سیز فائر :اعلان تا اختتام مختلف نوعیت کے پُر تشدد واقعات ، 31دنوں میں34جانیں تلف

سینئر صحافی ،6 عام شہری ،18جنگجو ،9فورسز اہلکار ،کئی اہلکاروں سمیت بیسیوں زخمی

سری نگر:۱۸،جون:کے این این/ رمضان سیز فائر کے اعلان تا اختتام وادی کشمیر میں مختلف نوعیت کے پُر تشدد واقعات میں سینئر صحافی سید شجاعت بخاری اور6عام شہریوں سمیت قریب34افراد کی موت ہوئی ،جن میں جنگجواور پولیس وفورسز اہلکار بھی شامل ہیں ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق ماہ رمضان کے دوران مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے وادی کشمیر میں جنگجو مخالف آپریشنز معطل کرنے کے دوران بھی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا ۔اس عرصے کے دوران وادی کشمیر میں فوج وفورسز ،جنگجوؤں اور نامعلوم بندوق برداروں کی فائرنگ کے نتیجے میں قریب34افراد کی موت ہوئی ۔ہلاکت شدگان میں سینئر صحافی سید شجاعت بخاری ،عام شہری ،پولیس ،فوج وفورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں ۔ذرائع سے ملی تفصیلات کے مطابق اس عرصے کے دوران جنگجوؤں نے فوج وفورسز پر گرینیڈ وں سے حملے بھی کئے ۔اتوار کے روز حکومتِ ہند نے رمضان کے دوران معطل کئے گئے جنگجو مخالف آپریشنز کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت ہند نے باالآخر جموں کشمیر میں ’’رمضان سیز فائر‘‘کی مدت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ لیتے ہوئے اپنی فورسز کو جنگجو مخالف آپریشن ’’بحال‘‘کرنے کی ہدایت دی ہے۔یہ بات خود وزیرِ داخلہ راجناتھ سنگھ نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتائی۔حالانکہ جموں کشمیر کی وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے ’’سیز فائر‘‘کی مدت میں توسیع کرائے جانے کی کوششیں جاری بتائی جارہی تھیں بلکہ بعض حلقے ایسا تاثر بھی دینے لگے تھے کہ اس فیصلے کو فقط ایک ماہ تک ہی محدود نہیں رکھا جائے گا۔تاہم مرکزی سرکار نے ماہ بھر طویل ’’رمضان سیز فائر‘‘،جسکی مدت جمعرات کو ختم ہوگئی تھی،میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ لیا ہے اووزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ آپریشن ’’بحال ‘‘کیا جائے گا۔مزاحمت قیادت اور ریاست میں سرگرم جنگجووں نے تاہم ’’سیز فائر‘‘سے متاثر ہونے کا کوئی اشارہ تک بھی نہیں دیا تھا بلکہ اسے ایک ’’ڈرامہ اور مذاق‘‘قرار دیتے ہوئے یا تو اسے باضابطہ رد کیا گیا تھا یا پھر اسے کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ایک کے بعد ایک ٹویٹ میں راجناتھ سنگھ نے دعویٰ کیا کہ فورسز نے انہیں اشتعال دلائے جانے کے باوجود بھی رمضان کے دوران مثالی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے جسکے لئے انہوں نے فورسز کی تعریفیں کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ ہند جموں کشمیر میں ملی ٹینسی اور تشدد سے پاک ماحول قائم کرنے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ ’’سیز فائر‘‘کے فیصلے کی پورے ہندوستان ،بشمولِ جموں کشمیر،میں تعریفیں ہوئی ہیں اور اس سے عام شہریوں کو راحت پہنچی ہے۔البتہ تازہ احکامت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ فورسز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ جنگجووں کو حملے کرنے،تشدد بھڑکانے اور قتال سے روکنے کیلئے تمام لازمی کارروائیاں کی جائیں۔ریاست میں مقدس ماہِ رمضان کے دوران جنگجو مخالف آپریشن ’’روک دئے جانے‘‘کے فیصلے کا اعلان بھی17مئی کو راجناتھ سنگھ اسی طرح ٹویٹ کرتے ہوئے کیا تھا اور کہا تھا کہ جموں کشمیر میں موجود فورسز کو جنگجو مخالف آپریشن روک دینے کیلئے کہا گیا ہے تاہم انہیں کسی بھی جارحانہ حملے کا جواب دینے کی اجازت ہوگی۔چناچہ جنگجووں نے اپنی سرگرمیاں ،جن میں کئی بڑے حملے بھی شامل ہیں،جاری رکھیں فوج نے ’’جوابی کارروائی‘‘کے دوران وادی کے مختلف علاقوں سے لیکر ایل او سی تک ڈیڑھ درجن جنگجووں کے ساتھ ساتھ کئی عام شہریوں کو بھی جاں بحق کردیا جبکہ کئی لوگ زخمی ہوئے۔