رمضان المبارک کا مقدس مہینہ روحانی فوائد کا حامل :میر واعظ

قرآن ایک مکمل فطری دستور حیات ، اس کے تمام تر مفاہیم کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت

سرینگر:۲۹،مئی: میرواعظ عمر فاروق نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کوبہار قرآن اور تمام مسلمانوں کے لئے بحیثیت مجموعی بے شمار طبی اور روحانی فوائد کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مہینہ جہاں تقویٰ ، پرہیزگاری ، نیکیوں کی جانب رغبت ، برائیوں سے پرہیز اور اپنی خواہشات کو اللہ کے تابع کرنے کا جذبہ عطا کرتا ہے وہیں یہ مہینہ ایک روزہ دار کو قرآن کریم کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کا درس دیتا ہے کیونکہ رمضان المبارک کو قرآن مجید کے ساتھ خصوصی نسبت اور تعلق ہے ۔کے این این کوبھیجے گئے بیان کے مطابق رمضان المبارک کے عشرہ مغفرت میں مجالس وعظ و تبلیغ کے سلسلے میں مسجد شریف ٹینگہ پورہ زونی مر میں نماز عصر سے قبل ایک بڑے دینی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ قران کریم سمیت تمام آسمانی کتابیں اسی مہینے میں نازل ہوئی ہیں اور اسی مہینے کی ایک رات (لیلۃ القدر) ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ اس مقدس مہینے میں جہاں قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا بے پناہ اجر و ثواب کے ساتھ ساتھ اطمینان سکون اور ایمان کی زیادتی کی دولت سے مالامال ہوتا ہے وہیں قرآن جو ایک مکمل فطری دستور حیات مہیا کرتا ہے کو اس کے تمام تر مفاہیم کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ قرآن مجید کو سمجھے بغیر اس مقد س کتاب کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا۔ میرواعظ نے ناروہ پلوامہ میں عسکریت پسندوں کے ساتھ تصادم کی آڑ میں ایک نہتے شہری بلال احمد گنائی کو جان بحق کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں تعینات سرکاری فورسز کسی بھی جواب دہی کے عمل سے مستثنیٰ ہے اور انہیں نہتے لوگوں کو قتل کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر سے عبارت پالیسیاں ایک مبنی برحق جدوجہد میں مصروف عوام کو دبانے کیلئے رچائی جارہی ہے تاہم اس طرح کے حربے نہ ماضی میں یہاں کے حریت پسند عوام کے حوصلوں کو کمزور کرسکے ہیں اور نہ اب کے ا س طرح کی جارحانہ پالیسیاں کشمیری حریت پسند عوام کواپنی مبنی برحق جدوجہد سے دستبردار کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں ۔ میرواعظ نے ترکہ وانگام شوپیاں اور سوگن شوپیاں میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے نہتے عوام پر جبر و قہر کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ علاقے میں فوجیوں نے گھروں کی توڑ پھوڑ ، مکینوں کی شدید مارپیٹ، اسباب خانہ کو تہس نہس حتیٰ کہ اہل سرگرم عسکریت پسند زینت الاسلام کے نجی سیب کے درختوں کو بھی تہہ تیغ کرنے سے گریز نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان کی جانب سے کشمیر میں جنگ بندی کے اعلان کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ماہ رمضان کے مقدس ایام میں جس طرح بے لگام فورسز نے نہتے لوگوں پر قہر برپا کیاوہ حکمرانوں کی اصلی سوچ اور پالیسی کا عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں قابض فوج خود کو حاصل بے پناہ اختیارات کا بڑی بے دردی کے ساتھ استعمال کررہی ہے اور لوگوں کو اپنے جبر و تشدد کا نشانہ بنانا ان فورسز کی روز کی سرگرمیوں میں شامل ہے ۔ میرواعظ نے ۲۰۰۹ء میں شوپیاں میں کشمیر کی دو بیٹیوں اور آسیہ اور نیلوفر کے ساتھ پیش آئے انسانیت سوز واقعہ کی برسی پر اس المناک واقعہ کی تحقیقات کے حوالے سے بھارتی تحقیقاتی اداروں کی من گھڑت رپورٹ کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کو غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بجائے جس طرح اس واقعہ کو تمام تر حقیقتوں کے ساتھ چھپایا گیا وہ کشمیریوں کے تئیں عدل و انصاف کے ضمن میں رچائی جا رہی ناانصافیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ سانحہ شوپیاں، کنن پوشپورہ اور اس جیسے درجنوں ایسے سانحات ہیں جن میں ملوث مجرمین نہ صرف اب تک آزاد گھوم رہے ہیں بلکہ ان واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بجائے ان واقعات کی اصلیت کو قصداً دبایا گیا ۔ میرواعظ نے حقوق بشر کے عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کے تئیں ہو رہی نا انصافیوں کا سنجیدہ نوٹس لیں۔

Comments are closed.