عام شہریوں کی ہلاکت میں ’انسانی لہو کے خوگر‘ملوث :جے آر ایل
سرکارکی سرپرستی حاصل، عندلیب کا سفاک قتل کس جرم کی پاداش میں کیا گیا؟
سری نگر:٩،جولائی :/ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ہلاکتوں میں ’انسانی لہو کے خوگر‘ملوث ہیں ،جنہیں کشمیریوںکے خون کی ایسی لت لگ چکی ہے انہیں انسانوں کو مارڈالنے کے سوا کچھ سجھائی نہیں دیتا۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی نوآبادیاتی ذہن والی فوج، فورسز اور پولیس کی جانب سے کشمیر کے طول و عرض میں معصومین کا لہو ارزان کیا جارہا ہے جسے سرکاری سرپرستی میں جاری دہشت گردی کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔ قائدین نے کہا کہ خون کے خوگر بھارتی فورسز معصوم کشمیریوں کے قتل عام میں منہمک ہے اور قتل کے بعد مقتولین کو پتھر باز قرار دے کر اس کا جواز پیدا کرنے کی کوششیں اسکا پرانا اور آزمودہ وطیرہ بن چکا ہے۔ یہی وطیرہ ریڈونی قتل عام کے بعد بھی اپنایا گیا اور مظلومین اور مقتولین جن میں دو جوان سال بچوں کے ساتھ ساتھ ایک کمسن بچی عندلیب بھی شامل ہیں کو ہی مورد الزام ٹھہراکر ان کے قتل کا جواز پید اکرنے کی بھونڈی کوششیں کی گئیں۔ قائدین نے سوال کیا کہ آخر معصوم بچی عندلیب کا سفاک قتل کس جرم کی پاداش میں کیا گیا۔ کیوں اسکے لہو کی ہولی کھیلی گئی اور کیوں اسے سفاک طریقے پر زندگی کی نعمت سے محروم کردیاگیا؟ ۔قائدین نے کہا کہ بھارتی خون کے خوگر فوجی اور فورسز صرف اور صرف کشمیریوں کو سفاکانہ طریقے پر قتل کرنے کیلئے مامور ہیں جبکہ جملہ ہند نواز سیاست دان، انکی جماعتیں ان قاتلوں کو قانونی تحفظ دینے کیلئے مامور و متعین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قتل عام کیلئے یہ ہند نواز سیاست دان ،انکی جماعتیں اور سوچ براہ راست ذمہ دار ہیں اور مکافات عمل کے ابدی قانون کے تحت انہیں اپنے ان جرائم کا حساب دینا ہی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قابضین کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات حد درجہ مذمو ہیں۔ کشمیر کو ایک ایسے ذبح خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں جوانوں، بچوں ،بزرگوں یہاں تک کی خواتین کی زندگیوں کو بھی بے دریغ چھینا جارہا ہے۔ قائدین نے کہا کہ جموں کشمیر کے پیر و جوانوں کا قتل عام اگرچہ پچھلی کئی دہایئوں سے جاری و ساری ہے لیکن جس بے شرمی کے ساتھ اب کشمیری خواتین اور بچوں پر بھی بندوقوں کے دہانے کھول کر انہیں تہہ تیغ کیا جارہا ہے وہ اس قتل عام کو اور بھی گھنائونا بنارہے ہیں۔قائدین نے کہا کہ ’انسانی لہو کے خوگر‘ فورسزکو کشمیریوںکے خون کی ایسی لت لگ چکی ہے انہیں انسانوں کو مارڈالنے کے سوا کچھ سجھائی نہیں دیتا ۔ مشترکہ قائدین نے کہا کہ کشمیریوں کے لہو کے اس ارزانی کیلئے دراصل جملہ ہند نواز کشمیری سیاست دان براہ راست ذمہ دار ہیں کیونکہ یہی ہیں کہ جو اسمبلیوں ،پنچایتوں اور پارلیمان کے ایوانوں میں جاکر وہ قوانین بناتے ہیں جو ودری پوش قاتلوں اور مجرموں کو کسی بھی مواخذے سے استثناء فراہم کرکے انہیں انسانوں کا بے دریغ لہو بہانے کی شہہ فراہم کرتے ہیں کیونکہ مواخذے سے استثناء کا ہی شاخسانہ ہے کہ یہ فورسز قتل انسان میں اس قدر بڑھ چکے ہیں۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ بھارت اور اسکے گماشتے اپنی فوجی طاقت کوکشمیریوں کو تہہ تیغ کردینے کیلئے استعمال کررہے ہیں جس کا واحد مقصد کشمیریوں کی مزاحمت کو ختم کرنا ہے لیکن یہ ظالم و جابر اس تاریخی حقیقت سے نابلد ہیں کہ فوجی طاقت اور ظلم کے بل پر عوامی تحاریک کو دبانا ممکن نہیں ہوا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عرصہ ٔ دراز سے بھارتی جبر کا مردانہ وار مقابلہ کرتے آرہے ہیںاور جبر کے ان ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیریوں کی مزاحمت اور مقاومت حصول منزل مقصود تک جاری رہے گی۔قیادت نے کہا کہ ایک طرف بھارتی فورسز اور افواج معصوم کشمیریوں جن میں معصوم بچیاں بھی شامل ہیںکے قتل عام میں منہمک ہیں اور دوسری جانب عالمی برادری غفلت کی نیند میں سوئی پڑی ہے اور اسے کشمیریوں کی حالت زار نظر ہی نہیں آرہی ہے۔ ہم عالمی برادری سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا ١٥ برس کی عندلیب کا لہو انہیں خوب غفلت سے بیدار کرنے کیلئے کافی نہیں ہے، کیا کشمیری انسانی دنیا کا حصہ نہیں اوران کے کوئی انسانی حقوق نہیں ہیں جن کی حفاظت بھی عالمی برادری کا فریضہ ہے۔
Comments are closed.