دلی نے جماعت اسلامی کی کمرتوڑنے کاحکم دیا،میں نے کیاانکار
محبوبہ مفتی کانازک معاملات پربڑاخلاصہ
کہاآرپارتجارت کوبندکرانا‘این آئی اے‘کامشن ،ہم ایسا ہونے نہیں دینگے
صلاح الدین کے اہل خانہ کوسزادیناغلط،طاقت نہیں محبت کی پالیسی ناگزیر
سری نگر:٩،جولائی :کے این این/ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے پی ڈی پی اوربی جے پی کے فکروعمل میں تضادرہنے کااعتراف کرتے ہوئے کہاکہ کشمیریوں کے تئیں نفرت پرمبنی سوچ واپروچ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق نجی نیوزچینل انڈیاٹی وی کے پروگرام ’آپ کی عدالت‘میں ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے انکشاف کیاکہ اُنھیں کہاجاتاتھاکہ وہ جماعت اسلامی سے وابستہ لوگوں کیخلاف کارروائی کریں لیکن بقول محبوبہ مفتی انہوں نے جماعت مخالف کریک ڈائون سے صاف انکارکیا۔انہوں نے کہاکہ مجھے دلی سے جماعت اسلامی سے وابستہ 80افرادکی لسٹ فراہم کی گئی تاکہ میں اُن کیخلاف کارروائی کرئوں لیکن میں نے یہ کہہ کرانکارکیاکہ اگرکسی ایک شخص نے کوئی غلطی کی ہے اورہمارے پاس اُسکے ثبوت ہیں توہم کارروائی کریں گے لیکن کلی طورپرپوری جماعت اسلامی کیخلاف کریک ڈائون کرنے کاسوال ہی پیدانہیں ہوتا۔محبوبہ مفتی نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ اگرکسی نوجوان نے بندوق اُٹھائی توکیااُسکے گھروالوں کواسکی سزادیناٹھیک ہے ۔انہوں نے کہا’میں کبھی اسبات کی طرفدارنہیں رہی کہ کسی جنگجوکے گھرمیں چھاپے ڈالکربارباراُسکے اہل خانہ کوہراساں وپریشان کیاجائے۔ایک اورسوال کے جواب میں سابق وزیراعلیٰ نے سیدصلاح الدین کے بیٹے شاہدیوسف کی مسلسل اسیری کوبلاجوازقراردیتے ہوئے انکشاف کیاکہ شاہدکوباپ نے ماں کے علاج کیلئے صرف 3لاکھ روپے بھیجے تھے اوربحیثیت وزیراعلیٰ میں نے پوری تحقیقات کروائی تواس سے زیادہ پیسہ شاہدکے اکائونٹ میں پہنچنے کے کوئی شواہدنہیں ملے۔انہوں نے کہاکہ صلاح الدین کے بیٹوں کوکبھی ملی ٹنسی یاسنگباری کی وارداتوں میں ملوث نہیں پایاگیاجبکہ بقول محبوبہ مفتی شاہدیوسف کی گرفتاری کابھی کوئی جوازنہیں تھالیکن این آئی اے نے اسکوگرفتارکرلیا،اورجب اس کی ضمانتی درخواست عدالت میں زیرسماعت لائی جاتی ہے توجج کوہی تبدیل کیاجاتاہے۔انہوں نے انکشاف کیاکہ این آئی اے صلاح الدین کے دوسرے بیٹے کوبھی گرفتارکرناچاہتی تھی لیکن بقول محبوبہ مفتی میں نے ایساہونے نہیں دیاکیونکہ حزب سربراہ کے بیٹے معمول کی زندگی گزاررہے ہیں اوروہ کبھی کسی غیرقانونی سرگرمی میں شامل یاملوث نہیں رہے۔محبوبہ مفتی نے دختران ملت سربراہ آسیہ اندرابی اوراُنکی دوخواتین رفقاء کواین آئی اے کی جانب سے حراست میں لینے کے بعدنئی دہلی منتقل کئے جانے پرسخت برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ کشمیری خواتین کوگرفتارکرکے نئی دہلی منتقل کرنے کی پالیسی نہیں چلے گی ۔ایک اورسوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیاکہ این آئی اے آرپارٹریڈکوبندکراناچاہتی ہے لیکن میں نے ایسانہیں ہونے دیااورنہ اب میں ایساہونے دئوں گی ۔