ہجومی تشددکے واقعا ت وحشت ناک اورلاقانونیت:سپریم کورٹ آف انڈیا روکتھام کیلئے الگ قانون بنانے کی سفارش

کوئی بھی شہری یاگروپ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا:چیف جسٹس دیپک مشرا

نئی دہلی:١٧،جولائی : / سپریم کورٹ آف انڈیانے ’’تحفظ گائے کے نام پرہجومی تشددکے واقعات کولاقانونیت‘‘قراردیتے ہوئے واضح کیاکہ’ کوئی بھی شہری یاگروپ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا‘۔چیف جسٹس ،جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے عدالت عظمیٰ کے تین رُکنی بینچ نے ہجومی تشددکے واقعات کی روکتھام کیلئے علیحدہ قانون بنانے کاحکم صادرکرتے ہوئے کہاکہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو مستقبل میں ہجومی تشدد روکنے کے لئے احتیاتی، تعزیری اور اصلاحی اقدامات کرنے ہوں گے۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق نامنہادگائورکشکوں اوردیگرگروپوں کی جانب سے اجتماعی یاہجومی تشددکے واقعات کیخلاف دائرعرضیوں پرعدالت عظمیٰ نے منگل کے روزاپنافیصلہ سناتے ہوئے یہ واضح کردیاکہ کسی بھی نوعیت کے ہجومی تشددکے واقعات ناقابل برداشت ہیں ،اورایسے واقعات کی مکمل روکتھام نیزملوثین کیخلاف قانون کارروائی کیلئے ایک قانون بنایاجاناچاہئے۔چیف جسٹس ،جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والے عدالت عظمیٰ کے تین رُکنی بینچ جس میں جسٹس اے ایم خانوالکراورجسٹس ڈی وائے چندرچوڑ بھی شامل ہیں ، نے کہا ’ہجومی تشدد ایک الگ نوعیت کا جرم ہے اور اس کیلئے ایک الگ قانون کی ضرورت ہے‘۔ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ سے سفارش کی ہے کہ وہ ہجومی تشدد کے قصوروار افراد کو سزائیں دینے کیلئے ایک علیحدہ قانون بنائے۔عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ ہجوم کے ہاتھوں تشدد کے واقعات کو برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اسے معمول کا واقعہ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ہجومی تشدد کے واقعات کو’وحشت ناک‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کو سختی سے کچلنا ہوگا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ ریاستی حکومتیں خاموش تماشائی نہیں بنی رہ سکتیں اور کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ خود کو ہی قانون سمجھنے لگے اور جمہوریت میں ہجومی لاقانونیت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔عدالت عظمیٰ نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو مستقبل میں ہجومی تشدد روکنے کے لیے احتیاتی، تعزیری اور اصلاحی اقدامات کرنے ہوں گے۔سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں مرکزی اور ریاستوںکو متعدد ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی اوریاستی حکومتوں کو ان ہدایات پر عمل کرنے کی رپورٹ عدالت میں پیش کرنی ہو گی۔خیال رہے سہ رکنی بینچ نے اس سے پہلے ہجومی تشدد سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک سنگین جرم ہے اور اس کی روک تھام کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہے۔عدالت عظمیٰ کاموقف ہے کہ’ہجومی تشدد گائے کے تحفظ کے نام پر ہو یا بچوں کے اغوا کی افواہ پر، اس کا مقصد کچھ بھی ہو، ہجومی تشدد ایک جرم ہے۔‘عدالت عظمیٰ نے اپنی سفارش میں کہا کہ مرکزی حکومت گئو رکشا سے متعلق تشدد کے واقعات کو روک تھام کیلئے الگ سے قانون بنائے۔ سہ رکنی بنچ نے کہا کہ بھیڑ نظام ‘ پر قدغن لگانا اور نظم ونسق نافذ کرنا سرکار کا کام ہے۔ بنچ کی جانب سے فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس مشرا نے کہا کہ خوف و ہراس اور بد نظمی کے حالات میں سرکار کو مثبت قدم اٹھانا ہوتا ہے۔ تشدد کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی۔کوئی بھی شہری قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی بنچ نے کہا کہ کوئی بھی شخص قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ نظم و نسق کو برقرار رکھنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے اور ہر ایک ریاستی حکومت کو یہ ذمہ داری نبھانی چاہئے۔ اس معاملے پر مرکزی حکومت کا موقف سپریم کورٹ کے سامنے رکھتے ہوئے ایڈیشنل سولیسیٹر جنرل پی اس نرسمہا نے کہا کہ مرکزی حکومت ہجومی تشددکے بڑھتے واقعات کو لے کر فکرمند ہے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ سے کہا کہ نظم و نسق کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں پر ہے اور ریاستی حکومتوں کو اس کے لئے اقدام اٹھانے ہوں گے۔غورطلب ہے کہ گذشتہ3 مہینے کے دوران مہاراشٹر، کرناٹک، آندھرا پردیش، تمل ناڈو، اتر پردیش، جھارکھنڈ اور دوسرے علاقوں میں ہجومی تشدد کے واقعات میں 27 افراد مارے جا چکے ہیںجبکہ متعددافراد گائے کے تحفظ کے نام پر بے رحمی کیساتھ موت کی نیندسلادئیے گئے۔

Comments are closed.