ہم جنس پرستی جرم ہے یا نہیں ؟ دفعہ ۔ 377 پر سپریم کورٹ میں سماعت آج

سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کے آئینی بینچ ہم جنس پرستی ( ہومو سیکسوالٹی) کو جرائم ٹھہرانے والی تعزیزات ہند ( آئی پی سی ) کی دفعہ ۔377 پر سماعت کرنے والی ہے۔ سپریم کورٹ نے سال 2013 میں دہلی ہائی کورٹ کے 2009 کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے دو بالغوں کے درمیان آپسی اتفاق سے بنائے گئے رلیشن کو جرائم کٹیگری میں ڈال دیا تھا۔

سپریم کورٹ آج یعنی منگل کو ہم جنس پرستی کو جرائم ماننے والی آئی پی سی کی دفعہ ۔377 کو لیکر دائر ہوئی عرضیوں کی سماعت کرنے جارہی ہے۔ پانچ ججوں کی آئینی بینچ میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی ) دیپک مشرا ،جسٹس روہنگٹن آر نریمن ،جسٹس اے ایم کھانولکر ،جسٹس ڈیوائی چندرچوڑ اور جسٹس اندو ملہوترا شامل ہیں۔

واضح ہو کہ ہندستان میں تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت ہم جنس پرستی کو جرم قرار دیا گیا ہے۔

بتادیں کہ دفعہ ۔377 کو انگریزوں نے 1862 میں نافذ کیا تھا ۔اس قانون کے تحت ان نیچرل سیکس کو غیر قانونی ٹھہرایا گیا ہے۔اگر کوئی خاتون۔مرد آپسی رضامندی سے بھی ان نیچرل سیکس کرتے ہیں تو اس دفعہ کے تحت 10 سال کی سزا اور جرمانہ ہے۔

Comments are closed.