عمر عبداللہ کو صدر راج منظور

پی ڈی پی کو حمایت دینے سے صاف انکار ،فوری انتخابات کی وکالت کی

سرینگر:۱۹،جون:/ اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے پی ڈی پی ،بھا جپاحکومتی اتحاد ٹوٹنے پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے ریاست جموں وکشمیر میں گور نر راج کی سفارش کرنے کے ساتھ ساتھ فوری اسمبلی انتخابات منعقد کرنے پر زور دیا ۔انہوں نے پی ڈی پی یا دوسری کسی بھی جماعت کے ساتھ حکومتی اتحاد قائم کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس عوامی عدالت میں جائے گی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق ریاست جموں وکشمیر میں پی ڈی پی ،بھاجپا حکومتی اتحاد ٹوٹنے کے بعد پیدا شدہ سیاسی صورتحال کے بعد اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ریاستی گور نر این این ووہرا کے ساتھ راج بھون سرینگر میں ملاقات کی ۔ملاقات کے فوراً بعد اپنی رہائش گاہ واقع گپکار روڑ پر ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی ،بھاجپا حکومتی اتحاد ٹوٹنے میں اُنہیں کوئی حیرانگی نہیں ہے ۔ان کا کہناتھا’مجھے حکومتی اتحاد ٹوٹنے پر کوئی حیرانگی نہیں ہے ،لیکن وقت اور بھاجپا کی جانب سے لئے گئے فیصلے پر حیرانگی ہے ‘۔انہوں نے کہا ’مجھے یہ امید تھی کہ پی ڈی پی ،بھاجپا سرکار امسال آخر پر ختم ہوجائیگی ،لیکن یہ امید نہیں تھی کہ یہ سرکار اتنی جلدی ٹوٹ جائیگی ‘۔عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ بھاجپا نے پی ڈی پی کے ساتھ سیاسی رشتہ کیوں توڑا ،حکومت سے الگ ہونے کیلئے اُنکی کیا مجبوری تھی ،اس کا جواب بھاجپا ہی دے گی ،لیکن ریاست خاص طور پر وادی کشمیر میں جو حالات بن رہے تھے ،اُسے صاف ظاہر تھا کہ یہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی جبکہ یہ حکومتی اتحاد روزِ اول سے تضاد کا شکار رہا ہے ۔عمر عبداللہ نے گور نر کے ساتھ کے ملاقات کے بارے میں بتایا ’ میں نے گورنر سے کہا کہ نیشنل کانفرنس کو 2014 میں حکومت بنانے کا منڈیٹ حاصل ہوا اور نا ہی آج2018میں ہمارے پاس حکومت بنانے کا منڈیٹ حاصل ہے ‘۔انہوں نے مزید کہا’ہم نے حکومت بنانے کیلئے ہم سے نہ تو کسی سیاسی جماعت نے اپروچ کیا اور نہ ہی ہم کسی سے حکومت بنانے کیلئے اپروچ کریں گے‘۔عمر عبداللہ نے کہا ’ہم سے حمایت کے لئے کسی نے رابطہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہم کسی سے رابطہ کریں گے‘۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے مزید کہا’ میں نے گورنر سے کہا کہ چونکہ کسی بھی پارٹی کے پاس حکومت بنانے کے لئے اکثریت نہیں ہے، انہیں ریاست میں گور نر راج نافذ لگانا ہوگا‘۔ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے اُن قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کو صدر راج منظور ہے، ان کی پارٹی چاہتی ہے کہ ریاست میں جلد از جلد انتخابات ہوں۔ ہم ریاست میں صدر راج کے نفاذ کی حمایت کرتے ہیں۔‘ان کا کہناتھا کہ گور نر کو جہاں جموں وکشمیر میں سازگار ماحول بنانے کیلئے فوری نوعیت کے اقدامات اٹھانے ہونگے وہیں اُنہیں انتخابات کیلئے ساز گار ماحول بنانا ہوگا اور اسکے لئے اُنکی جماعت ہرممکن تعاؤن دینے کیلئے تیار ہے ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ اُنکی جماعت عوامی عدالت میں جائیگی اور عوام کا جو بھی فیصلہ ہو گا ،وہ اُسے قابلِ قبول ہوگا ۔ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ اقتدار کی لالچ میں دونوں جماعتوں نے تین سال تک حکومتی اتحاد قائم رکھا ،یہ فیصلہ پی ڈی پی کو لینا چاہئے ،لیکن محبوبہ مفتی اپنے دفتر موجود تھی اور بھاجپا کے فیصلے کی خبر نہیں تھی ۔عمر عبداللہ نے کہا ’اُنکی کرسی کے نیچے سے قالین کھینچی گئی ،اُنہیں پتہ بھی نہیں چلا‘۔

Comments are closed.