پلوامہ ،ترال میں پے در پے گرینیڈ دھماکے

کوئی زخمی نہیں ،کئی علاقوں کا محاصرہ ، حملہ آؤروں کی تلاش شروع

پلوامہ،ترال :۳۰،مئی:/ عارضی طور جنگجو مخالف آپریشنز کی معطلی کے بیچ جنوبی کشمیر میں جنگجویانہ سرگرمیوں میں آئی تیز ی کے دوران بدھ کو جنگجوؤں نے پلوامہ میں پولیس وسی آر پی ایف کی مشترکہ ناکہ پارٹی پر گرینیڈ سے حملہ کیا جبکہ جنوبی قصبہ ترال میں سابق این سی رکن اسمبلی کی رہائش گاہ پر ہتھ گولہ پھینکا گیا۔پے درپے گرینیڈ دھماکوں میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ،تاہم فورسز نے علاقوں کا محاصرہ کرکے حملہ آؤ روں کی تلاش شروع کردی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق جنوبی ضلع پلوامہ میں بدھ کے روز جنگجوؤں نے پولیس وفورسز کی مشترکہ ناکہ پارٹی کو نشانہ بنانے کی غرض سے گرینیڈ سے حملہ کیا ۔معلوم ہوا ہے کہ ضلع کے سر کل روڑ پی سی آر بانور کے مقام پر جنگجوؤں نے فورسز کی مشترکہ پارٹی پر دن دھاڑے پر حملہ کیا ۔بتایا جاتا ہے کہ علاقے میں اچانک گرینیڈ بردار جنگجو نمودار ہوئے ،جنہوں نے یہاں مشترکہ ناکہ پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے اُن پر ایک ہتھ گولہ پھینکا ،جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ گرینیڈ نشانہ سے چوک کر دور کر پھٹ گیا ،تاہم اسکی آہنی ریزوں کی زد میں کوئی نہیں آیا۔ذرائع نے بتایا کہ یہ دھماکہ نزدیکی میوہ باغ میں ہوا ،تاہم گرینیڈ دھماکے کے فوراً بعد پولیس وفورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے حملہ آؤروں کی تلاش شروع کردی ۔ادھر جنوبی قصبہ ترال میں سابق این سی رکن اسمبلی کی رہائش گاہ پر ہتھ گولہ پھینکا گیا ۔رپورٹس کے مطابق نامعلوم افراد نے سابق این سی رکن اسمبلی محروم محمد سبحان بٹ کی رہائش گاہ واقع ترال پر بدھ کی دوپہر ہتھ گولہ پھینکا ،جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا ،تاہم اس میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔دھماکے کے فوراً بعد علاقے کا محاصرہ کیا گیا ،اور حملہ آؤروں کی تلاش شروع کردی گئی ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر رمضان کے پیش نظر عارضی طور جنگجو مخالف آپریشنز کو معطل کیا گیا ہے ۔تاہم یکطرفہ فائربندی کے بیچ جنوبی کشمیر میں گزشتہ کئی دنوں سے جنگجویانہ سرگرمیوں میں تیزی دیکھنی کو ملی ۔پولیس ذرائع کے مطابق منگل کی شب کو مشتبہ جنگجوؤں نے پوچھل پلوامہ میں شام دیر گئے سپیشل پولیس آفیسر کو گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا۔ ایس پی او عاقب احمد وگے ولد عبدالاحد وگے ساکن پنجگام پر مشتبہ جنگجوؤں نے ٹانگوں میں گولیاں ماریں اور وہ شدید طور پر زخمی ہوا، جسے فوری طور پر سرینگر منتقل کردیا گیا۔اس سے قبل گزشتہ دنوں فوج پر ہوئے شبانہ حملے میں ایک شہری اور فوجی اہلکار ہلاک ہوا تھا ۔ کاکہ پورہ پلوامہ میں شہری ہلاکت کے معاملے کا بشری حقوق کے ریاستی کمیشن نے نوٹس لیا ہے۔چیئرمین جسٹس بلال نازکی نے ریاستی پولیس سربراہ کو27جولائی سے قبل مکمل تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ پلوامہ کے کاکہ پورہ علاقے میں 27اور28مئی کی درمیانی شب جنگجوؤں نے فوج کے کیمپ پر حملہ کیا، جس کے دوران ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوا۔ اس دوران ایک عام شہری بلال احمد گنائی،جو کہ سومو چلا رہا تھا،بھی واقعہ میں جاں بحق ہواتھا۔

Comments are closed.