۔ ڈاکٹر نثارالحسن:دوساز کمپنیاں ڈاکٹروں کو مہنگے تحائف دیکر مہنگی ادویات لکھواتے ہیں: ڈاکٹر نثارالحسن

ڈاکٹروں کو جنرک ادویات تفویض کرنے کا پابند بنانے کیلئے قانون وضع کرنے کی ضرورت

0 55

سرینگر: ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہاہے کہ وادی کشمیر میں ڈاکٹروں کو عام اور سستی دوائیوں کو تفویض کرنے کا پابند بنایاجانا چاہئے اور اسکے لئے قانون وضع ہونا چاہئے کیوں کہ وادی کشمیر میں غریب مریض مہنگی ادویات خریدنے کی طاقت نہ رکھنے کی وجہ سے علاج ادھورا ہی چھوڑ دیتے ہیں ۔ جبکہ نامی گرامی کمپنیوں کی طرف سے معالجین کو مہنگے تحائف حاصل ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر صاحبان ہر کسی مریض کو نامی گرامی ادویات کمپنیوں کی مہنگی ادویات لکھتے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ڈاکٹرس ایسو سی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے اس بات پر سخت تشویش کااظہار کیا ہے کہ وادی کشمیر میں اکثر ڈاکٹر صاحبان دوران علاج و معالجہ مریضوں کو( برینڈڈ )نامی گرامی کمپنیوں کی مہنگی دوائی لکھ کے دیتے ہیں ۔انہوںنے کہا کہ ڈاکٹروں کو جنرل ادویات تفویض کرنے کا پابند بنانے کیلئے قانون وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عام مریضوں کو ڈاکٹر محض اپنے مفاد کی خاطر مہنگے داموں ادویات خریدنے پر مجبور نہ کیا جاسکے ۔ انہوںنے کہا کہ جموں کشمیر سرکار کو چاہئے کہ وہ اس حوالے سے اپنا قانون پاس کریں کیوں کہ ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کے تحت یہاں کی قانون سازیہ ایسا کرسکتی ہے ۔انہوںنے کہا کہ قانون کی وجہ سے غریب مریض ایسے ادویات حاصل کرسکتے ہیں جو کہ وہ قیمتی ہونے کی وجہ سے خرید نہیں سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ یکساں سستے داموں والی ادویات دستیاب ہوں گی تو مہنگی دوائی لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ قیمتی ادویات لکھنے کی عوض میں دواساز کمپنیاں ڈاکٹروں کو مہنگے تحائف پیش کرتی ہے جن میں مہنگی گاڑیاں ، فیملی ٹرپ،گھریلو اشیاء ایل سی ڈی،کمپوٹر، سکوٹی اور دیگر چیزیں شامل ہیں جبکہ دکانداروں کو بھی مہنگی ادویات میں کافی منافع ہوتا ہے جو کہ سستی دوائیوں میں انہیں حاصل نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ دوائی ساز کمپنیوں اور ڈاکٹروں کے مابین ساز باز کی وجہ سے ہی وادی میں جنرک ادویات سے غریب مریض دور ہوتے چلے گئے کیوں کہ جنرل ادویات کے بارے میں عوام کو غلط تاثر دیا گیا ۔ انہوںنے کہا کہ Lyricaایک دوائی جو کہ نیرو کے مرض میں مریضوں کو دی جاتی ہے 14گولیوں کی قیمت 70روپے جنرک میں ہے اور مہنگی کمپنیوں کی یہی دوائی 842روپے میں بازاروں میں دستیاب ہے دوسری دوائی Glivecجو کہ بلڈ کنسر کے مریضوں کو دی جاتی ہے جو مریض کو ماہانہ 1.2لاکھ روپے میں دی جاتی ہے جبکہ یہی دوائی جنرک محض 8000روپے کی ہوتی ہے ۔

تبصرے
Loading...