شہری ہلاکتوں پر (کے ای اے) کا لالچوک میں احتجاج
سرینگر:۱۰،جولائی :کط وادی کے جنوب و شمال میں شہری ہلاکتوں کو انسانیت کو شرمسار کرنے سے تعبیر کرتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس نے لالچوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے کہا کہ2008سے بالخصوص سرکار فورسز کو کشمیری شہریوں کے خون کی لت پڑ چکی ہے۔کے این این کے مطابق کھڈونی،شوپیاں اور بارہمولہ میں تازہ شہری ہلاکتوں کے خلاف کشمیر اکنامک الائنس نے سرینگر کے لالچوک میں گھنٹہ گھر کے پاس احتجاجی دھرنا دیا۔احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اور بینئر اٹھا رکھے تھے،جن پر ’’شہریوں کی ہلاکتوں کے چکر کو بند کرؤ،سرکاری دہشت گردی کو بند کرؤ،معصوموں کا قتل عام بند کرو‘‘ کی تحریر درج تھی،جبکہ ہم کیا چاہتے انصاف،جس کشمیر کو خون سے سینچا وہ کشمیر ہمارا ہے کہ نعرے بلند کر رہے تھے۔احتجاجی تاجروں نے دو ٹوک الفاظ میں شہری ہلاکتوں کو مسترد کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ پر زور دیا کہ معصوم اور نہتے عوام کے خلاف کاروائیاں بند کی جانی چاہی۔اس موقعہ پرکشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈارنے کہا کہ ریاست میں اگر چہ1947اور بعد میں1989سے ہی عام شہریوں کو ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری ہے،تاہم2008سے اس میں مزید اضافہ ہوا۔انہوں نے اعداد شمار بتاتے ہوئے کہا کہ2008میں80کے قریب شہریوں کو جان بحق کیا گیا،جبکہ2010میں قریب140اور گزشتہ3برسوں لگاتار شہری ہلاکتوں کے گراف میں اضافہ ہو رہا ہے۔ڈار کا کہنا تھا کہ2016میں بھی115شہریوں کو ابدی نیند سلا دیا گیا،جبکہ گزشتہ برس65کے قریب شہری اور امسال اب تک60کے قریب شہریوں کو بھی مکرو و فریب زدہ ذہن اور سوچ کی عکاسی ہے۔کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین نے کہا کہ لدھو،چاڈر،سریگفورہ،نادی ہل،مشی پورہ،اور جنگلات منڈی کے زخموں سے ابھی لہو ہی ٹپک رہا تھا کہ شوپیاں کو پھر ایک بار لہولہان کیا گیا،اور گزشتہ3ہفتوں کے دوران 10شہریوں کو ابدی نیند سلا دیا گیا،جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسانی جانوں کی اب کوئی قیمت نہیں رہی۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں موجودہ صورتحال بہت ہی نازک ہے اور ایسی ہلاکتوں کی وجہ سے ریاست کی صورتھال مخدوش ہو تی جارہی ہے ۔فاروق احمد ڈارنے موجودہ صورتحال کو غلط پالسیوں کا نتیجہ قرار دیتے مرکز اور ریاستی حکومت کے پاس کشمیر پالسی کے حوالے سے کوئی مثبت لایحہ عمل نہیں ہے جس کے نتیجے میں پوری ریاست میں افرا تفری کا ماحول بپاء ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کے نہ تھمنے والے سلسلے سے ریاستی عوام سخت مایوسی کا شکار ہیں ۔ فاروق احمد ڈارنے کہا کہ ریاستی عوام کا بھروسہ مر کزی حکومت اور ریاستی سیاست دانوں و انتظامیہ پر سے اٹھ گیا ہے اور اگر حالت کا فوری طور پر تدارک نہیں کیا گیا تو اس کے بھانک نتائج بھگتنے ہوں گے ۔
Comments are closed.