شعبہ صحت میں ٹرانسفر پالیسی پر ضابطے کے تحت عمل درآمد نہیں ہورہا ہے /ڈاکٹر ایسوسی ایشن

اثر رسوخ رکھنے والے ڈاکٹر صاحبان دہائیوں سے اپنی من پسند جگہوں پر تعینات

0 40

سرینگر : شعبہ صحت میں ٹرانسفر پالیسی پر صحیح طریقے سے عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے وادی میں شعبہ صحت بُری طرح سے متاثر ہوگیا ہے جبکہ سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے ڈاکٹر دہائیوں سے اپنی من پسند جگہوں پر تعینات ہیں جس کی وجہ سے دو ردراز علاقوں میں قائم طبی مراکز کا حلیہ بگڑ چکا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وادی کشمیر میں شعبہ صحت کی ٹرانسفر پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے اور اس کی خلاف ورزی کی وجہ سے شعبہ صحت بُری طرح سے متاثرہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر دہائیوں سے ڈاکٹر اپنی من پسند جگہوں پر تعینات ہیں جن کی تبدیلی کیلئے شعبہ کوئی کارراوئی نہیں کررہا ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ وادی کشمیر کے دو ر دراز علاقوں میں قائم طبی مراکز میں ڈاکٹروں کی کمی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہیلتھ شعبہ میں ٹرانسفر پالیسی مرتب کرنے کا غرض یہ تھا کہ دور دراز علاقوں میں لوگوں کو بہتر علاج و معالجہ مئیسر ہوتاہم اثر رسوخ رکھنے والے ڈاکٹروں کو اپنی من پسند جگہوں پر بھیجا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن کے مطابق ٹرانسفر پالیسی کے تحت ایک جگہ ایک ڈاکٹر کم سے کم دو برس اور زیادہ سے زیادہ تین برس تک تعینات رہ سکتا ہے تاہم یہاں کی صورتحال ہی دوسری ہے یہاں پر ڈاکٹر صاحبان اپنی سہولیات کیلئے دہائیوں سے ایک ہی جگہ پر کام کررہے ہیںاور اگر ان کی تبدیلی کے احکامات صادر کئے جاتے ہیں تو محض ایک فون کال کے بعد ہدایات نامہ واپس لیا جاتا ہے اور ٹرانسفر روک دی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آر بی اے کیٹیگری میں آنے والے ڈاکٹروں کو اپنے علاقوں میں کم سے کم سات برس تک کام کرنا لازمی ہے تاہم دور دراز علاقوں سے آنے والے ڈاکٹر اپنے علاقوں میں کام کرنا ہی پسند نہیں کرتے جس کے نتیجے میں دور دراز علاقوں کے لوگ شہروں اور قصبہ جات میں جاکر علاج کرنے پر مجبور ہورہے ہیں ۔

تبصرے
Loading...