وٹس ایپ سے افواہ : پاکستان کا ایک ویڈیو ہندوستان میں 30 لوگوں کی موت کی وجہ کیسے بن گیا ؟
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہاہے ، جس میں دو موٹر سائیکل سوار ایک والد سے اس کے بیٹے کو چھین کر فرار ہوجاتے ہیں ۔ یہ ویڈیو لوگوں کو بچہ چوری کے شک میں 30 افراد کو پیٹ پیٹ کر مارنے کیلئے اکسا چکا ہے ، لیکن مار پیٹ کرنے والے یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ ویڈیو میں کافی کچھ ایسا بھی ، جو انہوں نے نہیں دیکھا ۔
اصلی ویڈیو میں بچہ چوری کے بعد دونوں لوگ اسی مقام پر واپس آتے ہیں اور والد کو بچہ واپس کردیتے ہیں ۔اس کے بعد ایک بائیک سوار ایک پلے کارڈ دکھاتا ہے ، جس پر لکھا ہے "کراچی میں بچے کا اغوا ہونے میں صرف ایک سکینڈ لگتا ہے "۔
وہاٹس ایپ سے افواہ : پاکستان کا ایک ویڈیو ہندوستان میں 30 لوگوں کی موت کی وجہ کیسے بن گیا ؟
علامتی تصویر
کراچی ؟ آ پ نے صحیح پڑھا ، ہندوستان میں جو ویڈیو وائرل ہورہا ہے ، اس کو کراچی میں واقع روشنی نام کی ایک این جی او نے 2016 میں شوٹ کیا تھا ۔ ویڈیو میں یہ معلومات بھی دی گئی ہے کہ کراچی میں ہر سال 3000 بچے غائب ہوجاتے ہیں ، اپنے بچوں پر نظر رکھیں۔
این جی او روشی غائب بچوں کیلئے کام کرتی ہے اور اس معاملہ پر لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کیلئے اس نے 2016 میں ایڈورٹائزنگ ایجنسی اسپکٹرم وائی اینڈ آر کے تعاون سے یہ ویڈیو تیار کیا تھا ۔ ویڈیو کا مقصد بچوں کے تحفظ اور بچاو کے تئیں لوگوں کو بیدار کرنا تھا۔
ہندوستان میں جو ویڈیو وائرل ہورہاہے ، اس کو انتہائی چالاکی کے ساتھ ایڈٹ کردیا گیا ہے ۔ ویڈیو میں بچے کو چرانا والا حصہ تو ہے ، لیکن واپس کرنے والا نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں ٹیکسٹ والا حصہ بھی ویڈیو سے ایڈٹ کردیا گیا ہے۔
میڈیا میں رپورٹس آنے کے بعد این جی او کو بھی اس کا علم ہوا کہ بیداری پیدا کرنے کیلئے تیار کئے گئے ویڈیو کا استعمال افواہ پھیلانے کیلئے ہورہا ہے ۔ ویڈیو کی وجہ سے پھیلی افواہ میں 30 لوگوں کا پیٹ پیٹ کر قتل کئے جانے پر این جی او نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
نیوز 18 سے روشنی کے ترجمان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جو ویڈیو وائرل ہورہا ہے ، اس کو ایڈٹ کرکے اس کا پس منظر پوری طرح سے تبدیل کردیا گیا ہے۔ آن لائن دستیاب کسی بھی ویڈیو کے ساتھ ایسی حرکت کی جاسکتی ہے، اس کو روکنے کیلئے ہم لوگوں کو بیدار کرسکتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر جو کچھ بھی وائرل ہورہا ہے وہ سب صحیح نہیں ہے۔
Comments are closed.