بھارت میں 10لاکھ بینک ملازمین کی 2روزہ ہڑتال شروع
ملک بھر میں لین دین کے معاملات بری طرح سے متاثر ،ڈاک سرگرمیاں بھی مفلوج
سرینگر:۳۰،مئی:/ بھارت میں 10لاکھ بینک ملازمین کی 2روزہ تالا بند ہڑتال کے پہلے روز بدھ کوملک بھر میں لین دین کے معاملات بری طرح سے متاثر ہوئے ۔ادھرملک بھر کے سوا لاکھ سے زائد دیہی ڈاک خانوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے کام کاج ٹھپ ہے۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق یونائٹیڈ فورم آف بینک یونینس( یو ایف بی یو )کی جانب سے دی گئی 2روزہ تالا بند ہڑتال کے باعث ملک بھر میں لین دین کے معاملات بری طرح سے متاثر ہوئے جبکہ بینک ملازمین کی ہڑتال سے اے ٹی ایم سروس بھی متاثر ہوئی ۔بدھ سے سرکاری اور پرائیوٹ بینکوں کے 10 لاکھ ملازمین تنخواہوں میں 2 فیصد اضافہ کی مانگ پر ہڑتال پر چلے گئے ہیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تنخواہ میں اضافے کے معاملے پر آج سے بینک ملازمین کی یونینیں ہڑتال پر ہیں۔بینک ملازمین کی ہڑتال سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ کارو باری اشخاص کو لین دین کے حوالے سے مسائل ومشکلات کا سامنا ہے ۔ عوامی، پرائیویٹ شعبہ اور بیرونی بینکوں کے ملازمین اور افسر ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیں۔ مہینے کے آخری دو دن میں ہو رہی اس ہڑتال کے سبب بینک سے تنخواہ نکالنے اور اے ٹی ایم وڈراول سمیت کئی خدمات پر اس کا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔یونائیٹیڈ فورم آف بینک یونینس تلنگانہ و آندھراپردیش اسٹیٹ یونٹس کے کنوینر وی وی ایس آر شرما نے بتایا کہ بینک ملازمین اور افسروں کے تنخواہ کے مطالبات میں تاخیر کے خلاف بطور احتجاج یہ دو روزہ ہڑتال کی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ تنخواہ مطالبات کے لئے انڈین بینک ایسوسی ایشن کی غیرضروری تاخیر کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے۔انھوں نے کہا کہ بینک ملازمین اورافسروں کی تنخواہوں میں اضافہ پر بھی حکومت کوئی مثبت ردعمل ظاہر نہیں کررہی ہے۔ ملازمین نے تنخواہوں میں فوری اضافہ کے علاوہ دوسرے مطالبات کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر کے سوا لاکھ سے زائد دیہی ڈاک خانوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے کام کاج ٹھپ ہے، پونے تین لاکھ ڈاک ملازمین مستقلی کا مطالبہ لے کر ہڑتال پر ہیں لیکن مودی حکومت نے ان سے بات کرنے کی کوشش تک نہیں کی ہے۔ملک بھر کے دیہی علاقوں میں تقریباً 2لاکھ70ہزار ڈاک ملازمین گزشتہ ایک ہفتے سے ہڑتال پر ہیں لیکن مرکزی حکومت کانوں میں تیل ڈال کر بیٹھی ہے۔ یہ ملازمین کملیش چندرا کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر انہیں سرکاری ملازم کے طور پر مستقل کئے جانے کا مطالبہ کر ہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کمیٹی نے نومبر 2016 کو اپنی سفارشات مرکزی حکومت کو سونپ دی تھیں۔’گرامین ڈاک سیوک‘ کے بینر تلے 22 مئی کو شروع ہوئی یہ ہڑتال منگل کو آٹھویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔ آل انڈیا پوسٹل ایملائیز یونین کا الزام ہے کہ ابھی تک مودی حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہڑتال کے سبب ملک بھر کے تقریباً ایک لاکھ29ہزاردیہی ڈاک خانے ٹھپ پڑے ہیں۔ ہڑتالی ملازمین کا کہنا ہے کہ جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے وہ کام پر نہیں لوٹیں گے۔دیہی ڈاک سیوک وہ غیر محکماتی ایجنٹ ہوتے ہیں جو دیہی علاقوں میں ڈاک خدمات مہیا کراتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں بھی دیگر ڈاک ملازمین کی طرح تنخواہ اور سہولیات فراہم کی جائیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاک سیوکوں کے مطالبات پر غور کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے ساتویں تنخواہ کمیشن میں ایک رکنی کمیش چندرا کمیٹی تشکیل دے کر دیہی علاقوں میں ڈاک خدمات دینے والے ایجنٹوں کے مطالبات کی بنیاد پر سفارشات دینے کو کہا تھا۔ کمیٹی کو ڈاک سیوکوں کی تنخواہ کی بے ضابطگیاں، سہولیات اور سوشل سیکورٹی کا مطالعہ کر کے اپنی رپورٹ دینی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی تھیں کہ دیہی ڈاک افسران کو کم از کم 10 ہزار اور 35480 روپے تنخواہ دینے کے ساتھ نوکری میں 50 سال کی حد کو ختم کر دیا جائے۔ کمیٹی نے تنخواہ میں سالانہ 3فیصد اضافے اور بچوں کی تعلیم کے لئے سالانہ 6ہزار روپے بھتہ دینے کی بھی سفارش کی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے علاوہ خصوصی علاقوں میں کام کرنے کے لئے 500 روپے ماہانہ کا اضافی بھتہ دینے کا بھی التزام کرنے کی سفارش کی تھی۔ کمیٹی نے عبوری راحت کے طور پر دئیے جانے والے فنڈ کو بھی60 ہزار سے بڑھا کر5 لاکھ روپے کرنے کو کہا تھا۔ہڑتالی یونین کے جنرل سکریٹری پی پانڈورنگ راؤ کا کہنا ہے کہ، ’’حکومت ہمیں کچھ بھی دینے کو تیار نہیں ہے، اس لئے ہم نے ہڑتال کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سفارشات لاگو کرنے کے لئے 3ماہ کے وقت کی بات کی تھی، لیکن 18 مہینے گزر جانے کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا، ایسے حالات میں ہمیں حکومت پر بھروسہ نہیں ہے۔
Comments are closed.