پی ڈی پی کی حکمرانی 10برسوں میں2بارتشنہ تکمیل

2008میں کانگریس کوچھوڑا،2018میں بھاجپانے ناطہ توڑا

سری نگر:۲۰،جون:/ سال1999میں بنی علاقائی جماعت پی ڈی پی کواقتداریاحکمرانی تک پہنچنے میں محض3سال لگے لیکن اپنے19سالہ سیاسی سفرمیں یہ جماعت 2مرتبہ حکمرانی کی مدت مکمل نہیں کرپائی ۔سال2008میں پی ڈی پی نے کانگریس سے ناطہ توڑکرغلام نبی آزادکی سربراہی والی مخلوط سرکارکوگرادیا،اوراب 10سال بعدبھاجپا نے کچھ ایساکرکے محبوبہ مفتی کی سربراہی والی مخلوط سرکارکوقصہ پارینہ بنادیا۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق مرحوم مفتی محمد سعید ، اْن کی بیٹی محبوبہ مفتی اور کچھ ساتھیوں نے سال 1999 میں جموں وکشمیرمیں ایک نئی علاقائی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کا وجود میں لایا۔ مفتی سعید اس پارٹی کے بانی و سرپرست بنے تھے جبکہ محبوبہ مفتی اس کی صدر بن گئیں ۔پی ڈی پی کے نام سے اپنی ایک الگ سیاسی جماعت بنانے کے بعد دونوں باپ بیٹی نے عوامی جلسوں میں اعلاناً کہا تھا کہ ’اس جماعت کا بنیادی مقصد نامساعد حالات کے شکار کشمیری عوام کے زخموں پر مرہم کرنا ہے‘۔ لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے پی ڈی پی نے سال 2002 کے اسمبلی انتخابات سے قبل جموں وکشمیر میں سیلف رول (خود حکمرانی جس میں مرکزی سرکار کی کم سے کم مداخلت ہو)، ڈبل کرنسی اور سرحدوں کو غیر متعلقہ بنانے کے نعروں کا بڑھ چڑھ کا استعمال کیا۔ان نعروں کا ثمرہ اس جماعت کو 2002 ء میں اقتدار کی شکل میں حاصل ہوا۔ لیکن اپنی 19 سالہ تاریخ میں دو مرتبہ اقتدار میں آنے والی پی ڈی پی حکومت ایک مرتبہ بھی چھ سال کی آئینی مدت برقرار نہیں رہ سکی۔جموں وکشمیر میں ستمبر اکتوبر 2002 میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد پی ڈی پی اور کانگریس نے مخلوط حکومت تشکیل دی۔ مخلوط حکومت کے ایجنڈے کے تحت مرحوم مفتی محمد سعید 2002 سے 2005 تک ریاستی وزیر اعلیٰ بنے رہے۔ کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے 2005 میں بحیثیت وزیر اعلیٰ ریاست کی کمان سنبھالی۔ لیکن 2008 ء میں حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے سے چند ماہ پہلے ہی پی ڈی پی نے کانگریس سے اپنی حمایت واپس لیکر حکومت کو گرادیا۔پی ڈی پی نے کانگریس سے اپنی حمایت اْس وقت واپس لی تھی جب ریاست میں امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین منتقل کئے جانے کی وجہ سے شدید بحران پیدا ہوا تھا۔ ریاست میں نومبر دسمبر 2014میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعتبار سے پی ڈی پی 28سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ، بی جے پی 25 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی جبکہ سابقہ مخلوط حکومت میں شامل نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو بالترتیب 15 اور 13 سیٹیں ملیں۔علیحدگی پسند سیاست سے مین اسٹریم میں قدم رکھنے والے سجاد غنی لون کی پیپلز کانفرنس وادی کشمیر میں ایک اور سیاسی طاقت بن کر ابھر گئی جس نے دو سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ پی ڈی پی اور بی جے پی نے یہ کہتے ہوئے مخلوط حکومت تشکیل دی کہ دونوں جماعتوں کو عوام کا مینڈیٹ حاصل ہوا ہے۔ دونوں جماعتوں کو حکومت تشکیل دینے میں قریب تین مہینے لگے۔ لیکن 7 جنوری 2016 ئکو مفتی محمد سعید انتقال کرگئے اور ریاست میں ایک بار پھر سیاسی بحران پیدا ہوا۔تین ماہ کے طویل انتظار کے بعد محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے لئے راضی ہوئیں اور ریاست کی پہلی مسلم خاتون وزیراعلیٰ بننے کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔ 2008ء کے برخلاف 19جون 2018 ء کو پی ڈی پی کے بجائے اس کی اتحادی جماعت بی جے پی نے علیحدگی کا راستہ اختیار کرکے قریب ساڑھے تین سال تک جاری رہنے والے پی ڈی پی بھاجپا حکومت گرادی۔ اس طرح سے دو مرتبہ اقتدار میں آنے والی پی ڈی پی حکومت ایک مرتبہ بھی چھ سال کی آئینی مدت تک برقرار نہیں رہ سکی۔

Comments are closed.