یوگی-مینکا-مایاوتی-اعظم پر تو لگ گئی پابندی، کیا پی ایم مودی کے خلاف ہمّت دکھائے گا انتخابی کمیشن!

0 96

سپریم کورٹ نے منگل کو جیسے ہی انتخابی کمیشن کو ہدایت دی کہ اس کے افسر آ کر عدالت کو بتائیں کہ آخر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کارروائی کیوں نہیں ہو رہی ہے، اس کے چند گھنٹے کے اندر ہی کمیشن نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، مرکزی وزیر مینکا گاندھی، سماجوادی پارٹی لیڈر اعظم خان اور بی ایس پی سپریمو مایاوتی کے انتخابی تشہیر کرنے پر روک لگا دی۔ مایاوتی اور مینکا گاندھی پر 48 گھنٹے جب کہ یوگی آدتیہ ناتھ اور اعظم خان پر 72 گھنٹے کی روک لگائی گئی ہے۔ لیکن اسی قسم کی شکایتیں تو وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بھی ہوئی ہیں، ان کے خلاف انتخابی کمیشن میں خاموشی کیوں چھائی ہوئی ہے اس کی کسی کو خبر نہیں۔ اس خاموشی کو مشتبہ خاموشی تصور کیا جا رہا ہے۔

دراصل یوگی آدتیہ ناتھ نے 9 اپریل کو ایک تقریر میں کیرالہ میں یو ڈی ایف میں شامل انڈین یونین مسلم لیگ کو ‘ہرا وائرس’ کہا تھا اور ہندو-مسلم ووٹروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علی-بجرنگ بلی والا بیان دیا تھا۔ اس سے پہلے مایاوتی نے بھی ایک انتخابی جلسہ میں مسلمانوں سے ووٹ کی اپیل کی تھی۔ لیکن یوگی کے ذریعہ علی-بجرنگ بلی والا بیان دینے کے بعد مایاوتی نے پھر سے 13 اپریل کو کہا تھا کہ علی اور بجرنگ بلی دونوں ہی ایس پی-بی ایس پی اتحاد کے ساتھ ہیں۔ انہی بیانات کو بنیاد بناتے ہوئے انتخابی کمیشن نے ان دونوں لیڈروں کے انتخابی تشہیر کرنے پر روک لگا دی ہے۔ اس روک سے دوسرے مرحلے کے لیے تشہیر پر کافی اثر پڑ سکتا ہے کیونکہ دوسرے دور کی ووٹنگ کے لیے تشہیر کا آخری دن منگل کو ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ جب 48 گھنٹے کی روک کے بعد 19 اپریل کو مایاوتی پھر سے انتخابی تشہیر کریں گی تو کس طرح کے بیانات سامنے آتے ہیں۔

یوگی اور مایاوتی پر پابندی لگانے کے کچھ گھنٹوں بعد یوگی کابینہ میں وزیر مینکا گاندھی اور سماجوادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ دراصل اعظم خان نے رام پور سے بی جے پی امیدوار جیہ پردا کے متعلق نازیبا کلمات کہے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ میں 17 دنوں میں سمجھ گیا کہ ان کی انڈر ویئر کا رنگ خاکی ہے۔ اس بیان کے بعد جیہ پردا نے بھی جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اعظم خان کو لوک سبھا انتخاب نہیں لڑنے دیں گی۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگوں نے اعظم خان کے اس بیان کی پرزور تنقید کی تھی۔ دوسری طرف مینکا گاندھی نے گزشتہ دنوں مسلم سماج کو لے کر متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ اگر مسلمان انھیں ووٹ نہ کریں تو بھی انھیں فرق نہیں پڑے گا۔

اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر پی ایم نریندر مودی کے معاملے پر انتخابی کمیشن کیوں نرم روی اختیار کر رہا ہے۔ کیا پی ایم کے لیے انتخابی ضابطہ اخلاق کے قوانین الگ ہیں؟ غور طلب ہے کہ پی ایم مودی نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ”کانگریس نے ہندوؤں کی بے عزتی کی۔ لوگوں نے اب اسے سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس پارٹی کے لیڈر اکثریت آبادی (ہندو) والی سیٹوں سے انتخاب لڑنے میں ڈرنے لگے ہیں۔ اسی لیے اب وہ ایسی جگہ سے انتخاب لڑ رہے ہیں جہاں اکثریتی آبادی کم تعداد میں ہیں۔” مہاراشٹر کے وردھا میں ہوئی پی ایم کی اس ریلی کی تقریر کا ملک بھر کے میڈیا نے براہ راست نشریہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم پلوامہ شہیدوں کے نام پر بھی ووٹ لگاتار مانگ رہے ہیں۔ ان کی تقریروں میں ہندوستانی فوجوں اور بالاکوٹ میں ہوئی ائیر اسٹرائیک کا بھی تذکرہ رہتا ہے۔ یہاں دلچسپ یہ ہے کہ انتخابی کمیشن نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے سامنے بے بس ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ”اس معاملے میں انتخابی کمیشن کے اختیارات بے حد محدود ہیں… ہم نوٹس جاری کر سکتے ہیں اور جواب مانگ سکتے ہیں، لیکن کسی پارٹی یا امیدوار کو نااہل قرار نہیں دے سکتے۔ مایاوتی کو اپنا جواب 12 اپریل تک دینا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا… ہم صرف مشورہ ہی جاری کر سکتے ہیں اور بار بار کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ہم ایک شکایت درج کراتے ہیں…۔”

اس معاملے میں داخل عرضی پر سماعت کے دوران عرضی دہندہ کی طرف سے پیش سینئر وکیل سنجے ہیگڑے سے عدالت نے پوچھا کہ کیا یہ صحیح ہے کہ فرقہ وارانہ جذبات مشتعل کرنے پر الیکشن کمیشن صرف اتنا ہی کر سکتا ہے، سنجے ہیگڑے نے عدالت کو بتایا کہ آئین کی دفعہ 324 کے تحت انتخابی کمیشن کے پاس کافی اختیارات ہیں۔

اس درمیان این ڈی ٹی وی کو دیے ایک انٹرویو میں چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑا نے اس بات کو دہرایا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے معاملے میں انتخابی کمیشن نے ایک گورنر پر پابندی لگائی ہے اور اگر کوئی اور قوانین کی خلاف ورزی کرتا پایا جاتا ہے تو اس پر بھی کارروائی کرنے سے نہیں جھجکے گا۔ انھوں نے بتایا کہ انتخابی کمیشن کے پاس ایسے معاملوں میں لیڈروں پر دو، تین یا پھر دس دن تک تشہیر کرنے پر پابندی لگانے کا متبادل رہتا ہے۔

 

لیکن یہ سوال تو اب بھی باقی ہے کہ کیا وزیر اعظم کی تشہیر پر پابندی لگانے کا فیصلہ انتخابی کمیشن لے سکے گا؟

تبصرے
Loading...