طلاب اوردیگرمظاہرین سے نمٹنے کی کارروائی کامعاملہ، مقامی حقوق انسانی کمیشن میں شنوائی
وادی کے تمام اضلاع کے سبھی تحاصیل میں مجسٹریٹ تعینات:صوبائی انتظامیہ
سری نگر:۳۰،مئی:کے این این/ ریاستی حقوق انسانی کمیشن میں پیش کردہ رپورٹ میں صوبائی انتظامیہ کشمیرنے واضح کیاہے کہ وادی میں طلاب اوردیگرمظاہرین سے نمٹنے کی کارروائی مجسٹریٹوں کی اجازت اورنگرانی میں انجام دی جاتی ہے ،اوراس مقصدکیلئے سری نگرسمیت وادی کے تمام10اضلاع کے سبھی تحاصیل میں مجسٹریٹ تعینات کئے جاتے ہیں ۔کے این این کے مطابق وادی میں حالیہ کچھ برسوں کے دوران طلباء اور طالبات کے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس وفورسزکی جانب سے مبینہ طورطاقت کے اضافی یابغیراجازت استعمال نیزکمسن طلاب کوقانونی تحفظ فراہم نہ کئے جانے کے واقعات کی مناسبت سے مقامی حقوق انسانی کارکن اورانٹرنیشنل فورم فارجسٹس اینڈہیومن رائٹس کے چیئرمین محمداحسن اونتونے ریاستی حقوق انسانی کمیشن میں 23اپریل2018کوایک عرضی زیرنمبرSHRC/132/sgr/2018دائرکی تھی جسکوکمیشن نے سماعت کیلئے منظورکیا۔اپنی عرضی میں محمداحسن اونتونے کمیشن ھٰذاکے سامنے یہ دلیل پیش کی کہ کشمیروادی میں احتجاجی طلاب سے نمٹنے کے دوران پولیس اورفورسزکی جانب سے طاقت کابے تحاشہ استعمال کیاجاتاہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ احتجاج کرنایااپنی آوازبلندکرناطلاب کاجموری اورقانونی حق ہے لیکن جب کشمیری طلباء اور طالبات کوئی مظاہرہ کرتے ہیں تواُن کیخلاف طاقت کابے تحاشہ استعمال کیاجاتاہے ۔محمداحسن اونتونے اپنی دائرعرضی میں اسبات کوبھی اُجاگرکیاکہ احتجاجی مظاہروں کے دوران طلاب کوطاقت اورتشددکانشانہ بنایاجاتاہے ،اوراس طرح سے کمسن طالب علموں کے جمہوری حقوق کوبھی پامال کیاجاتاہے ۔محمداحسن اونتونے ریاستی حقوق انسانی کمیشن سے استدعاکی کہ احتجاجی طلاب کیخلاف طاقت کے بے جااستعمال کے واقعات کی تحقیقات عمل میں لانے کیلئے ریاستی سرکارکوایک کمیشن قائم کرنے کی ہدایت دی جائے نیزاسبات کویقینی بنایاجائے کہ طلاب اوردیگرمظاہرین سے نمٹتے وقت لازمی طورمجسٹریٹ تعینات کیاجائے تاکہ پولیس وفورسزکی جانب سے ازخودمظاہرین کیخلاف طاقت کے بے جااوراضافی استعمال کے واقعات پرروک لگائی جاسکے ۔معلوم ہواکہ آئی ایف جے کے چیئرمین نے 23اپریل کوایس ایچ آرسی میں دائرکردہ اپنی پیٹشن یاعرضی میں صوبائی کمیشنرکشمیراورآئی جی پی کشمیرکوفریق بنایا۔محمداحسن اونتوکی دائرعرضی کوزیرسماعت لانے کے بعدمقامی حقوق انسانی کمیشن نے ڈی جی پی اورڈویژنل کمیشنرکشمیرکے نام الگ الگ نوٹسیں جاری کرتے ہوئے اُن سے تفصیلی رپورٹ طلب کی جبکہ اس معاملے کی اگلی سماعت کیلئے 29مئی2018کی تاریخ مقررکردی ۔محمداحسن اونتونے بتایاکہ29مئی کوریاستی حقوق انسانی کمیشن میں اس معاملے کی سماعت کمیشن کے چیئرمین ریٹارڈجسٹس بلال نازکی نے خودعمل میں لائی جبکہ اس دوران صوبائی کمشنرکی جانب سے وادی کے کئی اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں ،ایس ڈی ایمزاورتحصیل داروں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے دوران مجسٹریٹوں کی تعیناتی عمل میں لائے جانے سے متعلق تفاصیل پیش کی گئیں ،جن میں یہ واضح کیاگیاکہ سری نگرسمیت وادی کے تمام10اضلاع کے سبھی تحاصیل میں مجسٹریٹ تعینات کئے جاتے ہیں ،جن کی نگرانی میں طلاب اوردیگرمظاہرین کیخلاف ضرورت پڑنے پرکارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
Comments are closed.