ہند و پاک دوستی میں مضمر ،دفعہ 370 اور 35 اے کا دفاع کرنا ہم سب کا فرض ہے /فاروق عبداللہ

تمام مسائل کا حل ہی ریاست میں پائیہ دار امن کی بھی واحد ضمانت

0 122

سرینگر: ہند و پاک دوستی میں مضمر ہے، دفعہ 370 اور 35 اے کا دفاع کرنا ہم سب کا فرض ہے کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر اور حالیہ ہی میں پارلیمانی نشست میں بھاری کامیابی حاصل کرنے والے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے آئینی کشمیر اور نیا کشمیر کے پروگرام میں ریاست کی تینوں خطوں کی یکساں ترقی ، مذہبی آذادی کے ساتھ ساتھ تینوں خطوں کے علاقائی زبانوں ، تہذیب و تمدن کلچر کا تحفظ اندراج ہے اور ریاست کے صدیوں کے بھائی چارہ کی ریت کو قائم ودائم رکھنا نیشنل کانفرنس کا بنیادی اصول اور منشور ہے اس کے ساتھ ساتھ آئین ہند میں ریاست کے لوگوں کو جو جمہوری اور آئینی حقوق حاصل ہوئے ہیں ان کی حیت اور حثیت اولین ترجیحات میں رہنا چاہئے اور آئین ہند کے معمار کا بھی احسان مند رہنا چاہئے جس نے جس نے ملک کے تمام فرقہ کے لوگوں کو آئینی اور جمہوری حقوق اور مذہبی آزادی کے حقوق آئین ہند میں درج کئے ہیں ۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق ان باتوں کا اظہار پارٹی کے صدر اور نئے منتخب ممبر پارلیمنٹ سرینگر بڈگام قائد ثانی ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج اپنے رہائش گاہ گپکار میں پونچھ راجوری اننت ناگ ، گاندربل ، حضرت بل سے آئے ہوئے پارٹی عہدیداران اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاست کے لوگوں کی اپنی آبائی اور عوامی نمائندہ جماعت رہی ہے نے ہمیشہ تشدد کے خلاف آواز بلند کی اور عدم تشدد کے حامی رہی ہے ۔ اسی جماعت نے ریاست کے لوگوں کو جہاں پریس پلیٹ فارم کی آزادی آئین کی بلا دستی ووٹ پرچی اور پنچایت راج کے ساتھ ساتھ مزدور راج ، امداد باہمی راج کی بنیاد ڈالی اور 80% گاؤں کے لوگوں کو زمین پر مالکانہ حقوق دلائیںجبکہ کاشت کار کو سال بھر کی کمائی میں کچھ نہ دیا جاتا ہے اور لوگ سود خاروں چک داروں جاگیر دارون کے شکنجے میں پھنس گئے تھے۔ یہ سب کچھ ان شہدائے وطن کی 1931-32 کا ثمر اور پاک اور مقدس قربانیوں کا پھل ہے جہوں نے ہمیں شخصی راج کی غلامی سے نجات دلایا۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور اسکی عظیم قیادت گزشتہ پونے ایک صدی سے ہندوستان اور پاکستان مضبوط دوستی کی وکالت کرتے آئیں ہے اور ان کے درمیان خوشگوار تعلقات مطمئنی رہی ہے تاکہ مسئلہ کشمیر جو ہندوستان اور پاکستان کی دوستی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل ہونا چاہئے اور اسی کے حل ہونے سے ہی ریاست میں امن لوٹ آنے کی واحد صورت ہے اور مسئلہ حل ہونے کے ساتھ ساتھ ہی ریاست میں پائیہ دار امن کی بھی واحد ضمانت ہیں ۔ میں ہندوستان اور پاکستان کے زعماء سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشمیر کی موجودہ تباہ کن حالات، اقتصادی اور معاشی بحران کے ساتھ ساتھ سیاسی خلف شعاری اور انتشعار کو مد نظر رکھ کر کشمیریوں کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے تینوں کامیاب ممبران پارلیمنٹ کی اولین کوشش یہی رہے گی کہ ریاست کے لوگوں کو دی گئی خصوسی پوزیشن کی مکمل بحالی کے ساتھ ساتھ 35 اے اور دفعہ 370 جو ہمارے لئے موت وحیات کا سوال ہے کا دفاع کرنا ہوگا۔ کیونکہ ان ہی دفعات کے تحت ریاست اور مرکز کے ساتھ رشتوں کی بنیاد پڑی ہے اور جو آنجہانی مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ مشروط الحاق کی بنیاد بھی ہے ۔

تبصرے
Loading...