جنگجووں کے حملوں کے باوجود بھی سکیورٹی ایجنسیوں ،بشمولِ فوج،نے ’’سیز فائر‘‘کو کامیاب قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اسکی بدولت جہاں ،خصوصی طور جنوبی کشمیر میں،تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے وہیں نوجوانوں کے جنگجو بننے کا سلسلہ بھی کچھ کم ہوگیا کیونکہ اس رجحان کیلئے فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے جنگجووں کے جنازوں میں بھاری تعداد میں لوگوں کی شرکت کو ایک بڑی وجہ بتایا جارہا ہے۔ایک رپورٹ میں سرکاری ایجنسیوں نے کہا ہے کہ جہاں کہیں کوئی جنگجو مارے جائیں اسی علاقے کے نئے لڑکے بندوق اٹھانے پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور اب جبکہ جنگجووں کا مارا جانا رک گیا ہے نئے لڑکوں کی بھرتی میں بھی کمی محسوس ہونے لگی ہے۔اس وجہ سے مبصرین کا خیال تھا کہ شائد جنگبندی کی مدت میں توسیع کی جائے تاہم سرکار نے اسکے برعکس فیصلہ لیا ہے۔17مئی سے لیکر17جون تک وادی کشمیر میں مختلف واقعات کے دوران تقریباً50افراد کی موت ہوئی ۔ 27اور28جون کو فوج اور جنگجوؤں کے درمیان گولیوں کے تبادلے میں پلوامہ میں پہلی شہری ہلاکت کا واقعہ رونما ہوا ۔اس واقعہ میں جہاں جنگجوؤں کی فائرنگ میں ایک فوجی اہلکار وکرم سنگھ ہلاک ہوا ،وہیں سوموڈرائیور بلال احمدگنائی ساکنہ آکرنارواہ کاکہ پورہ گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے ۔اس کے بعد نوہٹہ میں فورسز گاڑی کی زد میں آکر ایک نوجوان جاں بحق ہوا ،جو سیز فائر میں دوسری عام شہری ہلاکت تھی ۔اس واقعہ میں 21سالہ قیصر احمد بٹ ساکنہ نمچہ بل فتح کدل کی موت ہوئی تھی ۔یہ واقعہ یکم جون کو شہر خاص میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش آیا تھا ۔عرفہ کے روز جنوبی ضلع پلوامہ میں فائرنگ کے ایک واقعہ میں ایک نوجوان جاں بحق اور ایک دوشیزہ زخمی ہوئی تھی ۔ ناو پورہ لاسی پورہ میں وقاس نامی نوجوان جاں بحق ہوا ۔فوج نے کا کہا تھا اپنے دفاع میں اُنہیں گولی چلانے پڑی تھی ۔اس عرصے کے دورانکشمیر کی عید بھی لہو لہو ہوئی کیو نکہ یوم عید کے موقعے پر جنوبی کشمیر میں فورسز کی کارروائیوں اور نامعلوم بندوق برداروں کی کارروائیوں میں2ازجان ہوئے ۔گوکہ مرکزی سرکار کی جانب سے رمضان کے دوران سیز فائر کئے جانے کی وجہ سے اس مقدس مہینے کے دوران سرکاری فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کے مارے جانے کا سلسلہ رْک سا گیا تھا تاہم رمضان کے اختتام کو پہنچتے ہی وادی،باالخصوص جنوبی کشمیر،میں خونریزی کا سلسلہ گویا بحال ہو گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اشاجی پورہ کی عید گاہ علاقے میں لوگوں نے نمازِ عید کی ادائیگی کے فوراََ بعد انسانی حقوق کی پامالی،باالخصوص پلوامہ میں گذشتہ رات پیش آمدہ واقعہ،کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کئے تاہم یہاں پہلے سے موجود پولس اور فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو تتر بتر کرنا چاہا جس سے مشتعل ہوکر مظاہرین میں سے کئی ایک نے فورسز پر سنگباری کی۔ ذرائع نے کہا کہ فورسز نے آنسو گیس کے کئی گولے داغے،گولیاں چلائیں اور متنازعہ پیلٹ گن کا بھی استعمال کیا اور اس کارروائی میں درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں سے 18سالہ شیراز احمد نائیکو ساکن براکپورہ نے یہاں کے ضلع اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ تاہم پولیس کے ایک ترجمان نے شیراز کے گرینیڈ دھماکے کا شکار ہوکر لقمہ اجل بننے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ گرینیڈ کے ریزوں سے شیراز کا ہاتھ بھی تباہ ہوچکا ہے۔ترجمان نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ شیراز پیلٹ گن کا شکار ہوکر جاں بحق ہوئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران50مرتبہ جنگجویانہ حملے بھی ہوئے اور نامعلوم بندوق برداروں کی سر گرمیاں جاری رہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ17اپریل سے 17مئی تک18جنگجویانہ واقعات رونما ہوئے جبکہ17مئی سے17جون تک 50جنگجویانہ حملے ہوئے ۔ شمالی کشمیر میں 26مئی سے 17جون تک جنگجوؤں اور فوج کے درمیان خونین معرکہ آرائیوں میں18جنگجو اور متعدد فوجی اہلکار لقمہ اجل بن گئے۔26مئی کو فوج نے سرحدی ضلع کپوارہ کے ٹنگڈار سیکٹر میں حد متارکہ پر در اندازی کی ایک بڑی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا ۔دفاعی ترجمان کا کہنا تھا کہ در اندازی کی کوشش کے دوران فوج اور در اندازوں کے مابین ہفتہ کی علی الصبح جھڑپ ہوئی ،جس دوران5عدم شناخت در انداز جاں بحق ہوئے ۔31مئی کوفوج نے دعویٰ کیا تھا کہ قاضی آباد ہندوارہ کے جنگلات میں شبانہ معرکہ آرائی کے دوران 2عدم شناخت جنگجو جاں بحق ہوئے۔6جون کو وزیر داخلہ کے دورہ کشمیر سے قبل فوج نے سرحدی ضلع کپوارہ میں تیسری در اندازی کی کوشش کو ناکام بنا نے کا دعویٰ کیا تھا ۔دفاعی ترجمان کے مطابق مژھل سیکٹر میں در اندازی کی کوشش کے دوران فوج اور در اندازوں کے مابین بدھ کی علی الصبح جھڑپ ہوئی ،جس دوران3عدم شناخت در انداز جاں بحق ہوئے جبکہ علاقے میں جنگجومخالف آپریشن ہنوز جاری ہے ۔7جون کو سرحدی ضلع کپوارہ میں تین سیکٹروں میں تین در اندازی کی کوششوں کے بیچ کیرن سیکٹر میں حد متارکہ کے نزدیک جنگجوؤں نے فوج پر حملہ کیا جسکے نتیجے میں ایک فوجی اہلکار کی موت ہوگئی جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا ۔10جون شمالی کشمیرمیں 2ہفتوں کے دوران دراندازی کی چوتھی بڑی کوشش کوناکام بنانے کادعویٰ کرتے ہوئے فوج نے کہاتھاکہ کیرن سیکٹرمیں حدمتارکہ کے نزدیک اتوارکوعل الصبح خونین معرکہ آرائی میں 6جنگجوجاں بحق ہوگئے۔14جون کو بانڈی پورہ کے وسیع جنگلات میں دو ہفتوں سے جاری جنگجو مخالف آپریشن کے دوران طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلے میں 2جنگجو اور ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوا تھا ۔14جون کوگرمائی راجدھانی سرینگرکے سیول لائنز علاقہ میں پرتاپ پارک کے متصل واقع پریس کالونی میں اس وقت خوف ودہشت کی لہر دوڑ گئی جب جمعرات کی شام افطار سے کچھ وقت پہلے نامعلوم اسلحہ برداروں نے سینئر صحافی شجاعت بخاری کی ذاتی گاڑی پر اندھادھند گولیاں چلائیں ۔اس واقعہ میں انگریزی روزنامہ رائزنگ کشمیر ،اردو روزنامہ بلند کشمیر ،کشمیری روزنامہ سنگرمال اور ہفت وار رسالے کشمیر پرچم کے مدیر اعلیٰ شجاعت بخاری اپنے2محافظوں سمیت جاں بحق ہوئے ۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے ردعمل میں کہاکہ شجاعت بخاری کی ہلاکت انتہائی رنجدہ واقعہ ہے اور میں مرحوم کے لواحقین کیساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کااظہار کرتی ہوں۔ سماجی رابطہ گاہ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہاکہ عید کے موقعہ پر اس قسم کا افسوسناک واقعہ پیش آنا المیہ ہے اور میں اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہوں۔ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے شجاعت بخاری کی ہلاکت پر ردعمل ظاہر کیا ۔ عمر عبداللہ نے تحریر کیا’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘۔ انہوں نے اس واقعہ کو خوفناک قرار دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شجاعت بخاری کو جنت نصیب کرے اوران کے قریبی لواحقین کو یہ صدمہ جانکاہ برداشت کرنے کی توفیق وصلاحیت عطا فرمائے۔عید کے دوسرے روزجنوبی کشمیر کے کولگام ضلع کے کیلم علاقہ میں نامعلوم جنگجووں نے ایک نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔اتوار کی شام کو پیش آمدہ اس واقعہ کے بارے میں پولس نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمد اقبال کاوا نامی شخص ہر نزدیک سے گولی چلاکر انہیں شدید زخمی کردیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ کو خون میں لت پت چھوڑ کر حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ زخمی کو اسلام آباد کے ضلع اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔اس عرصے کے دوران قریب4فوجی،5پولیس اہلکارہلاک ہوئے ،جن میں اغوا کئے گئے فوجی اہلکار اورن زیب بھی شامل ہے ۔

Comments are closed.