کب اور کتنی مدت تک رہی ریاست میں گور نر کی حکمرانی
جھا ،جگ موہن،سیکسینہ اور ووہرا نے انتظامی بھاگ دوڑ سنبھالی
سری نگر:۲۰،جون:کے این این/ پی ڈی پی ،بھا جپا حکومت اتحاد ٹوٹنے کے ساتھ ہی جموں وکشمیرکی سیاست میں آئے زلزلے کے نتیجے میں پیدا شدہ سیاسی بحران کے بیچ جموں وکشمیر باضابط طور پر گور نر راج نافذ ہوا جبکہ جموں وکشمیر میں صدر راج کی اپنی ایک تاریخ ہے ۔10گور نروں میں سے 5گور نروں لکشمی کانت جھا ،جگ موہن ملہوترا، گریش چندرسیکسینہ اور ووہرا نے انتظامی بھاگ دوڑ سنبھالی،جن میں زیادہ مدت جگ موہن کی تھی ،تاہم این این ووہرا کو چوتھی مرتبہ یہ اعزاز حاصل ہو رہا ہے ۔کے این این کے مطابق صدر ہند کی جانب سے جموں وکشمیر میں گور نر راج نافذ کرنے کی سفارش پر مہر ثبت ہونے کے ساتھ ہی جموں وکشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اور باب رقم ہوگیا ۔جموں وکشمیر میں گور نر راج کے نفاذ کے حوالے سے تاریخ کی گردانی کی جاتی ہے ،تو یہ ثابت ہو تا ہے کہ جموں وکشمیر کی تاریخ میں8ویں مرتبہ گور نر راج نافذ ہوا ۔ جموں وکشمیر میں پہلی مرتبہ گور نر گورنر لکشمی کانت جھاکی مدت میں1977میں نافذ ہوا ۔26مارچ1977میں ریاست اُس وقت گو رنر راج نافذ ہوا جب کانگریس نے شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی والی سرکار سے اپنی حمایت واپس لی ۔اس گور نر راج کی مدت 105دن تک رہی اور9جولائی 1977میں یہ مدت اُس وقت ختم ہوئی جب 1975میں اندرا ۔شیخ ایکارڈہوا ۔ریاست جموں وکشمیر میں دوسری مرتبہ صدر راج اُس وقت براہ راست نافذ ہوا جب سنہ1986میں کانگریس نے شیخ محمد عبداللہ کے داماد غلام محمد شاہ کی سربراہی والی سرکار سے اپنی حمایت واپس لی ۔ جگ موہن ملہوترا کی مدت میں دوسری مرتبہ ریاست میں گور نر راج 6مارچ1986 کو نافذ ہوا جسکی مدت 246دن کی رہی اور یہ مدت7نومبر1986کواُس وقت ختم ہوئی جب راجیو ۔فاروق ایکارڈ ہوا ۔1990میں تیسری مرتبہ ریاست جموں وکشمیر میں اُس وقت گور نر راج نافذ ہوا جب یہاں مسلح تحریک شروع ہوئی ۔جگ موہن ملہوترا نے دوسری مرتبہ19جنوری1990میں ریاست کی انتظامی بھاگ دوڑ سنبھالی ۔اس گور نر راج کی مدت جموں وکشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ6سال264دن کی رہی اور19اکتو بر1996کو ختم ہوئی جب نئے اسمبلی انتخابات کے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے حکومت بنائی ۔چوتھی مرتبہ 18اکتوبر2002میں ریاست جموں وکشمیر میں دوبارہ گور نر راج نافذ ہوا ،تاہم اسکی مدت محض15دن کی رہی یہ مدت2نومبر2002کو ختم ہوئی ۔اس عرصے کے دوران گریش چندرسکسینہ نے جموں وکشمیر میں انتظامی بھاگ دوڑ سنبھالی ۔5ویں مرتبہ 11جولائی2008کو اُس وقت دوبارہ گور نر راج نافذ ہوا جب نریندر ناتھ ووہراکی مدت میں یہاں 178دن کیلئے گور نر راج نافذ رہا۔ پی ڈی پی کی جانب سے کانگریس کی حمایت واپس لینے کے بعد جموں وکشمیر میں گور نر راج نافذ ہوا جو 5جنوری2009میں ختم ہوا ،جسکے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے فر زند اور مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے نواسہ عمر عبداللہ پہلی مرتبہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے ۔عمر عبداللہ کی سرکار اپنی مدت پوری کی جس کے بعد چھٹی مرتبہ 9جنوری2015میں جموں وکشمیر میں گور نر راج نافذ ہوا جسکی مدت 51دن کی رہی اور یہ مدت یکم مارچ2015میں ختم ہوئی ۔تاہم منقسم منڈیٹ ملنے کے باعث 51دن تک ریاست میں گور نر راج نافذ رہا ۔یکم مارچ کو مرحو م مفتی محمد سعید نے دوسری مرتبہ ریاست کے وزیراعلیٰ کے بطور حلف اٹھایا اور یہ ریاست کی تاریخ ساز حلف برداری کی تقریب ثابت ہوئی کیو نکہ پہلی مرتبہ وزیر اعظم ہند نے بذاتِ خود اس تقریب میں شامل ہوئے ۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ این این ووہرا نے دوسری مرتبہ انتظامی بھاگ دوڑ سنبھالی ۔ریاست جموں وکشمیر میں 7ویں مرتبہ 8جنوری2016کو اُس وقت ریاست میں گور نر راج نافذ ہوا جب سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کا انتقال ہوا ۔اس گور نر راج کی مدت87دن کی رہی اور یہ مدت4اپریل2016اُس وقت ختم ہوئی جب محبوبہ مفتی نے پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بننے کا خطاب اپنے نام کیا ۔اب بی جے پی کی جانب سے 19جون کو پی ڈی پی کے ساتھ سیاسی ناطہ توڑ نے کے بعد 8ویں مرتبہ گور نر راج نافذ ہوا ۔10برسوں میں این این ووہرا چوتھی مرتبہ ریاست کی انتظامی بھاگ دوڑ سنبھال رہے ہیں ،اسکی مدت کتنی رہے گی یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا ۔
Comments are closed.