مسئلہ کشمیر پر مرکز خلوص نیت سے بات چیت شروع کرے :ساگر
مسئلہ کشمیر کا پائیہ دار حل ہند پاک دوستی کی مضبوطی میں مضمر،این سی اپنے موقف پر کار بند
سرینگر:۲۹،مئی:/ اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس نے کہاہے کہ مرکز خلوص نیت اور صدقہ دلی سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بات چیت شروع کرے۔پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیہ دار حل ہند پاک دوستی کی مضبوطی میں مضمرہے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق نیشنل کانفرنس اور اس کی عظیم اورپُر خلوص قیاد ت روز اول سے ہی مسئلہ کشمیر کو سیاسی نظریہ کے تحت حل کرنے کی وکالت کرتے آئی ہے اور اس اصول پر گزشتہ آٹھ دہائیوں سے اپنے موقف پر کار بند ہے ۔ بار بار امن بات چیت اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے بنیادے فریقوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا دعوی اور اعلانات اب تک عملی طور پر عمل میں نہ لائے گئے اور نہ ہی ان دعوی اور اعلانات پر عمل پیرا ہوئے ۔ حالانکہ سابق مرکزی حکومتوں نے ریاست کے تینوں خطوں میں اپنے مزاکرات اور وفود آتے رہے لیکن سب بے سود ثابت ہوئے ان باتوں کا اظہار پارٹی کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ علی محمد ساگر نے پارٹی ہیڈ کواٹر پر پارٹی عہدیداروں اور پارٹی کارکنوں کے اجلاس کیا ۔ انہوں نے کہا نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ صدقہ دلی سے اور نیک نیتی سے امن بات چیت پائے تکمل پہچانے میں ہر ممکن کوشش کی اور ہر ایک مذاکرات ٹیم کو کھلے ذہین سے عزت افزائی کی اور پارٹی کی نیک مشوروں ، تجاویزات کو تحریری طور پر بھی آگاہ کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس جماعت نے صدر جمہوریہ ہندجو آج تک ملک کے صدر رہے ، وزیر اعظموں جو آج تک وزیر اعظم کے عہدے پر بر سرکار رہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم عہدے پر برسرکار رہے اور وزیر داخلوں جو آج تک ملک کے داخلہ رہے ہمیشہ انہیں مسئلہ کشمیر کے حل کا مطالبہ کیا اور انہیں آئین کشمیر اور آئین ہندوستان کے تحت ہند کے جو آئینی اور جمہوری مراعات اہل کشمیر کو اٹانوامی کے تحت دئے گئے اور وہ بھی دفعہ 35 اے اور 370 اور دہلی ایگریمنٹ اور 1952 پوزیشن کے تحت بحال کرنے کی با ر بار مانگ کی اور جو اٹونامی ریاستی اسمبلی میں ایک تہائی اکثریت پاس کی گئی ہے لیکن بدقسمتی سے مرکز نے ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ انصاف نہ کیا اور ہمارے ساتھ وعدوں کے ساتھ وفا نہ کیا گیا بلکہ اس کے برعکس ہمیں اپنی جمہوری اور آئینی حقوق سے آہستہ آہستہ محروم کر رکھا اور دفعہ 370 کو اپنی مندپسند کٹ پتلی حکومتوں سے کھوکھلا بنا دیا جس کی وجہ سے آج ہر کشمیری کے دل میں نفرت اور بھروسہ اٹھاگیا ہے ۔جس کی وجہ آج ریاست میں تباہ کن حالات سے ریاست کے لوگ گزر رہے ہیں۔گزشتہ چار سالوں کی مرکزی سرکار اور ریاستی سرکار نے اہل کشمیر پر جنگ چھیڈ دی ہے ، خونانی واقعات اور بے قصور اور عام شہریوں کی ہلاکتیں معمول بن گیا ہے ۔ نوجوانوں کے دلوں میں قلم دوات اور بی جے پی کے سرکار کے خلاف نفرت کی آگ بڑھ رہی ہے کیونکہ نوجوانوں کی نسل کشمیر اس سرکار کے ماتھے پر بد نماں داغ نصب ہوا ہے ۔ انہوں نے مرکزی سرکار سے اپیل کی کہ وہ ابھی سنہری وقت سمجھ کر مسئلہ کشمیر کو سمجھ کر افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی پہل کرے ورنہ حالات اور بگڈنے کا اندیشہ جس کی ذمہ داری آپ پر ہے ۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ نیک نیتی اور خلوص دل سے بات شروع کرے تاکہ ریاست میں ریاست کے ساتھ ساتھ برصغیر میں امن ومان قائم ہوسکیں۔ اجلاس میں پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال ، صدر صوبہ کشمیر ناصر اسلم وانی ، ممبران قانون سازیہ ، شمیمہ فردوس ، علی محمد ڈار، سینئر نائب صدر حاجی محمد سعید آخون، صدر ضلع پیر آفاق احمد، عمران نبی ڈار، جگدیش سنگھ آزاد، مبارک گل اور صدر صوبہ یوتھ سلمان علی ساگر نے بھی خطاب کیا اور ان لیڈران نے کہا کہ موجودہ آر ایس میڈ قلم دوات سرکار ہر محاظ پر ناکام ہوچکی ہے ۔ ریاست کا چپہ چپہ خوف و ہراس کے بھنور میں پھنس گیا ہے لوگوں کی اقتصادی اور معاشی حالات دن بہ دن بگڑتے جارہے ہیں ۔ انتظامیہ مفلوج اور پوری سرکار کرپشن میں ڈوب گئی ہے اور کنبہ پروری عام ، اقراء پروری عام ، یہ گٹالوں کی سرکار ہے اور صوبہ جموں میں فرقہ پرستی عام روحجاں بڑھانے میں اس سرکار کا اہم رول ہے اور درپردہ ناگپور اور امیت شاہ کے احکامات پر کام کر کے اپنی سرکار فوج کے بلبوتے پر چلا رہی ہے ۔ موجودہ خاتون وزیر اعلیٰ نے عوامی مینڈیٹ پہلے ہی کھو دیا اور اب دہلی سرکار کے آقاؤں پر کھڑی ہے کیونکہ اہل کشمیر اس خاتون وزیر اعلیٰ کے دور میں نوجوانوں کی نسل کشی ہزاروں کو جسمانی طور پر ناخیز اور نوجوانوں کا تحریک کرنے میں کوئی کثر باقی نہ رکھی ملت کی انگنت بیٹیوں کو اندھا بنا دیا گیا اور ملت کے نوجوان پود کو بھی آنکھوں کی بسیرت سے محروم کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اہل کشمیر اس نا اہل اور ظالم و جابر سرکار سے فلفور چھٹکارا پانا چاہتے ہیں اور اسی لئے گورنر راج بھی مطالبہ کیا ہے۔لیڈران نے مسئلہ کشمیر کے پائیہ دار حل کا واحد حل ہند پاک دوستی کی مضبوطی میں مضمر قرار دیا ہے اس لئے ہندوستان کو فوری طور پر پاکستان سے امن بات چیت کرنا چاہئے لیکن اس بات چیت میں کشمیری رہنماؤں کی شرکت اول لازم ہے کیونکہ کشمیری عوام ہی اس سرزمین کے مالک اور اولین فریقین ہے ۔ انہوں نے صغیر رپورٹ پر فوری عمل کرنے کی بھی اپیل کی اور جو سابقہ مرکزی مذاکرات نے اعتماد سازی میں سرعت لانے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے اور کشمیریوں کو آٹانوامی دینے کی وکالت کی ہے اس پر فوری عمل کی جائے۔
Comments are closed.