آسیہ اور نیلوفر کوانصاف دلانے میں دیر کیوں؟:زمردہ حبیب
سرینگر:۲۹،مئی:/ کشمیر تحریک خواتین کی طرف سے شوپیان کی آسیہ اور نیلو فر کو اُن کی نویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پرتاب پارک میں خاموش احتجاج کیا گیا اور شہید آسیہ اور نیلو فر کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں۔ اس موقعہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کشمیر تحریک خواتین کی سربراہ زمردہ حبیب نے کہا کہ ہرایک چیز پر سیاست کرنا ٹھیک نہیں ہے جبکہ بیٹیوں کی عفت کی بات ہو۔ سیاسی شعبدہ بازی کو چھوڑ کر ضمیر کو جگاکر حقایق کو تسلیم کرنا ہی بہتر ہے آخر کب تک حقایق سے آنکیں موند لی جائے گیں۔آسیہ اور نیلو فر کو خراج تحسین پیش کرتے زمردہ حبیب نے کہا کہ آسیہ اور نیلوفر کے دہرے قتل و عصمت ریزی کے نو سال گذر جانے کے با وجود ہماری ان بیٹیوں کو انصاف نہیں ملا۔ ہند نواز سیاست داں جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو ایسے سانحوں پر اشک باری کرتے ہیں اور مگر مچھ کے آنسوں بہاتے اور سینہ کوبی کرتے ہیں اور اقتدارمیں آنے کے بعد کوئی بھی معمہ حل نہیں ہوتا بلکہ معمہ ہی رہ جا تا۔زمردہ حبیب نے سانحہ آسیہ اور نیلوفر کے سانحہ کے کردار ابھی تک آزاد گھوم رہے ہیں جو نہایت ہی کرب ناک ہے ۔ اُس وقت کے حکمران نیشنل کانفرنس نے ملوثین کو ایک منصوبے کے تحت بچایا اور اس طرح مظلوموں کو انصاف نہ ملنے کی وجہ سے اُن تمام تحقیقاتی کمیشنوں پر سے عوام کا بھروسہ مکمل طور اُٹھ گیا جو انصاف فراہم کروانے اور ملوثین کو بے نقاب کر نے میں مدد گار ثابت ہو سکتیں تھیں۔ زمردہ حبیب نے کہا مسلح بھارتی افواج کی کثیر تعداد اور سیاسی شبدہ باز ہند نواز سیاست دانوں کی موجود گی میں نہ تو ہماری ماں بہنوں کی عفت محفوظ ہے اور نہ ہمارا مال وجائیداد۔ بھارت افواج اب ہماری معصوم لڑکیوں کو بد کاری کی طرف راغب کرتے ہیں جو نہایت سنگین مسلہ ہے۔ کشمیر دنیا کا سب سے بڑا ملٹری زون ہونے کی وجہ سے ہماری بیٹیاں کسی بھی طرح محفوظ نہیں اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس زون کو کثیر فوجیوں سے پاک کیا جائے اور حکومت ہند فوجی انخلاء شروع کرے اور ہم اپنی بہو بیتیوں کو محفوظ ماحول فر ہم کر سکے۔ زمردہ حبیب نے آسیہ اور نیلو فر کو انصاف نہ ملنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے کہا کہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں عروج پر ہیں اور پچھلے کئی دہائیوں سے یہاں جاری ظلم و جبر تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے ، یہاں انسانی حقوق کی صرف پامالیاں ہی نہیں ہو رہی ہے بلکہ ہمارے حقوق کو پاوٗں تلے روندہ دیا جاتا ہے۔ ہم خاتون سی۔ایم مفتی صاحبہ سے اُن کا کیا ہواوعد یاد دلانا چاہتے ہیں جس میں اُنہوں نے متاثرین سے انصاف دلانا کے لئے کہا تھا۔ صنف نازک ہونے کی وجہ سے وہ آسیہ اور نیلوفر جو درندگی کا شکار ہوئیں کا درد و کرب اچھی طرح سے سمجھ سکتی ہے اور انصاف دلانے میں اب زیادہ وقت ضایع نہیں کریگی اس کی اُمید کی جاسکتی ہے۔
Comments are closed.