خشک موسمی صورتحال کا شاخسانہ: دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں ریکارڈ کمی واقع

سرینگر، 14 جنوری

کشمیر میں خشک موسمی صورتحال کے بیچ جہاں جملہ شعبہ ہائے حیات متاثر ہو رہے ہیں وہیں آبی ذخائر خاص طور پر دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں ریکارڈ کمی سے واقع ہونے سے لوگوں خاص طور پر کسانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

وادی کے معروف ماہر موسمیات فیضان عارف کے مطابق اہم اور تاریخی دریائے جہلم میں جنوبی کشمیر کے سنگم علاقے اور شمالی کشمیر کے اشم علاقے میں پانی سطح میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔سنگم کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی سطح 0.77 فٹ تک گر گئی ہے۔قبل ازیں نومبر سال 2017 میں سنگم میں دریائے جہلم کی سطح 0.75 فٹ تک گر گئی تھی جبکہ شمالی کشمیر کے اشم میں جہلم میں پانی کی سطح 0.86 تک گر گئی ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق رواں سیزن کے ماہ دسمبر میں سری نگر میں صرف 18 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو انتہائی کم ہے جبکہ ما جنوری بھی فی الوقت خشک ہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی میں 24 جنوری تک موسم خشک رہنے کا ہی امکان ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ قبل ازیں سال 2016 میں وادی میں طویل مدت تک موسم خشک رہا اور اس دوران صرف 3 ملی میٹر بارشیں ہی ہوئی تھیں، تاہم اس دوران آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں اس قدر کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔

اعدادوشمار کے مطابق اس سے قبل 1981، 1988اور2005 میں بھی موسم خشک رہا تاہم اس دوران آبائی ذخائر خشک نہیں ہوئے نہ جہلم کی سطح آب میں زیادہ کمی ہوئی۔ادھر پانی کے ذخائر میں پانی کم ہونے کے نتیجے میں لوگوں بالخصوص کسانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ خشک موسمی صورتحال سے آنے والے مہینوں میں پانی کی قلت کے باعث کھیتی باڑی پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی میں جاری موجودہ موسمی صورتحال سے دونوں ایگریکلچر اور ہارٹیکلچر کے شعبے متاثر ہوسکتے ہیں۔دوسری طرف وادی میں جاری خشک موسمی صورتحال کے نتیجے میں وادی کشمیر کے جنگلی علاقوں میں آگ نمودار ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ہفتے کی شام کو سری نگر اور جنوبی کشمیر کے متعدد جنگلی علاقوں سے آگ نمودار ہوئی جس نے وسیع الریض علاقے کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔یو این آئی

Comments are closed.