پی ڈی پی ،بی جے پی کی راہیں بالآخر الگ الگ

1130دنوں پرمحیط حکومتی اتحاد ٹوٹ گیا
ریاست جموں وکشمیر میں سیاسی بحران ،صدر راج 8ویں مرتبہ یقینی

سری نگر:۱۹،جون:کے این این/ ستمبر2014کی تباہ کن سیلابی صورتحال کے بعدہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج ظاہرہونے کے بعدکسی جماعت کوواضح اکثریت نہیں ملی ،لیکن پی ڈی پی کووادی کشمیراوربی جے پی کوجموں میں سب سے زیادہ اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل ہوئی۔کے این این کے مطابق انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعدجوڑتوڑاورگٹھ جوڑکی سرگرمیاں تیزہوگئیں ،بھاجپاکے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھوسری نگرمیں خیمہ زن ہوگئے ۔انہوں نے پی ڈی پی کیساتھ مشاورت کاسلسلہ شروع کرکے مخلوط سرکاربنانے کی راہیں تلاش کرنی شروع کردیں ۔مظفرحسین بیگ کیساتھ رام مادھونے کئی میٹنگیں کیں لیکن اس میں بالآخرکوئی پیش رفت نہ ہوسکی ۔پی ڈی پی نے مظفربیگ کواس مشن سے فارغ یاالگ کرکے یہ ذمہ داری ڈاکٹرحسیب درابوکوسونپ دی ۔ایک جانب پی ڈی پی اوربی جے پی کے مابین مخلوط سرکاربنانے کے معاملے پرگفت وشنیدجاری تھی تودوسری جانب غیرسیاسی افرادکاایک گروپ پی ڈی پی ،نیشنل کانفرنس اورکانگریس پرمشتمل ملی جلی سرکارتشکیل دینے کیلئے کوشاں تھا۔کہاجاتاہے کہ پی ڈی پی کے بانی مفتی محمدسعیدبھاجپاکیساتھ اتحادکے حق میں نہیں تھے ،اوروہ کئی روزتک اس ساری سیاسی سودے بازی سے دورسیاحتی مقام گلمرگ کے ایک ہوٹل میں رہے ۔تاہم ڈاکٹرحسیب درابواپنے مشن میں کامیاب ہوگئے ،اورپی ڈی پی نے بی جے پی کیساتھ ملکرمخلوط سرکاربنانے کاغیرمقبول فیصلہ لیا۔مخلوط سرکارچلانے کیلئے نظریاتی اعتبارسے نارتھ اورساوتھ پول کہلانے والی جماعتوں پی ڈی پی اوربی جے پی نے مخلوط سرکارتشکیل دینے کیلئے ایجنڈاآف الائنس مرتب کیااورا سمیں کئی ماہ لگے ۔بالآخریکم مارچ 2015کومفتی محمدسعیدنے لگ بھگ 10سال بعددوسری مرتبہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیااورحلف برداری کی اس تقریب میں وزیراعظم نریندرمودی بھی شامل ہوئے ۔2002سے2005تک وزیراعلیٰ رہے مفتی محمدسعیدکادوسرادورمحض337دنوں پرمحیط تھاکیونکہ 7جنوری2016کومفتی محمدسعیددہلی کے ایک اسپتال میں انتقال کرگئے ۔مفتی محمدسعیدکاانتقال ہوجانے کے بعدریاست میں لگ بھگ تین ماہ تک گوررراج رہاکیونکہ والدکے اچانک انتقال سے نڈہال پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی مخلوط سرکارکی کمان سنبھالنے کیلئے راضی نہیں ہوئیں ۔تاہم پارٹی لیڈرشپ نے محبوبہ مفتی کوراضی کرلیا،اوروہ وزیراعلیٰ کامنصب لینے کیلئے تیارہوگئیں ۔4اپریل2016کومحبوبہ مفتی نے وزیراعلیٰ کے بطورریاستی گورنرسے عہدے اوررازداری کاحلف لیا،اورریاست کی اولین خاتون وزیراعلیٰ کی حیثیت سے محبوبہ مفتی نے مخلو سرکارکی کمان سنبھال لی ۔