ترال جھڑپ :جاں بحق جنگجوؤں کی کئی مرتبہ نما زجنازہ ادا
مقامی مہلوک جنگجوآبائی علاقوں میں سپردِ لحد ،غیر مقامی جنگجو پولیس کی موجودگی میں دفن
سری نگر:۲۰،جون:کے این این/ نازنین پورہ ترال میں جاں بحق ہوئے3جنگجوؤں میں سے2مقامی جنگجوؤں کو اپنے اپنے آبائی قبر ستانوں میں ہزروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد لحد کیا گیا جبکہ غیر مقامی جنگجو کو پولیس کی موجودگی میں شمالی کشمیر میں مخصوص قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔اس دوران جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال اور مہلوک جنگجوؤں کے آبائی علاقوں میں ہڑتال بھی رہی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق جنوبی قصبہ ترال کے نازنین پورہ علاقے میں جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوئے جیش محمد غیر مقامی جنگجو کمانڈر سمیت3جنگجوؤں کی تدفین بدھ کو کی گئی ۔جاں بحق 2مقامی جنگجوؤں کو اپنے اپنے آبائی قبرستانوں میں سپرد خاک کیا گیا جبکہ غیر مقامی جنگجو کمانڈر کو پولیس کی موجودگی میں شمالی کشمیر میں سپرد لحد کیا گیا ۔اس سلسلے میں ملی تفصیلات کے مطابق جھڑپ میں جاں بحق ہوئے مقامی جنگجو عادل اکرم لون ساکنہ مڈورہ ترال میں نماز جنازہ اداکی گئی ،جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔معلوم ہوا ہے کہ آس پڑوس کے دیہات سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد جاں بحق جنگجو کے آبائی گاؤں پہنچ گئی ،جسکی وجہ اس کی 3مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی ،بعد اُسے فلک شگاف نعروں کے بیچ آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔اسی طرح ایک اور مقامی جاں بحق جنگجو دانش خالق ڈار کی نما زجنازہ آبائی گاؤں پنگلش ترال میں ادا کی گئی ۔اس جاں بحق جنگجو کی نماز جنازہ بھی کئی مرتبہ ادا کی گئی جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔عینی شاہدین کے مطابق دونوں مہلوک جنگجوؤں کے جلوس جنازوں میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے ۔دونوں مقامی جاں بحق جنگجوؤں کو اپنے اپنے قبرستانوں میں آزادی حامی نعروں کے بیچ جذباتی مناظر میں سپرد لحد کیا گیا ۔ادھر جھڑپ میں جاں بحق ہوئے غیر مقامی جیش محمد کمانڈر کو شمالی کشمیر میں واقع مخصوص قبر ستان میں پولیس کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا ۔یاد رہے کہ نازنین پورہ ترال میں منگل کے روز جنگجوؤں اور فوج کے درمیان معرکہ آرائی ہوئی جس میں عادل ،دا نش اور ایک غیر مقامی جنگجو جاں بحق ہوا ۔کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی جھڑپ کے دوران ایک رہائشی مکان میں بھی تباہ ہوگیا ۔ترال جھڑپ کے حوالے سے ریاستی پولیس ترجمان نے ایک بیان جاری کیا جس کے مطابق ترال میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج ، سی آر پی ایف اور پولیس نے مشترکہ طورپر ہائینہ گاؤں میں تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران چھپے بیٹھے ملی ٹینٹوں نے حفاظتی عملے پر فائرنگ شروع کی چنانچہ سیکورٹی فورسز نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کرتے ہوئے تین ملی ٹینٹوں کو جاں بحق کردیا ۔ مہلوک ملی ٹینٹوں میں سے ایک کی شناخت قاسم کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق قاسم کالعدم تنظیم جیش محمد کا اعلیٰ کمانڈر تھااور وہ گزشتہ کئی ماہ سے عام شہریوں اور سیکورٹی فورسز پرہو ئے حملوں میں ملوث تھا۔اس دوران جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال اور مہلوک جنگجوؤں کے آبائی علاقوں میں ہڑتال بھی رہی ۔معلوم ہوا ہے کہ یہاں دکانات ،کاروباری ادارے اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹر انسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔
Comments are closed.