اڑھائی سالہ بچی اورڈیڑھ سالہ بچے کے والدکی آخری رسومات:آکھرن نوپورہ میں فضاء سوگوار
اعجازکی 3مرتبہ نمازجنازہ،ہزاروں لوگ شامل
آکھرن ،دیوسر،بونہ دیوسر،بونی گام ،ہابلش،بوزگام،بوگام اورمحمدپورہ میں پُرامن احتجاجی مظاہرے
کولگام:۱۹،جون:کے این این/ سوموارکی شام میربازارقاضی گنڈمیں 9آرآرسے وابستہ فوجی اہلکاروں کی جانب سے خشت باری کررہے نوجوانوں کے ایک گروپ پرکی گئی راست فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے 2کمسن بچوں کے جواں سال باپ اعجازاحمدبٹ ولدبشیراحمدبٹ ساکنہ آکھرن نوپورہ کی یادمیں منگلوارکوضلع کولگام اوراسلام آبادمیں احتجاجی ہڑتال کی گئی ۔کے این این نمائندے کے مطابق سوموارکوشام کے تقریباً7بجے فوج کی9آر آریونٹ سے وابستہ اہلکاروں نے نوپورہ آکھرن کولگام علاقے کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی شروع کی۔اس دوران مقامی نوجوانوں نے فورسز پر پتھراؤ کیا۔مقامی لوگوں کے مطابق اس موقعے پر دونوں طرف سے پتھراؤ کے علاوہ ٹیر گیس شیلنگ ہوئی جبکہ فوج نے گولیاں چلائیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ فوج کی راست فائرنگ کی زد میں آکر تین نوجوان گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے جن میں اعجاز احمد بٹ ولد بشیر احمد بٹ ساکن آکھرن نوپورہ ضلع اسپتال اسلام آباد لے جاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔اسپتال ذرائع نے بتایا کہ اعجاز احمد کو جب اسپتال پہنچایا گیا تو وہ دم توڑ بیٹھا تھا۔اعجاز احمد بٹ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ 24سال کی عمر کا تھا اور پیشے سے ٹریکٹر ڈرائیور تھا۔فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں2 نوجوان رئیس احمد ولد غلام قادر ساکن نوپورہ آکھرن اور یونس احمد بٹ ولد عبدالمجید شدید زخمی ہوئے اوران کو اسپتال میں داخل کیاگیا۔معلوم ہواکہ سوموارکوشام دیرگئے معصوم نوجوان اعجازبٹ کی نعش کوضلع اسپتال اسلام آبادواقع جنگلات منڈی سے آبائی گاؤں واقع آکھرن نوپورہ پہنچایاگیاتویہاں کہرا م مچ گیا۔رات بھریہاں خواتین اوربچوں کی آہ وزاری جاری رہی جبکہ گاؤں کے مردبالخصوص نوجوان رات بھرماتم کے ساتھ ساتھ احتجاج کرتے رہے ۔مہلوک نوجوان اعجازبٹ کی اڑھائی سالہ بیٹی اورڈیڑھ سالہ شیرخواربیٹے کی دردناک چیخ وپکارسے علاقہ کی فضاء غمناک بن گئی جبکہ مہلوک نوجوان کی جواں سالہ اہلیہ اورزرگ ماں کی فریادبھری چیخ وپکارسے ایساماتم پھیل گیاکہ ہرآنکھ اشکبارہوئی ۔منگل کوعلی الصبح سے ہی نزدیکی دیہات وعلاقہ جات سے لوگوں نے جوق درجوق آکھرن نوپورہ پہنچناشروع کیا،اورصبح10بجے تک ہزاروں کی تعدادمیں لوگ یہاں جمع ہوچکے تھے جبکہ مزیدلوگوں کی آمدآمدکاسلسلہ بھی جاری تھا۔آکھرن نوپورہ میں لوگوں کی آمدآمدکے پیش نظر24سالہ نوجوان اعجازبٹ جوکہ محنت مزدوری کرکے اپنے اہل خانہ کاپیٹ پالاکرتاتھا،کی نمازجنازہ تین مرتبہ اداکی گئی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ اعجازبٹ کی آخری رسومات میں شامل ہونے کیلئے نزدیکی اورنواحی دیہات سے لوگ گروپوں میں آتے رہے ،اوراسی لئے مہلوک نوجوان کی تین مرتبہ نمازجنازہ پڑھی گئی ۔یکے بعددیگرے تین مرتبہ نمازجنازہ کی ادائیگی کے بعدمعصوم نوجوان کی میت کوہزاروں اشکبارآنکھوں کی موجودگی اورانتہائی غمناک صورتحال کے بیچ آبائی مقبرہ میں سپردلحدکیاگیاجبکہ اس دوران کولگام اورشوپیاں اضلاع کے مختلف دیہات سے لوگوں کی ایک بڑی تعدادآکھرن نوپورہ پہنچی اورانہوں نے مہلوک نوجوان کی غائبانہ نمازجنازہ اداکیا۔اُدھردوکمسن بچوں کے مزدورباپ اعجازبٹ کی ہلاکت کیخلاف آکھرن ،دیوسر،بونہ دیوسر،بونی گام ،ہابلش،بوزگام،بوگام ،محمدپورہ اوردیگردیہات وعلاقہ جات میں نوجوانوں نے سڑکوں پرنکل کرپُرامن احتجاج کیا۔
Comments are closed.