جنگجو کمانڈر سمیر ٹائیگر کی قبر کے کتبے کی مبینہ توڑ پھوڑ

دربگام پلوامہ میں صدائے احتجاج بلند ،فورسز پرقبر کی بے حرمتی کا الزام

پلوامہ:۳۰،مئی:کے این این/ پلوامہ میں بدھ کے روز اُس وقت کشیدگی کی لہر دوڑ گئی جب یہاں مبینہ طور پر نامعلوم افراد نے جنگجو کمانڈر سمیر ٹائیگر کی قبر کے کتبے کی توڑ پھوڑکی۔واقعہ میں مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور الزام عائد کیا کہ رات کی تاریکی میں فورسز اہلکاروں نے قبر کی بے حرمتی کی ۔کشمیرنیوز نیٹ ورک کو معلوم ہوا ہے کہ پلوامہ میں کے دربگام علاقے میں بدھ کی صبح لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔یہ احتجاج رات کی تاریکی دوران جنگجو کمانڈر سمیر ٹائیگر کی قبر کے کتبے کی مبینہ طور توڑ پھوڑ کرنے پر کیا گیا ۔اس ملی تفصیلات کے مطابق دربگام پلوامہ میں اُس وقت بدھ کی علی الصبح کشیدگی کی لہر دوڑ جب نماز فجر ادا کرنے کے بعد لوگ مقامی مسجد شریف سے باہر آئے تو حزب المجاہدین کے کمانڈر سمیر ٹائیگر کی قبر سے اسکا کتہ غائب پایا ۔اس واقعہ پر لوگوں نے بدھ کے روز احتجاجی مظاہرے کئے اور دھرنا دینے کے علاوہ احتجاجی مارچ بھی نکلا۔۔احتجاجیوں کا الزام ہے کہ ٹائیگر کی قبر کا کتبہ گذشتہ رات کے دوران فورسز نے مبینہ طور ہٹا لیا ہے۔سمیر ٹائیگر کے آبائی گاوں دربگام میں بدھ کی صبح جونہی لوگوں نے اْنکی قبر سے اسکا سنگِ مرمر کا کتبہ غائب پایا تو وہ مشتعل ہوگئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہاں کے مرکزی چوراہے پر کئی لوگ جمع ہوئے ،جنہوں نے واقعہ پر احتجاجی مظاہرے کئے اور یہاں دھرنا بھی دیا ۔لوگوں نے الزام لگایا کہ قبر کا کتبہ گذشتہ رات کے دوران فو رسزاہلکاروں نے ہٹا لیا ہے۔اُنکا کہنا تھا کہ ایسا کرکے نہ صرف ایک قبر سے اسکی نشانی ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ یہ قبر کی بے حرمتی ہے اور یوں لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی گئی ہے۔احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیوں سے لوگ مشتعل ہوتے ہیں اور پھر یہ صورتحال تشدد بھڑک اٹھنے کا باعث بن جاتی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی جبکہ یہاں بدھ کو ہڑتال رہی جسکی وجہ سے یہاں معمول کی سرگرمیاں متاثر رہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ احتجاجیوں نے تحصیل دفتر راجپورہ تک مارچ بھی نکالا جبکہ راجپورہ میں بھی احتجاجی مظاہروں کے باعث بند رہا ۔ذرائع کے مطابق علاقے کے نوجوان ’’اسلام ،آزادی، اور جنگجووں‘‘کے حق میں نعرہ بازی کی ۔یاد رہے کہ سمیر احمد بٹ عرف سمیر ٹائیگر حزب المجاہدین کے نامور کمانڈر تھے اور سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ نئے لڑکوں کو جنگجو ئیت کی طرف راغب کرنے میں ماہر تھے۔غور طلب بات یہ ہے کہ سمیر ٹائیگر اپنے آبائی گاؤں میں اپنے ساتھی کے ساتھ فوج وفورسز کے ساتھ ایک خونین معرکہ آرائی میں جاں بحق ہوا تھا ۔جاں بحق حزب جنگجو کمانڈر کو اپنے ہی گاوں میں دفن کیا گیا تھا اوراْنکی قبر ،جس پر بعدازاں سنگِ مرمر کا ایک کتبہ لگایا گیا تھا،کو دیکھنے کیلئے روز ہی کئی لوگ یہاں آتے دیکھے گئے۔قبر کو پھولوں اور جھنڈوں سے سجایا گیا تھا جبکہ کتبہ پر اْردو اور انگریزی میں اْنکے نام و پتہ اور چند اشعار کے علاوہ کوئی قابلِ اعتراض بات درج نہیں تھی۔

Comments are closed.