739انسانی جانوں کااتلاف :71شہری شامل
463جنگجواور205سیکورٹی اہلکاربھی شامل:تشددکے واقعات اضافہ:مرکزکااعتراف
سری نگر:۱۸،جولائی: مرکزی سرکارنے اسبات کااعتراف کیاہے کہ جموں وکشمیرمیں گزشتہ تین برسوں کے دوران ملی ٹنسی کی سرگرمیوں اورتشددوہلاکتوں کے واقعات میں تیزی کیساتھ اضافہ ہوا،اورپچھلے30ماہ کے دوران کشمیروادی میں رونماہوئے تشددکے920واقعات کے دوران 73جانوں کاضیاع ہوا،جن میں 463جنگجو،205سیکورٹی اہلکاراور71عام شہری شامل ہیں ۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ ہنس راج اہرنے پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے پہلے روزراجیہ سبھامیں سوالات کاجواب دیتے ہوئے اسبات کااعتراف کیاکہ کشمیروادی میں گزشتہ تین برسوں کے دوران ملی ٹنسی سے جڑے تشدداورسنگباری کے واقعات میں کافی اضافہ ریکارڈکیاگیا۔انہوں نے ایوان بالاکوکشمیروادی میں سال2016سے 8جولائی2018تک پیش آئے تشدداورہلاکتوں کے واقعات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایاکہ صرف 30ماہ اور8دنوں کے دوران 739افرادتشددکی بھینٹ چڑھ گئے جن میں عام شہری ،جنگجواورسیکورٹی افسرواہلکاربھی شامل ہیں ۔ہنس راج اہرکاکہناتھاکہ محکمہ داخلہ کے پاس جومعلومات دستیاب ہیں ،اُن کے مطابق کشمیروادی میں رواں برس اول جنوری سے8جولائی تک 159جانیں تلف ہوئیں جن میں 100سرگرم جنگجو،43سیکورٹی اہلکاراور16عام شہری بھی شامل ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس دوران جموں وکشمیرمیں تشددکے 256واقعات رونماہوئے جواسبات کاظاہرکرتاہے کہ ریاست جموں وکشمیرمیں تشددکے واقعات بشمول جنگجوئیانہ سرگرمیوں اورپتھربازی کے واقعات میں اضافہ ہواہے ۔مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ کاکہناتھاکہ ریاست میں تعینات سبھی سیکورٹی ایجنسیاں ملی ٹنسی اوردیگرقسم کی پُرتشددسرگرمیوں کاخاتمہ کرنے کیلئے سرگرم عمل ہیں ۔ہنس راج اہرنے ایوان کوبتایاکہ جموں وکشمیرمیں سال2016اور2018کے دوران تشددکے کل 664واقعات پیش آئے اوراس دوران 580افرادمارے گئے جن میں 363جنگجو،162سیکورٹی اہلکاراور55عام شہری شامل ہیں ۔ان دونوں برسوں کے دوران پیش آئے تشدداورہلاکتوں کے واقعات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے مرکزی وزیرمملکت برائے داخلہ کاکہناتھاکہ سال 2016کے دوران تشددکے کل 322واقعات پیش آئے ،جسکے نتیجے میں 150جنگجو،82سیکورٹی افسرواہلکاراور15عام شہری مارے گئے ۔انہوں نے کہاکہ سال2017کے دوران بھی کشمیروادی میں تشددکے واقعات جاری رہے اوراُس سال کشمیروادی میں تشددکے کل342واقعات رونماہوئے ۔مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ ہنس راج اہرنے بتایاکہ سال2017کے دوران کشمیرمیں کل 333جانیں تلف ہوئیں جن میں 213جنگجو،80حفاظتی اہلکاراور40شہری بھی شامل ہیں ۔انہوں نے ایوان بالاکوبتایاکہ جنگجومخالف کارروائیوں کے دوران ہونے والے مظاہروں اورسنگباری کے واقعات پیش آتے رہے ،جسکے نتیجے میں سیکورٹی ایجنسیوں کوجنگجوئوں کیخلاف کارروائیاں انجام دینے میں دشواریوں کاسامناکرناپڑا۔ مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ ہنس راج اہرنے الگ الگ سوالات کاجواب دیتے ہوئے ایوان بالاکومزیدبتایاکہ جموں وکشمیرمیں لائن آف کنٹرول اوربین الااقوامی سرحدپرپاکستانی فوج اوررینجرس کی جانب سے سیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزیوں کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں ،جس کے نتیجے میں سرحدی آبادی کوجان ومال کانقصان اُٹھاناپڑتاہے ۔انہوں نے کہاکہ مرکزی سرکارنے جموں وکشمیرکے سرحدی علاقوں میں 14ہزار460پختہ بینکرتعمیرکرنے کومنظوری دی ہے اوراس کام کیلئے درکاررقومات کومختص کیاگیاہے ۔ہنس راج اہرکامزیدکہناتھاکہ سرحدپارکی فائرنگ کے نتیجے میں جانیں گنوانے والے شہریوں کے لواحقین کوفی کنبہ5لاکھ روپے کامعاوضہ یاایکس گریشیاریلیف فراہم کیاجاتاہے جبکہ فائرنگ کی زدمیں آکرمعذورہونے والے شہریوں کوبھی فی کس پانچ لاکھ روپے دئیے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ سرحدپارکی گولی باری اورشلنگ کے نتیجے میں جن زمینداروں کی فصلوں کونقصان پہنچتاہے ،اُن کوفی کنبہ پچاس ہزارروپے بطورمعاوضہ فراہم کیاجاتاہے ۔
Comments are closed.