ہندوستان میں مذہبی اقلیتیں غیر محفوظ : امریکی وزیر خارجہ کی رپورٹ
گاؤرکشکوں کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہو تا
سرینگر:۳۰،مئی:/ بین الاقوامی مذہبی آزادی پر مبنی امریکہ کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے ،جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں ہندو وطن پرست گروپوں کے تشدد کی وجہ سے اقلیتی طبقے نے خود کو بیحد غیر محفوظ محسوس کیا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پوم پیو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بھارت میں گاؤرکشکوں کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہو تا جو تشدد اور ہلاکتوں کے واقعات میں ملوث ہیں ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق بین الاقوامی مذہبی آزادی پر مبنی ایک امریکی رپورٹ میں منگل کو کہا گیا کہ ہندوستان میں 2017میں ہندو وطن پرست گروپوں کے تشدد کی وجہ سے اقلیتی طبقے نے خود کو بیحد غیر محفوظ محسوس کیا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پوم پیو نے امریکی کانگریس کے ذریعے رجسٹرڈ2017کی بین الاقوامی مذہبی آزادی کی سالانہ رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ کے مطابق، مذہبی طور پراقلیتی طبقیکے نمائندوں نے بتایا کہ جہاں مرکزی حکومت نے کچھ ایک بار تشدد کے واقعات کے خلاف بولا، مقامی رہنماؤں نے شاید ہی ایسا کیا اور کئی بار ایسے عوامی تبصرے کئیجن کا مطلب تشدد کو نظر انداز کرنے کے طور پر نکالا جاسکتا ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا، سول سوسائٹی کے لوگوں اور مذہبی اقلیتوں نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے تحت مذہبی اقلیتی طبقے نے غیر ہندوؤں اور ان کے عبادت گاہوں کے خلاف تشدد میں شامل ہندو وطن پرست گروپوں کی وجہ سے خود کو کافی غیر محفوظ محسوس کیا۔رپورٹ کے مطابق،افسروں نے اکثر ہی گؤ کشی یا غیر قانونی اسمگلنگ یا گائے کا گوشت کے استعمال کے مشتبہ لوگوں، زیادہ تر مسلمانوں کے متعلق گؤرکشکوں کے تشدد کے خلاف معاملے درج نہیں کئے۔اس میں کہا گیا، حکومت نے سپریم کورٹ میں مسلم تعلیمی اداروں کے اقلیتی کردار کو چیلنج دینا جاری رکھا۔ اقلیتی کردار سے ان اداروں کو ملازمین کی تقرری اور نصاب سے متعلق فیصلوں میں آزادی ملی ہوئی ہے۔رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ 13 جولائی 2017کو وزیر اعظم نریندر مودی نے گائے کے گوشت کے کاروباریوں، گائے کیگوشت کے صارفین اور ڈیری کسانوں پر بھیڑ کے ذریعے کئے گئے جان لیوا حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گؤرکشا کے نام پر لوگوں کی جان لینا ناقابل قبول ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7اگست کو اس وقت کے نائب صدر حامد انصاری نے کہا تھا کہ ملک میں دلت، مسلمان اور عیسائی خود کو کافی غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے 10 اگست کو ایک انٹرویو میں بھی اپنی بات کو دوہراتے ہوئے کہا کہ ملک میں مسلمان خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ان کے تبصروں کے لئے بی جے پی اور ہندو وطن پرست گروپوں نے ان کی تنقید کی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم اوپن ڈورس کے مقامی حصہ داروں کے ذریعے جٹائے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال کے پہلے 6مہینوں میں سامنے آئے 410 واقعات میں عیسائیوں پر ظلم کیا گیا، ڈرایا اور دھمکایا گیا یا مذہب کو لیکر ان پر حملہ کیا گیا۔ پورے 2016میں اس طرح کے441 واقعات ہوئے تھے۔ساتھ ہی، اس میں کہا گیا کہ 2017 میں جنوری سے لیکر مئی کے درمیان وزارت داخلہ نے مذہبی طبقوں کے درمیان 296معاملات ہونے کی اطلاع دی۔ ان معاملوں میں 44 لوگ مارے گئے اور 892 زخمی ہوئے۔
Comments are closed.