کشمیری عوام کو اپنے جائز حق سے محروم رکھا گیا :جماعت اسلامی

سرینگر:۲۹،مئی:/ جماعت اسلامی جموں وکشمیر ریاست اور بیرون ریاست کی جیلوں میں کشمیری نظربندوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جملہ سیاسی نظربندوں کی غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ ایڈوکیٹ زاہد علی ترجمان اعلیٰ جماعت اسلامی کی جانب سے موصولہ بیان کے مطابق کشمیری محبوسین کی نظربندی کو صرف اس لیے طول دیا جارہا ہے کہ کیوں کہ وہ کشمیری عوام کی خواہشات اور اُمنگوں کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں جو ’حق خودارادیت‘جیسے مسلمہ حق سے صدیوں سے محروم رکھے گئے ہیں۔ بھارتی حکومت اپنے اُن تمام وعدوں کے ساتھ وفا کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے جو اس ملک نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی وساطت سے دنیا کے سامنے کئے تھے اور آج بھی نہتے کشمیریوں پر ظلم و جبر کی کلہاڑی کااستعمال کرکے ان وعدوں سے منہ پھیر رہا ہے۔اس سلسلے میں جو بھی کشمیری اپنے بنیادی حق ’حق خودارادیت‘ کی بازیابی کا مطالبہ کرتا ہے یا تو اُسے ملک دشمن تصور کیا جاتا ہے یا پھر اُسے امن و قانون کے لیے خطرہ تصور کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ہر اُٹھنے والی آواز کو پابند سلاسل کردیا جاتا ہے۔ سرکاری اہلکار ایسی آواز کو دبانے کی خاطر انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں انجام دینے کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح بے گناہ کشمیریوں کو من گھڑت الزامات کے تحت گرفتارکرکے جیلوں کے اندر ٹھونس دیا جاتا ہے۔نیز اس مبنی بر صداقت آواز کو دبانے کی خاطر عام لوگوں پر بلاجواز اور بدترین تشدد روا رکھنے کے علاوہ متعدد کالے قوانین کا سہارا لیا جارہا ہے جس کی پاداش میں سیول و پولیس اہلکار کشمیریوں کو اپنی جدوجہدو سے دستبردار کرنے کے لیے مجبور کررہے ہیں۔ اس دوران انتقامی کارروائی کے تحت بے شمار کشمیری نظربندوں جن میں ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، مقصود احمد بٹ، محمد امین ڈار، غلام قادر بٹ، محمد ایوب ڈار، نذیر احمد شیخ، غلام محمد بٹ، برکت علی خان، محمد اقبال خان، محمد صادق، فیروز احمد، محمد اسلم، شیخ عمران، محمد سعید بٹ، فیاض احمد شاہ، شوکت احمد خان، محمد عقیل وانی، گل محمد خان، مشتاق احمد خان، محمد حسین ملک، محمد امین وانی، محمد اسحاق پالہ، مشتاق احمد ملہ، شبیر احمد بٹ، عبدالاحد نائیک، منظور احمد بٹ، ناصر مرزا، بلال احمد کٹہ، لطیف احمد وازہ، دانش مشتاق، شوکت احمد وکیل، نثار احمد گنائی اور رئیس احمد میر شامل ہیں کو وادی کی جیلوں سے منتقل کرکے بیرون ریاست کی جیلوں میں پابند سلاسل کردیا گیا جہاں اُن کے ساتھ نارروا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں سرینگر اور مٹن کی جیلوں میں بھی ایسے کئی نظربندجرم بے گناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں جن میں امیر ضلع سرینگر بشیر احمد لون اور امیر تحصیل بجبہاڑہ گلزار احمد شال ہیں۔ ادھر تہار جیل میں بھی حریت راہنما شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، شاہد الاسلام، ایاز اکبر، معراج الدین کلوال،پیر سیف اللہ وغیرہ عوامی خواہشات کی ترجمانی کرنے کی پاداش میں اپنے محبوسیت کے دن کاٹ رہے ہیں۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر جملہ سیاسی نظربندوں کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جیلوں میں کشمیری سیاسی نظربندوں کو تمام بنیادی سہولیات بہم پہنچانے کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔

Comments are closed.