پی ڈی پی ،بھاجپا اتحاد عوامی مزاج کے مخالف تھا:محبوبہ مفتی کا اعتراف
’ہما را بڑا مقصد پارٹی ایجنڈا کی عمل آوری ،مفاہمتی ومذاکرتی عمل کی بحالی،ہم کامیاب رہے ‘
’بھاجپا نے رشتہ توڑ ا تو توڑا ،اس فیصلے پر ہمیں کوئی حیرانگی نہیں ،ہم نے370کا دفاع کیا ‘:پی ڈی پی صدر
سرینگر:۱۹،جون: حکومتی اتحاد ٹوٹنے کے بعد پی ڈی پی صدر سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اعتراف کیا کہ پی ڈی پی ،بھاجپا اتحاد عوامی مزاج کے مخالف تھا جبکہ اتحادی جماعت سے سیاسی رشتہ ٹوٹنے پر کوئی حیرانگی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا واضح کیا کہ جموں وکشمیر میں طاقتی اور سختی کی پالیسی نہیں چلے بلکہ پی ڈی پی کا ماننا ہے کہ مفاہمتی ،مذاکراتی اور ہیلنگ ٹچ کی پالیسی ہی جموں وکشمیر میں قیام امن کی ضمانت ہے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی نے اقتدار کی لالچ میں نہیں بلکہ پارٹی ایجنڈا کو آگے بڑھانے کیلئے بھاجپا کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا جس کا مقصد ریاست میں مفاہمت اور مذاکراتی عمل کی بحالی تھا ۔سا بق وزیر اعلیٰ نے بی جے پی کی جانب سے حمایت واپس لینے پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے کہا ’رشتہ بھاجپا نے توڑ اتو توڑا،ہم نے ریاست کے تشخص کے تحفظ کیلئے دفعہ370اور35 Aکا مضبوطی کے ساتھ دفاع کیا ‘۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق پی جے پی کی جانب سے حکومتی حمایت واپس لئے جانے کے بعد پی ڈی پی صدر نے اپنی رہائش گاہ پر ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ،جو ایک گھنٹے تک جاری رہا ۔اسکے بعد ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر وسابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اُنہیں بھاجپا کی جانب سے حکومتی اتحاد توڑنے کے فیصلے پر کوئی حیرانگی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا ’مرحوم مفتی محمد سعید نے بھاجپا کے ساتھ اقتدار کی لالچ میں ہاتھ نہیں ملا بلکہ ہم نے ملک کی بڑی جماعت بھاجپا کے ساتھ ایک ایجنڈے کے تحت حکومتی اتحاد قائم کیا ،تاکہ ہم ریاست جموں وکشمیر کے عوام کو مصیبت سے باہر نکال سکے‘۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا کی جانب سے حکومتی تعاؤن واپس لینے کے بعد انہوں نے اپنا استعفیٰ ریاستی گور نر این این ووہرا کو سونپ دیا اور یہ بھی کہا کہ پی ڈی پی کسی دوسری جماعت کے ساتھ حکومتی اتحاد قائم نہیں کرے گی ۔ محبوبہ مفتی نے اعتراف کیا کہ پی ڈی پی ،بھاجپا کا اتحاد عوامی مزاج کے مخالف تھا ،لیکن اسکے باوجود ان کی پارٹی نے بھاجپا کے ساتھ ہاتھ ملایا ،کیونکہ وہ ریاستی عوام کو مسائل کے بھنور سے باہر نکالنا کا ایجنڈا رکھتی تھی ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں وکشمیر میں طاقت اور سختی کی پالیسی نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا ’بی جے پی کا علیحدگی اختیار کرنا ہمارے لئے جھٹکا نہیں ہے، ہم نے یہ اتحاد اقتدار کے لئے نہیں کیا تھا، اگر یہ اتحاد اقتدار کے لئے ہوتا تو اُس وقت عمر عبداللہ نور کانگریس پارٹی ہمیں حمایت دینے کے لئے تیار تھی۔