شوپیان میں شبانہ چھاپے ،4بچوں کے باپ سمیت3گرفتار
گرفتاریوں پر عوام میں غم وغصہ کی لہر ،فور طور پررہائی کا کیا مطالبہ
شوپیان:۳۰،مئی: رمضان فائربندی کے بیچ جنوبی کشمیر میں چھاپوں اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے جسکی وجہ سے عوام میں غم وغصہ کی لہر دوڑ رہی ہے ۔تازہ شبانہ چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران جنوبی ضلع شوپیان سے 4بچوں کے باپ سمیت3افراد کو حراست میں لیکر تھانہ نظر بند رکھا گیا ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جنوبی کشمیر میں پولیس وفورسز نے چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ تازہ گرفتاریاں شوپیان میں عمل میں لائی گئیں جبکہ گزشتہ دنوں کولگام میں بھی نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ۔جنوبی کشمیر کے چاروں اضلاع میں سنگبازی کے الزام میں کئی نوجوانوں کو حراست میں لیکر مختلف تھانوں میں نظر بند رکھا گیا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سگن شوپیان میں شبانہ چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 4بچوں کے باپ سمیت3افراد کو حراست میں لیا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ یہ حراستیں شوپیان میں حالیہ دنوں سماعت شکن بارودی دھماکے کے بعد عمل میں لائی گئیں ۔یاد رہے کہ سماعت شکن بارودی سرنگ دھماکے میں افسر سمیت3فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے جبکہ فوج کی بلٹ پروف گاڑی تباہ ہوگئی تھی ۔دھماکے کے بعد مبینہ طور پر فورسز نے علاقے میں توڑ پھوڑ کی اور جنگجو کمانڈر زینت الاسلام سمیت 60رہائشی مکانوں کے گھر یلو ساز وسامان کو تہس نہس کردیا گیا تھا ۔یہ الزام مقامی لوگوں کی طرف سے لگایا گیا ۔مقامی ذرائع کے مطابق حراست میں لئے گئے تین افراد میں الطاف احمد ولد غلام محمد ،غازی محمد بٹ ولد گلزار احمد اور فاروق احمد نجار ولد نور محمد شامل ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ فاروق احمد نجار 4بچوں کا باپ ہے ۔ادھر رمضان فائربندی کے بیچ جنوبی کشمیر میں چھاپوں اور پکڑ دھکڑ پر عوامی وغم وغصہ میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔مقامی لوگوں کو کہنا ہے کہ ایک طرف رمضان فائر بندی کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ عوام لوگوں کو راحت پہنچے لیکن دوسری جانب پکڑ دھکڑ کا سلسلہ در از کرکے لوگوں کو ذہنی کوفت میں مبتلاء کیا جارہا ہے ۔مقامی لوگوں نے شبانہ چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران مکینوں کو حر اساں کیا جارہا ہے جبکہ گرفتاریوں عمل میں لاکر بے چینی کی لہر کو ہوا دی جارہی ہے ۔مقامی لوگوں نے حراست میں لئے گئے افراد کی فوری طور پر رہا ئی کا مطالبہ کیا ۔اس دوران پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تینوں افراد کو پوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لیا گیا ،پوچھ تاچھ مکمل ہونے کے بعد اُنہیں رہا کیا جائیگا ۔
Comments are closed.