آسیہ اندرابی کو دوساتھی رفقاء سمیت تہاڑ جیل منتقل کرنا انتقام گیری اسیران کی حالت بہت ہی ناگفتہ بہہ

NIA کی مہم جوئی کشمیری عوام کو مرعوب کرنے کی کوشش:مشترکہ مزاحمتی قیادت

سرینگر:١٧،جولائی :کے این این / مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے آسیہ اندرابی اور اسکی دو ساتھی رفقاء فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نصرین کو قومی تحقیقاتی ایجنسی NIA کی جانب سے گرفتاری کے بعد 30 دنوںتک جوڈیشل ریمانڈ میں تہاڑ جیل منتقل کرنے کی کارروائی کو انتقام گیرانہ سیاست کاری سے عبارت قرار دیا۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں معروف مزاحمتی خاتون رہنماآسیہ اندرابی اور اسکی دو ساتھی خاتون رہنمائوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو بھارتی تحقیقاتی ایجنسی NIA کی جانب سے گرفتاری کے بعد 30 دنوںتک جوڈیشل ریمانڈ میں تہاڑ جیل منتقل کرنے کی کارروائی کو انتقام گیرانہ سیاست کاری سے عبارت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی قائدین اور کارکنوں کیخلاف NIA کی مہم جوئی یہاں کی حریت پسند قیادت کو مرعوب کرنے کی مذموم کوشش ہے۔قائدین نے کہا کہ اس سے قبل بھی متعدد کشمیری مزاحمتی رہنمائوں اور کارکنوں کوNIA اور ED نے فرضی کیسوں میں ملوث کرکے پابند سلاسل کررکھا ہے اور مختلف حیلے بہانوں سے انکی معیاد قید کو طول دیا جارہا ہے اور جب ان قیدیوں کی پیشی کی تاریخ قریب آتی ہے توایک نہ دوسرے بہانے اسے ٹال دیا جاتا ہے اور اس طرح ان کی مدت قید کو بلا وجہ طول دیا جارہا ہے ۔انہوں نے جموںوکشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی جیلوں بشمول تہاڑ جیل ،کھٹوعہ ، ادھمپور ، کورٹ بلوال وغیرہ میں مقید کشمیری سیاسی نظر بند رہنمائوں اور کارکنوں کی حالت زار پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان قیدیوں کے تئیں جیل حکام کے ناروا سلوک کو حقوق بشر کے عالمی اداروں کیلئے چشم کشا قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ دلی کے تہاڑ جیل میں ایام اسیری کاٹ رہے کشمیری حریت پسندوں شبیر احمد شاہ، الطاف احمد فنٹوش، ایڈوکیٹ شاہد الاسلام، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال ، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار ، شاہد یوسف اور تاجر ظہور وٹالی کے ساتھ جیل حکام کا غیر انسانی سلوک حد درجہ افسوسناک صورتحال ہے اور اس ضمن میں جب ان محبوسین کے رشتہ داروں نے تہاڑ جیل جاکر ان لوگوں سے ملاقات کی تو واپسی پر انہوں نے بتایا کہ ان محبوسین کو جیل میں طبی ،کھانے پینے اور بستر وغیرہ جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے جس کی بنا پر جیل میں ان کی حالت بہت ہی ناگفتہ بہہ ہے۔قائدین نے یہ بات زور دیکر کہی کہ یہ محبوسین کوئی عادی مجرم نہیں بلکہ کشمیر میں عوامی سطح پر تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے رہنما اور کارکنان ہیں اور جیل حکام کی جانب سے ان لوگوں کے ساتھ جس قسم کا برتائو کیا جارہا ہے اور ان کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جارہا ہے وہ حد درجہ افسوناک اور ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے ۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے دعویدار جس ڈھٹائی کے ساتھ خود جمہوریت اور عدل و انصاف کی قدروں کی مٹی پلید کررہے ہیں وہ جمہوری اداروں اور قدروں پر یقین رکھنے والے اقوام و ممالک کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔قائدین نے بشری حقوق کے عالمی ادروں ICRC, Asia Watch, Ammenesty International وغیرہ پر زور دیا کہ وہ کشمیر اور بھارت کی مختلف ریاستوں خصوصاً کھٹوعہ، ادھمپور، کورٹ بلوال اور تہاڑ جیل دلی میں مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار کا مشاہدہ کرنے کیلئے اپنی ٹیمیں روانہ کریں اور ان لوگوںکو بلا وجہ اور بلا جواز حراست میں رکھنے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے حکومت ہندوستان پر دبائوڈالیں کہ وہ ان قیدیوں کی مدت قید کو بلا وجہ طول دینے کے بجائے ان کو رہا کرے۔قائدین نے بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی NIA کی جانب سے کشمیر کے ایک موقر روزنامہ Kashmir Observor سے وا بستہ صحافی عاقب جاوید کو تحقیقات کی غرض سے دلی طلب کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد یہاں کے صحافتی برادری کو مرعوب اور خوفزدہ کرنا ہے۔

Comments are closed.