شہری ہلاکتوں کو روکنے ،جنگجو مخالف آپریشن جاری رکھنے کیلئے نیا لائحہ عمل مرتب
کولگام:١٧،جولائ: کشمیری نوجوانوں کو ملی ٹنٹ بھرتی سے روکنے کیلئے پولیس اور فوج کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا ، جبکہ اجلاس میںکشمیر کی موجودہ مجموعی سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس غیر معمولی نوعیت کے اجلاس میں جنگجومخالف آپریشن کے دوران شہری ہلاکتوں کے سلسلے کو روکنے کیلئے ایک نیا لائحہ عمل مرتب کیا گیا ۔15کور کے کمانڈر لفٹنٹ جنرل اے کے بھٹ نے کہا ’اس اجلاس کا مقصد کشمیری نوجوانوں کو ملی ٹنٹ بھرتی سے روکنا تھا ‘۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر شیش پال ویدنے کہا کہ اجلاس میں زمینی سطح پر کام کرنے والے افسران کے ساتھ سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق جنوبی ضلع کولگام میں ریاستی پولیس اور فوج کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک غیر معمولی سیکورٹی میٹنگ منعقد ہوئی ۔اس میٹنگ میں کشمیر کی موجودہ مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔میٹنگ میں 15کور کے کمانڈر لفٹنٹ جنرل اے کے بھٹ ،ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر شیش پال وید ،انسپکٹر جنرل آف پولیس ایس پی پانی کے علاوہ پولیس وفوج کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی ۔ذرائع نے بتایا کہ اس میٹنگ میں کشمیری نوجوانوں میں جنگجوئیت کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ اس کو سیکورٹی کیلئے تشویشنا ک قرار دیا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ اس میٹنگ میں کشمیری نوجوانوں کو ملی ٹنسی سے روکنے کی حکمت عملی کا احاطہ کیا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ پولیس اور فوج کے اعلیٰ حکام نے وادی کشمیر میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران پتھرائو کے واقعات اور اس دوران ہونے والی شہری ہلاکتوں کے معاملے کو بھی زیر بحث لایا ۔ذرائع نے بتایا کہ اپنی نوعیت کا یہ ہنگامی اور اہم اجلاس کئی گھنٹوں تک جاری رہا ،جس میں کئی سیکورٹی معاملات کو زیر بحث لایا گیا ۔یہ میٹنگ ایسے وقت میں طلب کی گئی جب پلوامہ میں پیر کے روز ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا گیا ،جس میں ایک پولیس اہلکار کی موت اور ہتھیار چھینے گئے ۔ذرائع نے بتایا کہ پولیس وفوج کے اعلیٰ حکام نے کشمیری نوجوانوں میں ملی ٹنسی کا بڑھتے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے روکنے کیلئے نئی حکمت عملی وضع کرنے کیلئے کئی اقدامات اٹھانے پر اتفاق کرلیا گیا ۔ذرائع کے مطابق پولیس اور فوج کے اعلیٰ حکام نے نوجوانوں تک پہنچنے کیلئے ایک نئی حکمت عملی مرتب کی گئی اور نو جوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کیلئے خاص توجہ مرکوز کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ایک جامع منصوبہ بھی ترتیب دیا جارہا ہے ،جس سے گور نر انتظامیہ کے علاوہ حکومت ہند ،وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کو بھی آگاہ کیا جائیگا ،تاکہ کشمیری نوجوانوں میں بڑھتے ملی ٹنسی کے رجحان کو کم کیا جاسکے یا اس پر روک لگائی جاسکے ۔ذرائع نے بتایا کہ پولیس اور فوج کے اعلیٰ حکام نے جنوبی کشمیر میں زمینی سطح پر کام کرنے والے پولیس اور فوجی افسران سے تجاویز وآرا ء حاصل کیں اور جنگجو مخالف آپریشن کے دوران اُنہیں درپیش مسائل کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کی ۔ذرائع نے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں جنگجو مخالف آپریشنز انجام دینے والے پولیس اور فوج کے اعلیٰ افسران نے اعلیٰ حکام کو بتایا کہ اُن کے سامنے دو بڑے چیلنجز اس وقت ہے ،ایک مقامی نوجوانوں میں ملی ٹنسی کا بڑھتا رجحان اور دوسرا یہ کہ جنگجو مخالف آپریشن کے دوران عوامی مزاحم ،کیونکہ اس دوران فورسز کی کارروائیوں میں عام شہری ہلاکتیں رونما ہوتی ہیں ،جسکی وجہ سے حالات کبھی کبھار کنٹرول سے باہر بھی ہوتے ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ اس غیر معمولی میٹنگ میں جاں بحق جنگجوئوں نوجوانوں کے جنازوں میں لوگوں کی بھاری شرکت پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے 15کور کے کمانڈر لفٹنٹ جنرل اے کے بھٹ نے کہا ’میٹنگ کا بنیادی مقصد کشمیری نوجوانوں کو ملی ٹنسی سے روکنے کیلئے حکمت عملی وضع کرنے اور تشویشناک مسئلے پر تبادلہ خیال کرنا تھا ‘۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر اب بھی در اندازی کی کوششیں کی جارہی ہیں اور گزشتہ روز ہی ایک در اندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی ۔ان کا کہناتھا کہ یہ در اندازی کوشش کپوارہ ضلعے میں کی گئی ،تاہم بروقت کارروائی سے اسے روکا گیا ۔انہوں نے کہا ’جہاں تک ایل او سی کا معاملہ ہے ،یہاں آپریشن جاری ہے ،فوج نے در اندازی کی کوشش کو ناکام بنادیا ،ہم یہاں موجود مزید جنگجوئوں کو تلاش کررہے ہیں ‘۔ڈایکٹر جنرل آف پولیس نے میٹنگ کے بارے میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ کشمیر کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے زمینی سطح پر کام کرنے والے افسران کے ساتھ یہ میٹنگ ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ اس میٹنگ میں سیکورٹی سے متعلق کئی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ،کس طرح کشمیر میں حالات کو معمول پر لایا جاسکے ۔میٹنگ میں آئی جی کشمیر زون ایس پی پانی نے بھی شرکت کی ۔یاد رہے کہ پیر کو مرن پلوامہ میں نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کے گارڈ روم پر جنگجوؤں نے دھاوا بول کر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار کی موقعے پر ہی موت واقع ہوئی جبکہ دوسرا شدید طورپر زخمی ہوا۔ اس دوران جنگجو گارڈ روم میں موجود اسلحہ لوٹ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ہفتہ کو 15کور کے کمانڈر اے کے بھٹ نے بارہمولہ میں ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھاکہ فوج کو کشمیری عوام سے کوئی ناراضگی نہیں ہے اور شہری ہلاکتوں پر فوج کو بھی افسوس ہوتا ہے ۔
Comments are closed.