مخلوط سرکارکیلئے مرتب کردہ ایجنڈاآف الائنس میں شامل نکات بشمول بحالی مذاکرات ،پاؤرپروجیکٹوں کی واپسی اوراعتمادسازی اقدامات کے سلسلے میں محبوبہ مفتی کی کوششیں بارآورثابت نہیں ہوسکیں جبکہ موصوفہ کے اپریل2016میں اقتدارسنبھالنے کے محض تین ماہ بعدحزب کمانڈربرہان وانی کی ہلاکت کے بعدپورے کشمیرمیں ہلاکت خیزصورتحال پیداہوئی ،اورمتواتر5ماہ تک جاری رہنے والی ایجی ٹیشن کے دوران 90سے زیادہ عام شہری اورپولیس اہلکارازجان اور11ہزارسے زیادہ عام شہری اورپولیس وفورسزاہلکارزخمی ہوگئے ۔محبوبہ مفتی کے دورمیں کئی ایسے مواقعے آئے جب پی ڈی پی اوربی جے پی کے ایکدوسرے سے ناطہ توڑنے کی قیاس آرائیاں ہونے لگیں لیکن ہرایسے موقعے پردونوں جماعتوں کے لیڈروں نے باہمی گفت وشنیدکے بعدصورتحال سنبھالا۔تاہم مذاکرات کی بحالی ،مظاہرین کیخلاف طاقت کے استعمال ،پاؤرپروجیکٹوں کی واپسی ،دفعہ370اور35-Aجیسے حساس معاملات پراختلاف رائے بنارہا۔عید کے بعد وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے رمضان سیز فائر ختم کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی چاہتی تھیں کہ سیز فائر کی میعاد کچھ دنوں کیلئے بڑھا دیا جائے، لیکن مرکزی حکومت کشمیر کے بگڑتے حالات کو دیکھتے ہوئے ان کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں تھی۔یہ پہلی بار نہیں ہے جب بی جے پی اور پی ڈی پی میں اختلافات ہوئے ہوں۔ اسی سال کٹھوعہ میں 8 سال کی بچی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے بعد پی ڈی پی نے ہندو ایکتا منچ کی ریلی میں دو بی جے پی وزرا کے شامل ہونے کے معاملے پر استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔ بی جے پی نے دونوں وزرا کو کابینہ سے استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔جیسے تیسے یہ مخلوط سرکارچلتی رہی ،لیکن 19جون 2018کونئی دہلی میں ریاستی لیڈران کیساتھ میٹنگ کے دوران بھاجپاکے قومی صدرامیت شاہ نے یہ غیرمعمولی فیصلہ لیاکہ اُنکی جماعت پی ڈی پی سے ناطہ توڑنے جارہی ہے جبکہ اس میٹنگ سے قبل امیت شاہ نے جموں وکشمیرکی اندرونی اوسرحدی صورتحال پرقومی سلامتی کے مشیراجیت کمارڈوؤل کیساتھ منگل کی صبح اپنی رہائش گاہ پراہم تبادلہ خیال کیا۔بی جے پی کی جانب سے پی ڈی پی کی حمایت سے دستبردارہوجانے کااچانک فیصلہ لینے کے کچھ وقت بعدمحبوبہ مفتی نے اپنااستعفیٰ ریاستی گرنرکوروانہ کردیا۔اس طرح سے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے محبوبہ مفتی اورپی ڈی پی ،ی جے پی مخلوط سرکارکادوسرادورکل791ایام پرمحیط رہا۔دونوں جماعتوں نے دومرحلوں میں کل1128دنوں تک جموں وکشمیرمیں حکومت کی ۔دریں اثناء ریاست جموں وکشمیر میں8ویں مرتبہ صدر راج یقینی ہے ۔

Comments are closed.