مذاکرات کے معاملے پرمزاحمتی خیمے کا موقف خوش آئند :مین اسٹریم لیڈرشپ
مرکز کو اپنااپروچ،موقف اورایجنڈاواضح کردیناچاہئے
سری نگر:۳۰،مئی:کے این این/ مذاکرات کے معاملے پرمزاحمتی خیمے کے موقف کومثبت وحوصلہ افزاء قراردیتے ہوئے مین اسٹریم لیڈروں نے خبردارکیاکہ مرکزی سرکارکامنفی ومبہم اپروچ کشمیرمیں نامساعدصورتحال کے طول پکڑجانے کاموجب بن سکتاہے۔نیشنل کانفرنس،کانگریس ،سی پی آئی ایم ،پی ڈی ایف اورڈی پی این نے مذاکراتی عمل کودہائیوں پرانے کشمیرمسئلے کوحل کرنے کی واحدسبیل سے تعبیرکرتے ہوئے اسبات پرزوردیاکہ متضادبیانات دینے کے بجائے مرکزی حکومت کوکشمیرسے متعلق اپنااپروچ،موقف اورایجنڈاواضح کردیناچاہئے۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق اپوزیشن سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس ،کانگریس اور دیگر جماعتوں نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے علیحدگی پسندوں کا موقف مثبت ہے ۔مین اسٹریم لیڈران نے کہا کہ علیحدگی پسندوں نے بات چیت کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا وہ حوصلہ افزاء ہے ،کیو نکہ مذاکرات سے ہی مسائل کے حل کے حوالے سے آگے بڑ ھ سکتا ہے ۔ان کہنا تھا کہ علیحدگی پسندوں نے مذاکرات کے حوالے سے رضامندی ظاہر کی ہے لہٰذا اب یہ نئی دہلی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ماحول کو ساز گار بنا نے کیلئے اپنا مثبت اپروچ دکھا ئے ۔مین اسٹریم لیڈرا ن کا کہنا تھا کہ مرکزی وزراء کے متضاد بیانات سے مذاکرات کی راہ ہموار نہیں ہوگی بلکہ اس حوالے سے کنفیو ژن ہی پیدا ہوتے ہیں ۔اس سلسلے میں سیز فائر اور مذاکراتی عمل کی بحالی سے متعلق مرکزی وزراء کے متضاد بیانات کو غیر دانشمندانہ اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ ایسے بیانات سے صرف اور صرف کنفیوژن پیدا کیا جارہاہے اور حقیقی پالیسیوں سے متعلق عوام کو اندھیروں میں رکھا جارہا ہے۔ ایک بیان میں پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے کہا کہ ایک طرف نائب صدر ہند کہتے ہیں کہ پاکستان کیساتھ مذاکرات میں کوئی حرج نہیں جبکہ مرکزی وزیر خارجہ کہتی ہیں کہ ’’دہشت گردی پاکستان کیساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے‘‘۔ اسی طرح پہلے کشمیر کے اندر رمضان المبارک میں سیز فائر کا اعلان کیا گیا اور کل وزیر داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر میں سیز فائر نہیں کیا گیا بلکہ کچھ دیر کیلئے آپریشن بند کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ ایسی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی سے کنفیوژن پیدا کیا جارہا ہے اور لوگوں کو اندھیرے میں رکھاجارہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بندوق سے کشمیر کے حالات کو ٹھیک نہیں کیا جاسکتا ہے، مرکزی سرکار نے فوج کو بے پناہ اختیارات دیئے اور یہاں افسپا جیسے کالے قوانین نافذ کئے ، گذشتہ30برسوں سے ان اختیارات کے تحت فوج کام کررہی ہے لیکن حالات ٹھیک ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ مرکزی سرکار کویہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ طاقت کے بلبوتے پر حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے ، اور افہام و تفہیم ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ادھر اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس نے کہاہے کہ مرکز خلوص نیت اور صدقہ دلی سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بات چیت شروع کرے۔پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیہ دار حل ہند پاک دوستی کی مضبوطی میں مضمرہے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق نیشنل کانفرنس اور اس کی عظیم اورپُر خلوص قیاد ت روز اول سے ہی مسئلہ کشمیر کو سیاسی نظریہ کے تحت حل کرنے کی وکالت کرتے آئی ہے اور اس اصول پر گزشتہ آٹھ دہائیوں سے اپنے موقف پر کار بند ہے ۔ بار بار امن بات چیت اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے بنیادے فریقوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا دعوی اور اعلانات اب تک عملی طور پر عمل میں نہ لائے گئے اور نہ ہی ان دعوی اور اعلانات پر عمل پیرا ہوئے ۔ادھر کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے علیحدگی پسندوں کے اپروچ کو حوصلہ افزاء قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کی کشمیر پالیسی تضاد سے بھر پور ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پر مرکزی حکومت کی غیر سنجید گی کے باعث کشمیر میں حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں جبکہ پاکستان کے حوالے سے مودی کو کوئی خارجہ پالیسی ہی نہیں ہے ۔ان کا کہناتھا کہ کبھی لاہور کا دورہ کیا جاتا ہے ،تو کبھی مذاکرات کے در وازے بند کئے جاتے ہیں جو مودی سرکار کی خار جہ پالیسی پر سوالیہ نشان لگا تا ہے ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ کانگریس پرامن مذاکرات پر یقین رکھتی ہے کیو نکہ مذاکرات سے ہی مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے جبکہ تشدد سے تباہی وبربادی ہی ہوتی ہے ۔اس دوران مرکزی سرکار کی جانب سے حریت اور پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دینے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سی پی آئی ایم کے جنرل سیکرٹری اور ایم ایل اے کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ مرکز کو چاہیے وہ ان مذاکرات کے خدوخال وضع کریں تاکہ ماضی کی طرح یہ مذاکرات بے معنی ثابت نہ ہو۔تاریگامی نے کہا کہ نئی دہلی نے گزشتہ تین برسوں کے دوران کشمیر پالیس کے حوالے سے سخت موقف اپنایا تھا جس کی مکمل ناکامی کے بعد ہی مرکزی سرکار نے بالآخر مذاکرات کی راہ اختیار کی۔تاریگامی نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ مذاکرات ہی ہر مسئلے کا حل ہے۔پی ڈی ایف کے سربراہ حکیم محمد یاسین نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ مرکز مسئلہ کے حل کے حوالے جامع مذاکراتی عمل کی بحالی کیلئے ایجنڈا تشکیل دے ۔انہوں نے کہا کہ حریت کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے مثبت موقف سامنے آیا ہے لہٰذا اس کو فائدہ مند بنانا مرکز کی ذمہ داری ہے ۔ڈی پی این کے سربراہ غلام حسن میر نے کہا کہ مذاکرات ہی آگے بڑھے کا واحد ذریعہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل ٹھوس اور مخلصانہ بنیادوں پر عمل میں لایا جانا چاہیے تاکہ مسائل کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکراتی عمل کو مثبت انداز سے آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔
Comments are closed.