ہندوپاک جاری کشیدگی کو کرکٹ کے سہارے ختم کیا جاسکتا ہے ، پاکستان بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات کا امکان

0 186

سرینگر : ہندوستان اور پاکستان کے مابین جاری کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے کرکٹ ہی ایک سہارا بچا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ ورلڈ کپ کے میچوں کے دوران ہندوستان اور پاکستانی وزرائے اعظم ایک دوسرے کے ساتھ رسمی ملاقات کرسکتے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بھارت اور پاکستان کے مابین جاری شدید کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے اب کرکٹ کا سہارا لیا جارہا ہے اس سلسلے میں برطانیہ اس کوشش میں لگا ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم ورلڈ کپ کے دوران ہندوپاک میچ دیکھنے کیلئے ایک جگہ موجود ہوں ۔خلیجی اخبار گلف نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران پاکستان اور بھارت کے وزرا اعظم کی ملاقات ہو سکتی ہے۔اخبار کے مطابق برطانوی حکام بھی اس ملاقات کے لئے کوشاں ہیں تاکہ دونوں ممالک کے مابین جاری کشیدگی ختم ہو سکے۔اطلاعات کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان جون میں برطانیہ جائیں گے جہاں وہ پاکستان ٹیم کے دو میچ دیکھیں گے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی انتخابات میں کامیابی کی صورت میں وہاں موجود ہوں گے۔ یا کانگریس کے راہل گاندھی اگر وزیر اعظم بنے تو ان سے عمران خان کی ملاقات کا امکان ہے۔رپورٹس کے مطابق اس عرصے کے دوران بھارت میں انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہو گا اور اگر بی جے پی کامیاب ہوئی تو نریندر مودی وزارت اعظمی کا حلف بھی اٹھا چکے ہوں گے۔یاکانگریس کے راہل گاندھی اگر وزیر اعظم بنتے ہیں تو ان کی حلف برداری کی تقریب بھی ختم ہوچکی ہوگی۔پاکستان اور بھارت نے سرکاری سطح پر متوقع ملاقات سے متعلق تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا۔گلف نیوز کے مطابق برطانیہ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔برطانوی حکام کے مطابق وہ دونوں ممالک کے وزرا اعظم کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان ممالک کو قریب لانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔برطانوی حکام کے مطابق انہیں خوشی ہو گی کہ اگر ان کی کاوشوں سے خطے میں حالات معمول پر آ جائیں۔پاکستان اور بھارت کے مابین ورلڈ کپ کرکٹ میچ 16 جون کو اولڈ ٹریفورڈ مانچسٹر میں شیڈول ہے۔1987ء میں پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر کے تنازعے پر حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔ دونوں ممالک کے مابین جنگ کے خطرات منڈلانے لگے تھے۔اس دوران پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت میں سیریز کھیلنے کے لئے موجود تھی کہ اچانک پاکستانی صدر میچ دیکھنے بھارت پہنچ گئے تھے۔ اس عمل سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آ گئی تھی۔سی این آئی کے مطابق 2011ء کے ورلڈ کپ کا سیمی فائنل دیکھنے اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی بھارت کے شہر موہالی گئے تھے۔واضح رہے کہ 14 فروری کووادی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں فوجی بس پر خود کش حملے کے نتیجے میں 40 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔بھارت نے اس کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتے ہوئے پاکستان میں کارروائی کر کے جنگجوئوںکے ٹھکانے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔جواب میں پاکستانی فضائیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے درانداز بھارتی طیاروں کو نشانہ بنا کر دو بھارتی طیارے مار گرائے ہیں۔ان واقعات کے باعث دونوں ممالک کے مابین جنگ کے خطرات پیدا ہو گئے تھے تاہم عالمی مداخلت کے باعث یہ خطرہ ٹل گیا تھا۔ تاہم دونوں ممالک کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں۔

تبصرے
Loading...