہندوستان نے متعلقہ رپورٹ پر سخت رد عمل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی رپورٹ ہندوستان کی حاکمیت اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کرتی ہے۔وزارت خارجہ کی جانب ردعمل میں کہا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ جھوٹ کا پلندہ اور امتیاز سے متاثر ہے۔ وزارت نے اس رپورٹ کو گمراہ کن اور متنازعہ قرار دیا ہے۔ وزارت نے کہا، ’’ہم اس رپورٹ کے پس منظر اور ارادے پر سوال کھڑے کرتے ہیں۔ رپورٹ ایک بڑی حد تک غیر مصدقہ معلومات کا منتخبہ تالیف ہے‘‘۔ ہندوستان نے ایک مرتبہ پھراقوام متحدہ ہی نہیں پوری دنیا پر واضح کیا ہے کہ پورا کشمیر ہندوستان کا حصہ ہے۔ پاکستان نے ہندوستان کے ایک حصے پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی حقوق کے ترجمان نے کہا کہ کشمیر سے متعلق رپورٹ میں سرکاری حکام اور محکمہ جات کا حوالہ دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہند پاک حکومتیں ہمیں اس خطے میں غیر مشروط رسائی دینے میں ناکام رہیں ۔انہوں نے کہا رپورٹ شائع ہونے کے بعد بھارت کی تنقید مایوس کن ہے ۔انہوں نے بھارتی میڈیا کی اُن رپورٹس کو بھی مسترد کیا ،جن میں کہا گیا تھا کہ ہائی کمشنر زید راعدالحسین نے کنیڈا نژاد پاکستانی امام ظفر بنگاش کے ساتھ ملاقات کی ،جس نے اس رپورٹ کو تیار کرنے اپنا اثر ورسوخ استعمال کیا تھا ۔ان کا کہناتھا کہ ہائی کمشنر نے کبھی بھی مذکورہ امام کے ساتھ ملاقات کی اور نہ ہی اُنہیں اسکے بارے میں کو ئی جانکاری ہے ۔ادھر پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے کشمیر رپورٹ پر بھارتی الزامات کو مسترد کردیا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مختلف ٹوئٹس کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے بغیر جانچ پڑتال کے رپورٹ کو مسترد کرنا کافی مایوس کن تھا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال پر اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر ( او ایچ سی ایچ آر) کی جانب سے اٹھائے گئے سنجیدہ نوعیت کے تحفظات کو حل کرنے میں بھارت ناکام ہوگیا۔پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ او ایچ سی ایچ آر کی جانب سے ہائی کمشنر اور ظفر بنگش کے درمیان کسی بھی طرح کے رابطے کی واضح طور پر تردید کردی ہے۔اپنے ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفترکی کشمیر رپورٹ میں بھارتی سرکاری ذرائع، بھارتی پارلیمان، بھارتی سپریم کورٹ اور بھارت کی وزارت داخلی امور کا حوالہ دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ او ایچ سی ایچ آر بھارت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوششوں سے پریشان ہے۔او ایچ سی ایچ آر کا کہنا ہے کہ کشمیر رپورٹ کشمیر کے لاکھوں لوگوں کے انسانی حقوق سے متعلق ہے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان کمشنر آف انکوائری ( سی او آئی ) کے دورہ پر خوش آمدید کہتا ہے کیونکہ رپورٹ میں آزاد جموں کشمیر اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دورے کی تجویز دی گئی تھی۔
Comments are closed.