سرحدپارسرجیکل اسٹرائیک فسانہ نہیں حقیقت :ہوڈا

پاکستان کی جوابی کارروائی کامقابلہ کرنے کیلئے فوج تیارتھی

سری نگر:٢،جولائی :کے این این/ فوج کی شمالی کمان کے سابق سربراہ ریٹائرڈجنرل ڈی ایس ہوڈانے سرجیکل اسٹرائیک کوفسانہ نہیں حقیقت قراردیتے ہوئے کہاہے کہ اگراُس وقت ضرورت پڑتی توہندوستان مزید فوجی جوان ایل او سی پار بھیجنے کیلئے تیار تھا۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق ایک انٹرویومیں سرجیکل اسٹرائیک کا منصوبہ تیارکرنے والی فوج کی شمالی کمان کے سابق جنرل کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ڈی ایس ہوڈا نے کہاہے کہ ہم نے سرجیکل اسٹرائیک کے بعد سبھی ممکنہ نتائج کے بارے میں غور کیا تھا، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ اگر پاکستان جوابی کارروائی کرتا ہے تو ہم کیا کریں گے؟۔انہوںنے مزید کہاکہ ہم نے الگ الگ حالات پرغوروخوض کیا تھا اور ان حالات میں اُٹھائے جانے والے اقدامات پر منصوبہ تیار کیا تھا۔تاہم ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نے واضح کیا’میں تفصیل میں نہیں جائوں گا، لیکن یقینی طور پر ہماری توجہ اس پر تھی‘۔سرحدپارانجام دی گئی سرجیکل اسٹرائیک کے پالیسی ساز ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈاکامانناہے کہ وہ اس بات کو لے کر مطمئن تھے کہ اگر پاکستان جوابی کارروائی بھی کرے گا تو وہ بہت محدود ایکشن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جانتے تھے کہ ہندوستان کے مقابلے میں محدود فوجی صلاحیت کی وجہ سے پاکستان اتنے بڑے اقدامات نہیں اُٹھائے گا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوجائے۔ریٹائرڈجنرل ڈی ایس ہوڈانے اس بات کا اعتراف کیا کہ فوج اس سے پہلے بھی کئی بار سرجیکل اسٹرائیک کوانجام دے چکی تھی ۔انہوں نے کہا کہ یہ سرجیکل اسٹرائیک بہت بڑے پیمانے پرکیا گیا تھا اور دوسری بات پہلی بارحکومت نے کھل کراعتراف کیا تھا کہ ہم نے سرحدکے اس طرف جاکر سرجیکل اسٹرائیک کو انجام دیا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ اس سے پہلے جو بھی سرجیکل اسٹرائیک ہوئیں، انہیں سرکاری طور پر کبھی قبول نہیں کیا جاسکتا۔واضح رہے کہ2016 میں28اور29 ستمبر کو فوج نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیرمیں مبینہ طورپرایل ائوسی کے نزدیک قائم جنگجوئوں کے ایک کیمپ یالانچنگ پیڈپر سرجیکل اسٹرائیک کرنے کادعویٰ کیاتھاتاہم پاکستانی فوج اوروہاں کی حکومت نے ایساکوئی حملہ ہونے کی سختی کیساتھ تردیدکی تھی۔

Comments are closed.