کانگریس لیڈران کی اہم نشست میں جموں وکشمیرکی صورتحال کااحاطہ

پی ڈی پی کوہاتھ کاساتھ ملنے کی اُمیدبرقرار
آج سرینگرمیں ریاستی کانگریس کی میٹنگ:100سرکردہ لیڈروذمہ داردعو

سری نگر:٢،جولائی :کے این این/ جموں وکشمیرمیں جاری غیریقینی سیاسی صورتحال کاجائزہ لیکرآئندہ لائحہ عمل مرتب کرنے کیلئے سوموارکونی دہلی میں کانگریس کی پالیسی ومنصوبہ بندی گروپ کی ایک اہم میٹنگ ہوئی۔کے این این کومعلوم ہواکہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی رہائش گاہ پر ہونے والی اس میٹنگ میں سینئرلیڈران بشمول غلام نبی آزاد، پی چدمبرم، ڈاکٹر کرن سنگھ ، امبیکاسونی اورپارٹی کے ریاستی صدرجی اے میر نے بھی شرکت کی ۔معلوم ہواکہ لگ بھگ2گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ میں جموں وکشمیرکی مجموعی صورتحال پرتفصیلی غوروخوض کیاگیا۔بتایاجاتاہے کہ میٹنگ میں شامل لیڈروں نے جموں وکشمیربالخصوص وادی کی سیاسی وسیکورٹی صورتحال پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے اسبات سے اتفاق کیاکہ کانگریس کاریاست کی موجودہ غیریقینی صورتحال میں اہم رول بنتاہے ،اورپارٹی کویہ رول انجام دینے کیلئے آگے آناچاہئے۔معلوم ہواکہ کانگریس کے پالیسی ومنصوبہ بندی گروپ میں شامل لیڈروں کی اکثریت اسبات کے حق میں تھی کہ نئی حکومت تشکیل دئیے جانے سے متعلق علاقائی جماعت پی ڈی پی کی پیشکش کوزیرغورلایاجاناچاہئے۔تاہم غلام نبی آزادنے پی ڈی پی کیساتھ دوبارہ اتحادکے بارے کوئی بھی فیصلہ لئے جانے سے پہلے سبھی پہلوئوں کاجائزہ لینے پرزوردیاجبکہ میٹنگ میں شامل لیڈران نے اسبات سے اتفاق کیاکہ پارٹی کوجموں وکشمیرکے حوالے سے ’انتظارکرئواوردیکھو]یعنیWat & Watchکی حکمت عملی اپنانی چاہئے ۔میٹنگ میں یہ فیصلہ لیاگیاکہ جموں وکشمیرکی سیاسی وسلامتی صورتحال نیزریاستی عوام کی منشاء کوملحو ظ نظررکھ کرہی آئندہ کالائحہ عمل طے کیاجائیگا۔اس ضمن میں پارٹی کے سینئرلیڈروں نے فیصلہ لیاکہ سری نگرمیں پارٹی کی ریاستی شاخ کے ممبران قانون سازیہ ،سینئرلیڈران ،ورکنگ کمیٹی اورضلعی ،تحٓصیل وبلاک سطح کے ذمہ داروں اورسرگرم کارکنان کی ایک جامع میٹنگ طلب کی جائے تاکہ آئندہ کالائحہ عمل مرتب کرنے سے قبل انکی رائے لی جاسکے۔جموں وکشمیرسے متعلق کانگریس کے پالیسی ومنصوبہ بندی گروپ کی میٹنگ کے بعدپارٹی کی انچارج برائے امورجموں وکشمیرامبیکاسونی نے نئی دہلی میں نامہ نگاروں کوبتایاکہ میٹنگ میں کئی معاملات زیرغورلائے گئے جن میں جموں وکشمیرکی صورتحال بھی شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ سابق وزیراعظم ڈاکٹرمنموہن سنگھ کی رہائش گاہ پرمنعقد ہ میٹنگ میں ملک کودرپیش مختلف نوعیت کے مسائل ومعاملات زیرغورلائے گئے اوراس دوران جموں وکشمیرکی موجودہ صورتحال بھی زیرغورلائی گئی ۔امبیکاسونی نے کہاکہ میٹنگ میں یہ فیصلہ لیاگیاکہ پارٹی کی ریاستی شاخ کی100سرکردہ شخصیات بشمول ممبران اسمبلی ،ممبران قانون ساکونسل ،سینئرلیڈروں وذمہ داروں کی میٹنگ سری نگرمیں طلب کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ اس اہم میٹنگ میں ریاست کے تینوں خطوں کشمیروادی ،جموں صوبہ اورلداخ سے تعلق رکھنے والے کانگریس لیڈراورذمہ دارشرکت کریں گے ۔امبیکاسونی کاکہناتھا’3جولائی کوسری نگر میں منعقدہونے والی میٹنگ میں آئندہ کی حکمت عملی اورلائحہ عمل کوزیرغورلایاجائیگا‘۔ کانگریس کی خاتون جنرل سیکرٹری نے نامہ نگاروں کوبتایاکہ منگل کے روز ہونے والی میٹنگ میں سبھی معاملات اورپہلوزیرغورلائے جائیں گے ۔انہوں نے کانگریس کے پی ڈی پی کونئی سرکاربنانے کیلئے حمایت دئیے جانے کی تصدیق یاتردیدکئے بغیرکہاکہ ہم سری نگرمیں پارٹی کے ریاستی لیڈروں اورذمہ داروں کیساتھ صلاح مشورہ کررہے ہیں۔ امبیکاسونی نے تاہم واضح کیاکہ پارٹی کاابھی تک وہی موقف ہے کہ ریاستی اسمبلی کوتحلیل کیاجائے ۔غورطلب ہے کہ موجودہ اسمبلی میں پی ڈی پی کے 28ممبران اسمبلی ہیں جبکہ کانگریس کے ممبران کی تعداد12ہے ،اوراگردونوں جماعتیں ملکرمخلوط سرکاربنانے پرمتفق ہوجاتی ہیں تواس صورت میں اُنھیں مزید4ممبران اسمبلی کی حمایت درکارہوگی ۔اس سارے سیاسی کھیل کے بیچ سی پی آئی ایم کے سینئرلیڈراورممبراسمبلی کولگام محمدیوسف تارگامی نے سوموارکوایک بیان میں کہاکہ وہ کسی نئے اتحادکے تحت بننے والی سرکارکوحمایت نہیں دیں گے۔خیال رہے بی جے پی نے19جون کواتحادی جماعت پی ڈی پی سے اچانک ناطہ توڑنے کااعلان کردیا،اوراسکے ساتھ ہی ریاست میں گزشتہ38ماہ سے برسراقتدارمخلوط سرکارگرگئی ۔

Comments are closed.