شہری ہلاکت اور مولاناقاضی نثار کی برسی

کولگام اور اننت ناگ میں ہڑتال،معمول کی سرگرمیاں مفلوج، موبائیل انٹر نیٹ خد مات اور ریل سروس بند

سرینگر:۱۹،جون:/ ’شہری ہلاکت اور مولاناقاضی نثار کی برسی ‘پر جنوبی کشمیر کے 2اضلاع کولگام اور اننت ناگ میں ہڑتال کے باعث معمول کی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئیں جبکہ امکانی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر دونوں اضلاع میں موبائیل انٹر نیٹ خد مات اور ریل سروس بند کردی گئی ۔ادھر شوپیان اور پلوامہ میں غیر یقینی صورتحال رہی ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق جنوبی کشمیر کے دو اضلاع کولگام اور اننت ناگ میں شہری ہلاکت اورمولانا قاضی نثار کی24ویں برسی پر ہڑتال رہی ۔دونوں اضلاع میں دکانات ،کاروباری ادارے ،تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا۔کولگام اور اننت ناگ میں ہڑتال کے باعث معمول کی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئیں جبکہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے دونوں اضلاع کے حساس علاقوں میں کڑے سیکورٹی بندوبست کئے گئے تھے ۔حساس علاقوں میں پولیس وفورسز کی بھاری نفری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی ۔یاد رہے کہ میر بازار قاضی گنڈ کولگام میں فوج کی فائرنگ سے اعجاز احمد نامی نوجوان جاں بحق ہو اتھا جبکہ اس واقعہ میں رئیس احمد نامی دوسرا نوجوان شدید زخمی ہوا تھا ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنوبی کشمیر میں چار روز میں تین ہلاکتیں ہوئیں ۔وادی کے معروف مذہبی راہنما مولانا قاضی نثار کو نامعلوم بندوق برداروں نے1994میں نامعلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر جاں بحق کیا تھا ۔اُنہیں دیلگام اننت ناگ میں گولی ماری گئی تھی ۔میر واعظ جنوبی کشمیر جامع مسجد اننت ناگ میں خطہ دیا کرتے تھے جبکہ انہوں نے1987مسلم یونائیٹیڈ فرنٹ تشکیل دیا تھا ۔اس دوران کولگام اور اننت ناگ میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر موبائیل انٹر نیٹ خد مات اور ریل سروس بند کردی گئی۔

Comments are closed.