‘ان کا کہناتھا ’بھاجپا کے ساتھ ہاتھ ملانے کا واحد مقصد پارٹی ایجنڈا کی عمل آوری تھا ،کیونکہ بھاجپا کو ملکی عوام نے اکثریت کے ساتھ منڈیٹ دیا تھا ۔محبوبہ مفتی نے کہا ’ اس اتحاد کا سب سے بڑا مقصد یکطرفہ سیز فائر، ڈائیلاگ کی پیشکش، وزیر اعظم کا پاکستان جانا،11 ہزار نوجوانوں کے خلاف درج کیسوں کو واپس لینا تھا‘۔ محبوبہ مفتی نے کہا ’یہ اتحاد ہم نے بڑے مقاصد کے حصول کے لئے کیا تھا‘۔ انہوں نے کہا ’ مذاکرات اور مفاہمت کے لئے ہماری کوششیں آگے بھی جاری رہیں گی‘۔محبوبہ مفتی نے بھاجپا کی جانب سے سیاسی رشتہ توڑ نے پر کہا ’حکومتی اتحاد انہوں نے توڑا ،توڑا تو توڑا ہم نے اپنے اقتدار کے دوران ریاست جموں کشمیر کے تشخص کیلئے کام کیا ‘۔انہوں نے کہا ’ہم نے چار سال تک دفعہ 370 ،35Aکے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہونے دی۔ انہوں نے کہا ’ہمیں دفعہ 370 کو بچانا تھا، ہم نے تین چار سال تک اس کی حفاظت کی، ہم نے اپنا ایجنڈا پورا کیا ہے‘۔محبوبہ مفتی نے کئی سولات کے جواب میں کہا ’ ہمارے درمیان جو اتحاد تھا ، وہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا۔ حالانکہ لوگوں کے مزاج کے خلاف تھا۔ مفتی محمد سعید نے یہ اتحاد ایک بڑے نظریے کے تحت کیا تھا۔ یہ سوچ کر بی جے پی ایک بہت بڑی جماعت ہے۔ اور وزیر اعظم کو ایک بہت بڑا منڈیٹ ملا ہے۔ کشمیر کے لوگ جس مصیبت میں پھنسے ہیں ، اس مصیبت سے باہر نکالنے کے لئے ہم نے ایک بڑی جماعت کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا۔ ہمیں ایجنڈا آف الائنس بنانے میں کئی مہینے لگے‘۔ انہوں نے کہا ’اس اتحاد کا بنیادی مقصد مفاہمت اور مذاکرات کی بحالی تھا‘۔ محبوبہ مفتی نے کہا ’اس اتحاد کا مقصد جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ مذاکرات کرنا تھا، اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانا اور پاکستان کے ساتھ اچھے رشتے تھا‘۔ محبوبہ مفتی نے حکومت کا حصہ بن کر دفعہ 370 کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا ’جب یہ حکومت بنی تو لوگ دفعہ 370 اور جموں وکشمیر کے خصوصی اختیارات کو لیکر فکر مند تھے۔ جس طرح ہم نے دفعہ 35 اے کا عدالت میں دفاع کیا۔ دفعہ 370 کا پوری طرح سے دفاع کیا۔ اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت ہم نے 11 ہزاروں نوجوانوں کے خلاف درج کیس واپس لئے۔ ہم نے یہاں یکطرفہ فائر بندی کرائی۔ جموں وکشمیر میں ہمارا ہمیشہ ماننا رہا ہے کہ یہاں طاقت کی پالیسی نہیں چل سکتی۔ سختی کی پالیسی یہاں نہیں چل سکتی۔ جموں وکشمیر دشمنوں کا علاقہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہاں یکطرف فائر بندی کرائی جس کے نتیجے میں یہاں لوگوں کو کافی سکون اور آرام ملا۔ بہت برسوں کے بعد اطمینان کی فضا قائم ہوئی‘۔ پی ڈی پی صدر نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے جموں میں اقلیتوں میں خوف کا ماحول پیدا ہوا تھا،لیکن ہم نے صورتحال کا اچھی طرح سے مقابلہ کیا‘۔انہوں نے کہا ’ہم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی اور آگے بھی کرتے رہیں گے‘۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی نے اقتدار میں رہ کر ریاست کے تینوں خطوں کو یکجا رکھا ۔
Comments are closed.