ہندی صحافت کی تاریخ 125 سال پہلے شائع ہوئی تھی
نئی دہلی ، 30 مئی : ہندی صحافت کی پہلی تاریخ آج سے تقریبا 125 سال پہلے لکھی گئی تھی۔ اسکے مصنف بھارتیندو ہریشچندرکے پھوپھی زاد بھائی رادھا کرشن داس تھے ۔ یہ کتاب کئی سالوں سے نایاب تھی اور اب اس کی دوبارہ اشاعت ہورہی ہے ۔ کاشی ناگری پرچارنی سبھا سے 1894 میں شائع ہونے والے ہندی کے اس وقت کے اخباروں کی تاریخ کے مطابق 1845 میں شائع ہونے والے بنارس اخبار کو ہی ہندی کا پہلا اخبار مانا جاتا تھا لیکن 1930 کی دہائی میں پنڈت بنارسی داس چترویدی کی ادارت میں کولکاتہ سے شائع ہونے والے ’وشال بھارت‘ میں شائع ایک مضمون کے مطابق ’ادنت مارتنڈ‘ ملک کا پہلا ہندی اخبار تھا ۔ یہ 30 مئی 1826 کو شائع ہوا تھا اور تقریبا ڈیڑھ سال بعد اس کی اشاعت بند ہوگئی ۔ 30 مئی کو ہی آج پورے ملک میں ’ہندی پتر کاریتا دوس ‘ منایا جاتا ہے ۔ بہار یونیورسٹی کے صدرشعبہ ہندی رام نرنجن پریملندو نے اس تاریخ کو مرتب کیا ہے ۔ اس کی کوئی بھی جلد ملک کی کسی لائبریری میں موجود نہ تھی ۔
انہوں نے یو این آئی کو آج ’ یوم صحافت ‘ کے موقع پر بتایا کہ اس کتاب کی ایک جلد ’ ناگری پرچارنی سبھا ‘ میں موجود تھی لیکن وہ غائب ہو گئی تھی جو انہیں آج سے 22 سال قبل بنارس کی کچوڑی گلی
میں پٹری پر بکنے والی پرانی کتابوں میں ملی تھی جسے وہ مرتب کرکے از سرنو شائع کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچوڑی کلی میں ملی اس کتاب میں ایک جلد کاشی ناگری پرچارنی سبھا کو دے دی گئ تھی ۔ ا سے 32 صفحات کی تمہید کے ساتھ شائع کرانے کا کام کیا گیا ہے ۔ یہ راجکمل پرکاشن سے شائع ہورہی ہے ۔ اس میں 139 اخباروں و رسالوں کا ذکر ہے جو 1845 سے 1904 کے درمیانی مدت یعنی 55 سالوں میں شائع ہوئے ۔ رادھا کرشن داس پیشے سے ٹھیکہ دار تھے اور انہوں نے ہی کاشی پرچارنی سبھا کی عمارت بنوائی تھی، انکی پیدائش 1865 اور موت 1907 میں ہوئی تھی ۔
انہوں نے1900 میں بابو ہریش چندرکی سوانح بھی لکھی تھی ۔ 1845 میں بنارس اخبار شیو پرساد ستار ہ ہند کی مدد سے نکلا تھا ۔ مسٹر پریملندو نے بتایا کہ کاشی ناگری پرچارنی سبھا نے پہلی کتاب ’ ہندی پترکاریتا کا اتیہاس‘بھی شائع کی تھی ۔ اس کتاب کی اشاعت میں بابو شیام سندر داس اور کارتک پرساد نے مدد کی تھی ۔ یہ کتاب تقریبا 70 صفحات پر مشتمل تھی جو اب نئی تمہید کے ساتھ اور اس زمانے میں اس کتاب پر ہوئے تنقیدی جائزے کے ساتھ شائع ہو رہی ہے ۔
یو این آئی
Comments are closed.