اسیران زندان کے حقوق پامال کرنا قابلِ مذمت :سمجھی

معصوم جذبات کا استحصال ،محبوبہ مفتی کے آنسو خشک کیوں ہوئے ؟

سرینگر:۳۰،مئی:کے این این/ حریت(گ) کے جنرل سیکریٹری حاجی غلام نبی سمجھی نے ریاست جموں کشمیر میں انتظامیہ کی طرف سے اسیران زندان کے حقوق کو پامال کرنے اور ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھے جانے کی جابرانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سرکار کو عوام کے معصوم جذبات کا استحصال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بالخصوص ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ اُن دنوں کو بالکل بھول گئی ہیں، جب جاں بحق عسکریت پسندوں کے گھروں میں تعزیتی اجتماعات میں موجود خواتین کے درمیان دکھاوے کے آنسو بہارہی تھیں۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ آج ان کی حکومت میں نہتے معصوم شہریوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے،۔ ان کا کہناتھا کہ عسکریت پسندوں کے باغات کو بے دردی کے ساتھ کاٹا جارہا ہے۔ ان کے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے اور مال وجائیداد کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے۔ حریت راہنما نے وزیر اعلیٰ سے استفسار کیا کہ آج وہ مگر مچھ کے آنسو خُشک کیوں ہوئے ہیں؟ حریت راہنما نے موجودہ قابض انتظامیہ کی طرف سے اسیران زندان کے تئیں غیر انسانی سلوک روا رکھے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کی طرف سے رہائی کے پروانے جاری ہونے کے باوجود قیدیوں کو انٹروگیشن مراکز یا پولیس تھانوں میں سڑایا جارہا ہے۔ حریت راہنما نے تھانہ صدر اسلام آباد میں سینئر حریت راہنما میر حفیظ اللہ اور تھانہ سوپور میں غلام محمد خان سوپوری مختلف امراض میں مبتلا ہیں اور ان کا مناسب علاج ومعالجہ کرنے سے صاف انکار کیا جارہا ہے اور ان کی اسیرانہ زندگی کو طول دیا جارہا ہے جو کہ سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ حریت راہنما نے کولگام ٹاسک فورس کی طرف سے منیب احمد بٹ ولدغلام حسن بٹ کو بلا جواز گرفتار کرنے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔

Comments are closed.