دہلی میں 11 پھانسیاں قتل ہیں یا پھر کسی روحانی عمل کا نتیجہ

دہلی میں 11 پھانسیاں قتل ہیں یا پھر کسی روحانی عمل کا نتیجہ

انڈیا میں دارالحکومت دہلی کے شمالی علاقے بُراری میں اتوار کی صبح سات خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے 11 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ ان میں سے دس افراد پھانسی پر لٹکے ہوئے تھے اور ان سب کی آنکھیں کپڑے کے ٹکڑے سے بند تھیں۔

اور انھی بستر کی چادروں سے ان کے منھ بھی بند تھے۔ ان کے علاوہ ایک 77 سالہ خاتون کی لاش بھی اسی گھر کے دوسرے کمرے میں فرش پر پڑی ملی ہے۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے گھر سے ایک دستی نوٹ برآمد کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خاندان کسی پراسرار روحانی عمل کی مشق کر رہا تھا۔

شمالی دہلی کے ایڈیشنل ایس پی وینیت کمار نے کہا کہ نوٹ میں موت کے جن طریقوں کا ذکر ہے ان کی موت اسی انداز پر ہوئی ہے اور منہ اور آنکھوں کے باندھنے کے طریقے بھی نوٹ کے مطابق تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کے گھر سے دو رجسٹر بھی برآمد کیے گئے ہیں جن میں ‘موکش’ یعنی جسمانی اور روحانی نجات حاصل کرنے کے طریقے درج ہیں۔

ان لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جایا جا رہا ہے
پولیس کا کہنا ہے کہ ان 11 افراد میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

زیادہ تر لاشوں کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھی، منہ پر کپڑا بندھا تھا اور ان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔

پولیس نے جادوئی عمل کا شبہ ظاہر کیا ہے لیکن انھیں نے قتل کے زاویے کو مسترد بھی نہیں کیا ہے۔

دہلی کے براری علاقے میں واقع اس دکان میں صرف ایک پالتو کتا ہی زندہ پایا گیا ہے۔ لاشوں کا پوسٹ مارٹم شروع کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ علاقے میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔

ہمسائے گرچرن سنگھ نے اتوار کی صبح یہ لاشیں دیکھیں جب وہ دودھ خریدنے جا رہے تھے
اطلاعات کے مطابق بھاٹیا خاندان جو راجستھان سے تعلق رکھتا تھا اور گذشتہ 20 سالوں سے دہلی میں مقیم تھا۔ اس تین منزلہ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر ان کی دو دکانیں تھیں۔

ہمسائے گرچرن سنگھ نے اتوار کی صبح یہ لاشیں دیکھیں جب وہ دودھ خریدنے جا رہے تھے۔

’میں جب دکان میں داخل ہوا تو تمام دروازے کھلے ہوئے تھے اور دس لاشیں چھت سے لٹک رہی تھیں اور ایک لاش فرش پر پڑی تھی۔‘

Comments are closed.