انہوں نے کہاکہ کراس بارڈرٹریڈکیلئے مخصوص اوڑی اورچکنداباغ راستوں سے کوئی ہتھیارنہیں آیااورنہ کوئی جنگجوان راستوں سے یہاں آیا۔محبوبہ مفتی نے آرپارآواجاہی اورتجارت کیلئے مزیدراستے کھولنے کی وکالت کرتے ہوئے کہاکہ کشمیرکوپاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کیساتھ جوڑاجائے تاکہ کشمیریوں کی معاشی حالت میں بہتری آسکے ۔نجی نیوزچینل انڈیاٹی وی کے پروگرام ’آپ کی عدالت‘میں سینئرصحافی رجت شرماکے تیزاورتیکھے سوالات کاجواب دیتے ہوئے واضح کیاکہ کشمیرمیں 70برسوں سے جاری صورتحال اورکشمیرمسئلہ کوحل کرنے کاواحدراستہ مذاکرات ہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ نریندرمودی کودیریاسویرپاکستا ن اورکشمیرکے حوالے سے واجپائی کی پالیسی اپنانی پڑے گی کیونکہ موجودہ کشمیرپالیسی سے کچھ حاصل نہیں ہواہے ۔اس سوال کے جواب میں کہ مودی نے اپنی حلف برداری تقریب میں نوازشریف کوشرکت کیلئے بلایا،اورخودمودی لاہورچلے گئے توپاکستان نے اسکامثبت جواب نہیں دیا،کاجواب دیتے ہوئے محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ بھارت کوپاکستان کیساتھ تعلقات کوبہتربنانے کیلئے ایک یادوبارنہیں بلکہ باربارکوشش کرناپڑے گی ۔انہوں نے کہا’ماناکہ کشمیرمیں جاری خون خرابے کیلئے پاکستان ذمہ دارہے ‘لیکن اسبات سے کوئی انکارنہیں کرسکتاکہ کشمیرمسئلے کیساتھ روزاول سے ہی پاکستان کارول رہاہے۔ محبوبہ مفتی نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ کشمیرمسئلے کوحل کرنے کیلئے پاکستان کیساتھ بات کئے بغیرکوئی چارہ نہیں ۔انہوں نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ واجپائی لاہورکیوں گئے ،نوازشریف اورمشرف کیساتھ جامع مذاکرات کاعمل کیوں جاری رکھا۔سابق وزیراعلیٰ اورپی ڈی پی نے کشمیراورکشمیریوں کے تئیں نفرت پرمبنی سوچ واپروچ سے کچھ حاصل نہیں ہوگابلکہ ہندوستان اورہندوستان کے لوگو ں کوکشمیریوں کے تئیں دلوں میں محبت پیداکرناپڑے گی ۔ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہاکہ مودی کااگر56انچ کاسینہ ہے توانھیں اس میں سے ایک انچ جموں وکشمیرکیلئے رکھناہوگا۔انہوں نے کہاکہ جب کشمیریوںکوچن چن کرمارنے کی باتیں کی جاتی ہیں تویہ طرزعمل کشمیری عوام کے اعتمادکوتوڑدیتاہے۔سابق وزیراعلیٰ کاکہناتھاکہ افہام وتفہیم کے سواکوئی چارہ نہیں ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ کشمیرمیں خون خرابے کوبندکرانے اورکشمیرسے جڑے مسائل کاحل نکالنے کیلئے پاکستان کیساتھ بات چیت کرناناگزیرہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیری بھارت اورپاکستان کے درمیان چلی آرہی نفرت کے بوجھ تلے پسے جارہے ہیں ۔محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ آج ،کل یا10سال بعدواجپائی کی کشمیرپالیسی کواپناپڑے گاکیونکہ اسکے بغیرکوئی دوسراراستہ نہیں ۔
Comments are closed.