سینئرصحافی مرحوم شجاعت بخاری کارسم چہارم

آزاداوردنیشورشرماسمیت لاتعدادلوگوں کی شرکت،صحافیوں نے نکالا احتجاجی مارچ

کریری:۱۸،جون:/ سینئرصحافی مرحوم شجاعت بخاری کی اجتماعی فاتحہ خوانی میں سیاسی لیڈروں ،صحافیوں اورسماج کے مختلف حلقوں سے وابستہ لوگوں کی ایک بڑی تعدادنے شرکت کی ،جن میں سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد،وزیرخزانہ سیدالطاف بخاری ،مرکزی مذاکراتکاردنیشورشرمااورکئی دیگرلیڈران بھی شامل ہیں ۔اُدھرڈی آئی جی وسطی کشمیرکی سربراہی میں پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم شجاعت بخاری اوراُنکے دوذاتی محافظوں کے قتل میں ملوث اسلحہ برداروں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے ۔اس دوران پریس کالونی سرینگر سے صحافیوں نے ایک احتجاجی مارچ نکالااور گھنٹہ گھر کے قریب خاموش دھرنا دیا ۔کے این این نمائندے کے مطابق متواترچوتھے روزبھی شمالی کشمیرکاکریری علاقہ سوگواررہا،اوریہاں دن بھرلوگوں کی آمدکاسلسلہ جاری رہا۔سوموارکوعلی الصبح یہاں شجاعت بخاری کے مقبرے پراجتماعی فاتحہ خوانی کی ایک مجلس منعقد ہوئی جس میں مرحوم کے لواحقین بشمول بزرگ والدپروفیسررفیع الدین بخاری ،برادراکبرسیدبشارت بخاری اوردیگردرجنوں دوست واحبا ب نے شرکت کی ۔اجتماعی فاتحہ خوانی کے بعدمرحوم شجاعت بخاری کے ایصال ثواب کیلئے دن بھرجاری رہنے والی دعائیہ وتعزیتی مجالس جاری رہیں ،جن میں سماج کے مختلف طبقوں وحلقوں سے وابستہ لوگوں کی ایک بڑی تعدادنے شرکت کی ۔اس دوران یہاں فضاء سوگواررہی ۔سینئرصحافی سیدبشارت بخاری کے رسم چہارم میں سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد،وزیرخزانہ سیدالطاف بخاری ،مرکزی مذاکراتکاردنیشورشرمااورکئی دیگرلیڈران بھی شامل ہوئے اورانہوں نے مرحوم کی صحافتی ،سماجی اورادبی خدمات کوشاندارالفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔خبررساں ایجنسی یواین آئی کے مطابق کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے رسم چہارم کی تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم سید شجاعت بخاری نہ صرف ایک بلند پایہ صحافی بلکہ ایک سرگرم سماجی جہدکار بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم مار دھاڑ کے خلاف تھے اور کشمیر میں بات چیت کے ذریعہ امن و شانتی چاہتے تھے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ شجاعت بخاری کو صحافت تک ہی محدود رکھنا زیادتی ہوگی کیونکہ وہ ایک اعلیٰ پایہ کے انسان تھے۔ وہ ایک بہت اچھے سماجی جہدکار بھی تھے۔ غلام نبی آزاد نے کہا ’2014 کے سیلاب کے دوران میں نے شجاعت بخاری ن کام کرتے ہوئے دیکھا۔ وہ کشتی لیکر لوگوں کی مدد کے لئے نکلتے تھے۔غلام نبی آزاد نے کہا ’شجاعت بخاری کی رحلت سے ہوئے نقصان کو کبھی پورا نہیں کیا جاسکتا۔ جموں وکشمیر کی عوام انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی‘۔اس دوران مرکزکے نامزدمذاکرات کار نئی دہلی سے سری نگرپہنچنے کے بعدسیدھے کریری بارہمولہ گئے جہاں انہوں نے مرحوم بشارت بخاری کے غمزدہ لواحقین کیساتھ یکجہتی اورتعزیت کااظہارکیا۔اس دوران پریس کالونی سرینگر سے صحافیوں نے ایک احتجاجی مارچ نکالا ۔اس مارچ میں مختلف خبر رساں اداروں کے نامہ نگاروں ،ایڈیٹروں ،ویڈیو وفوٹو جرنلسٹوں نے شرکت کی ۔صحافیوں نے تاریخی گھنٹہ گھر تک خاموش احتجاجی مارچ نکالا ،جہاں انہوں نے خاموش دھرنا دیا۔احتجاجی صحافیوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھاکر رکھے تھے جبکہ انہوں نے منہ پر پٹیاں باندھی ہوئی تھی ۔اس موقعے پر صحافیوں نے سینئر صحافی سید شجاعت بخاری کو خراج پیش کر تے ہوئے کہا کہ وہ سچائی کیلئے اپنے فرض کو نبھاتے رہیں گے۔

Comments are closed.