کیا عورت کے بنیادی حق کو چھین لیتا ہے ‘حلالہ’ ؟
حال ہی میں حلالہ کا ایک عجیب معاملہ سامنے آیا ہے۔ بریلی کی ایک لڑکی نے اپنی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ اس کے شوہر نے اسے نہ صرف کئی بار طلاق دیا بلکہ ہر بار ‘ نکاح حلالہ’ کے نام پر اسے سسر، دیور اور کئی لوگوں کے ساتھ رات گزارنے کو مجبور بھی کیا۔ کیا ہوتا ہے یہ ‘نکاح حلالہ’، جس میں شادی، طلاق اور پھر ایک اجنبی شخص سے شادی کرنے پر عورت کو مجبور کیا جاتا ہے۔
کیا ہے یہ نکاح حلالہ.
نکاح حلالہ ایک اسلامی رسم ہے۔ اگر کوئی مرد کسی عورت کو طلاق دے دے، لیکن پھر حالات کی وجہ سے عورت کو اس شخص سے دوبارہ شادی کرنی پڑے تو اسے حلالہ کا ضابطہ ماننا پڑتا ہے۔ شریعت کے مطابق، اسی شخص سے پھر شادی کرنے سے پہلے عورت کو پہلے کسی دوسرے شخص سے شادی کرنا ضروری ہے۔ جب یہ دوسرا شوہر اس عورت کو طلاق دے دے گا تو پھر وہ اپنے پہلے شوہر سے شادی کرسکتی ہے۔ یہ دوسری شادی بھلے ہی ایک دن کے لئے ہو لیکن مرد اور عورت کو طلاق سے پہلے جسمانی تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، حلالہ کی یہ روایت پوری دنیا میں صرف ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہی رائج ہے۔
طلاق کے بعد تین مہینے کی عدت
طلاق اور حلالہ کے درمیان ایک روایت اور ہے جسے عدت کہا جاتا ہے۔ عدت وہ وقت ہوتا ہے جو عورت طلاق کے بعد اپنے مائیکے میں گزارتی ہے۔ یہ وقت 3 مہینے 10 دن کا ہوتا ہے۔ عدت کے دوران عورت کو مخصوص ہدایات ہوتی ہیں کہ وہ کسی غیر مرد کے سامنے نہ جائے۔
اس کے پیچھے مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر عورت طلاق سے ٹھیک پہلے حاملہ ہوئی تو 3 مہینے کے بعد لوگوں کو اس کا حمل نظر آنے لگے۔ ان 3 مہینوں میں وہ کسی غیر مرد سے ملی بھی نہیں ہوتی تو اس سے اس کے کردار کا اندازہ بھی ہو جائے۔
طلاق اور حلالہ کے درمیان ایک روایت اور ہے جسے عدت کہا جاتا ہے۔ طلاق اور حلالہ کے درمیان ایک روایت اور ہے جسے عدت کہا جاتا ہے۔
عدت کی مدت ختم ہو جانے کے بعد عورت جس مرد سے چاہے شادی کرسکتی ہے ۔ ایسی صورت میں اگر عورت کا پہلا شوہر دوبارہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اس سے پہلے عورت کو کسی اور کے ساتھ آفیشیل طور پر شادی کرنی اور پھر جسمانی تعلق بنانا ضروری ہے۔ حالانکہ زبردستی کسی عورت کو کسی دوسرے آدمی سے شادی کے لئے مجبور کرنا اسلام میں غلط مانا گیا ہے۔
کیا عورت بھی دے سکتی ہے شوہر کو طلاق
ایسا نہیں ہے کہ اسلام میں صرف مرد ہی اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ اگر بیوی اپنے خاوند سے طلاق چاہتی ہے تو وہ قاضی کے پاس جا سکتی ہے اور اس سے طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے۔ شوہر اپنی بیوی کو سمجھانے اور مصالحت کے بارے میں بات کر سکتا ہے۔ سمجھانے اور مصالحت کرانے کا یہ امکان فوری تین طلاق میں کہیں نظر نہیں آتا۔ لیکن اگر پھر بھی بیوی طلاق چاہتی ہے تو قاضی ان کے رشتہ کو ختم کر سکتا ہے۔ اس کو خلع کہا جاتا ہے۔
Comments are closed.