نئی دہلی ابہام کودُورکرے توہم مکالمے کے عمل میں شامل ہونے کوتیار

حکومت ہندکی مذاکراتی پیشکش مبہم اورغیرواضح
اختلافات وتنازعات کواُجاگرکرکے پوائنٹس اسکورنہیں کرناچاہتے:مشترکہ مزاحمتی قیادت

سری نگر:۲۹،مئی:کے این این/ مشترکہ مزاحمتی لیڈرشپ نے ’’حکومت ہندکی مذاکراتی پیشکش کومبہم اورغیرواضح‘‘قراردیتے ہوئے اعلاناًکہاکہ نئی دہلی ابہام کودورکرے توہم مکالمے کے عمل میں شامل ہونے کوتیارہیں ۔بندکمرے میں طویل مشاورت کے بعدسیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اورمحمدیاسین ملک نے مشترکہ بیان میں کہا’حکومت ہنداپناموقف واضح کرے توہم یک زبان ہوکر کہتے ہیں کہ ہم مذاکراتی عمل میں شامل ہوجائیں گے‘۔سینئرمزاحمتی قائدین کاکہناتھا’مشترکہ مزاحمتی قیادت بیانات کے ذریعے اختلافات وتنازعات کواُجاگرکرکے پوائنٹس اسکورنہیں کرناچاہتی بلکہ بھارت سرکارکی ایماء ومنشاکوسمجھناچاتی ہے‘۔کشمیر نیوز نیٹ ورک (کے این این ) کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت نے مرکزی حکومت کی جانب سے پاکستان اور کشمیری حریت پسند قیادت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے رضامندی ظاہر کئے جانے ،کے حالیہ بیانات کو مبہم اور غیر واضح قرار دیتے ہوئے منگل کے روز کہا کہ اگر حکومت ہند کی جانب سے کشمیر مسئلے پر مذاکرات سے متعلق ایجنڈا واضح کیا جاتا ہے کہ تو مشترکہ قیادت مکالمے کے عمل میں شامل ہونے کو تیار ہے ۔بزرگ مزاحمتی قائد سید علی گیلانی کی رہائش گاہ واقع پیر باغ حیدر پورہ میں منگل کے روز نما زِ ظہر کے بعد مشترکہ مزاحمتی قیادت کی غیر معمولی میٹنگ بند کمرے میں شروع ہوئی ۔ذرائع نے بتایا کہ دوپہر تقریباً 2بجے سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کمرے میں داخل ہوئے اور ابتدائی لمحات کے دوران تینوں قائدین کی تصویریں کھینچی گئیں ۔ذرائع کے مطابق تینوں سر کردہ اور بااثر ترین مزاحمتی قائدین کی بند کمرے میں میٹنگ تقریباً اڑھائی گھنٹوں تک جاری رہی ،جس دوران مزاحمتی قائدین نے حکومت ہند کے ذمہ داروں بالخصوص مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی جانب سے کچھ روز قبل کشمیری حریت پسند قیادت اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو بحال کرنے کی خواہش یا رضامندی کی پیش رفت کو تفصیلی طور زیر غور لایا گیا ۔ادھر موصولہ بیان کے مطابقمتحدہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، ڈاکٹر میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے حیدرپورہ سرینگر میں ایک غیر معمولی اجلاس میں ریاست جموں کشمیر کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے کئی روز سے بھارت کے مختلف ارباب اقتدار کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے مبہم اور غیر واضح بیانات داغنے میں سبقت لینے کی کوششیں کی گئیں۔ بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ جی نے ایک ہی سانس میں حریت اور پاکستان سے مذاکرات کی ڈفلی بجاتے ہوئے کشمیر ہمارا اور کشمیری ہمارے اپنے ہیں کی راگ الاپنے میں کوئی دیر نہیں کی۔ بھارت کی وزیرِ خارجہ ششما سوراج نے مذاکرات کو پاکستان کی طرف سے بقول اُن کے دہشت گردی بند کرنے سے مشروط کردیا، بی جے پی کے صدر امیت شاہ کا فرمان ہے کہ بھارت کی طرف سے رمضان جنگ بندی صرف لوگوں کے لیے ہے نہ کہ عسکریت پسندوں کے لیے، جبکہ قابض پولیس انتظامیہ کے ڈائیریکٹر جنرل یہ نوید سنارہے ہیں کہ جنگ بندی مجاہدین کی گھر واپسی کے لیے ہے۔بیان کے مطابق مزاحمتی قیادت بھارت کے اربابِ اقتدار سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ ان کھلے تضادات کے ماحول میں مذاکرات کی آخر کونسی صورت باقی بچ پاتی ہے جس سے مسئلہ کشمیر کو حل کیا جاسکتا ہے۔ مزاحمتی قیادت مذاکرات برائے مذاکرات کی قائل نہیں ہے، بلکہ اپنے واضح موقف اور غیر مبہم طریق کار پر کاربند ہوتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ کشمیر کے موقعے پر مسئلہ کشمیر کو امن اور ترقی کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے تاریخی تناظر کو نظرانداز کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس نام نہاد امن کو قائم ودائم رکھنے کے لیے ریاست کو لاکھوں کی تعداد میں بھارت کے قابض افواج کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں یہاں کے لوگوں کی زندگی جہنم زار بنی ہوئی ہے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے ریاست کی موجودہ گھمبیر صورتحال میں بھارتی وزیر اعظم کے نعرۂ امن وترقی کو ایک مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اختیار کردہ موقف بھی اس کے اپنے وزیر داخلہ، وزیر خارجہ یا بی جے پی صدر امیت شاہ کے موقف کے ساتھ میل نہیں کھاتا ہے۔ مشترکہ قیادت نے بھارت کی موجودہ برسرِ اقتدار قیادت کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے بانت بانت کی بولیاں بولنے کی بنیادی وجہ اُن کی طرف سے اگلے سال آنے والے پارلیمانی الیکشن میں اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی خاطر محض ایک چال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی قیادت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر بھارت کی مذاکرات کی رٹ کو کس طرح سنجیدگی سے لیا جاسکتا ہے، جبکہ مذاکرات کے حوالے سے ان کے قول وفعل میں بھی ہمالیائی تضاد موجود ہے۔بیان کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت کو اپنی قوم کی عظیم قربانیوں کا انتہائی شدت کے ساتھ احساس ہے کہ اس قوم کو پچھلے 70برسوں سے بھارت کے قابض استبدادی قوتوں سے بہت مار کھانی پڑی ہے، لہٰذا مسئلہ کشمیر کے آبرومندانہ حل کے لیے ان کے دلوں کے اندر ایک انمٹ تڑپ موجود ہے۔ ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہونے کی بناء پر مشترکہ مزاحمتی قیادت یہ محسوس کرتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا بھارتی نکتہ نظر کے مطابق فوجی حل قابل قبول نہیں ہوسکتا، البتہ اس کا سیاسی اور دائمی حل تلاش کرنے کے لیے بھارت، پاکستان اور کشمیری قیادت کو ایک ہی میز پر آنے کی سخت ترین ضرورت ہے جس کے لیے مزاحمتی قیادت ہمیشہ تیار ہے۔ مزاحمتی قیادت یہ بھی محسوس کرتی ہے کہ چونکہ ریاست اس وقت دو حصوں میں منقسم ہے، لہٰذا مسئلہ کشمیر کے تینوں فریقوں میں سے ایک فریق کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ایسے دوطرفہ مزاکرات آج تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے ہیں۔ مزاحمتی قیادت حکومت ہند کو یہ مشورہ دینا مناسب سمجھتی ہے کہ مزاکرات کے حوالے سے بانت بانت کی بولیوں اور مبہم آمیز لب ولہجے میں بات کرنے کے بجائے واضح طور پر مسئلہ کشمیر کے دائمی تصفئیے کے لیے سہہ فریقی مزاکرات کے لیے ماحول کو سازگار بنائے جائے تو مزاحمتی قیادت ایسے سنجیدہ مذاکرات میں شامل ہونے میں دیر نہیں کرے گی۔

Comments are closed.