ہجومی تشدد کے خلاف احتجاج : میرٹھ کے بعد اب گجرات کے سورت میں مسلمانوں کی گرفتاری

جائز احتجاج میں شامل مسلمان نوجوانوں کی گرفتاریوں پر کئی مسلم تنظیموں نے کیا سخت رد عمل کااظہار

0 40

سرینگر: سورت میں ہجامی تشدد کے خلاف احتجاج کررہے مسلم نوجوانوںکو پولیس نے گرفتار کرلیاہے جس کے خلاف کئی مسلم تنظیموں نے سخت رد عمل کااظہار کرتے ہوئے نوجوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ادھر سورت پولیس کا کہناہے کہ تبریز انصاری کے قتل کے خلاف جمعہ کو احتجاجی ریلی کرنے کی ورسٹائل اقلیتی فورم نے اجازت مانگی تھی۔ تاہم پولیس نے انہیں ریلی کی اجازت نہیں دی۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سورت میں بھی ہجومی تشدد کے خلاف کیے گئے احتجاج نے پْرتشددروپ اختیارکرلیا۔ نانپورا علاقے میں جمعہ کو پولیس اور احتجاجیوں کے بیچ جھڑپ ہوئی۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوا میں فائرنگ کی اور آنسو گیس کے گولے داغے۔جھارکھنڈ میں ہجومی تشدد کے ذریعہ تبریز کے قتل کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ احتجاج انتظامیہ کی اجازت کے بغیرکیا گیا تھا۔سورت پولیس کا کہناہے کہ تبریز انصاری کے قتل کے خلاف جمعہ کو احتجاجی ریلی کرنے کی ورسٹائل اقلیتی فورم نے اجازت مانگی تھی۔ تاہم پولیس نے انہیں ریلی کی اجازت نہیں دی۔ پولیس نے فورم کے نمائندوں کو بتایاکہ گجرات یا پھرسورت میں ہجومی تشدد کے واقعات نہیں ہوئے ہیں۔ ایسے میں یہاں احتجاج کی کوئی ضرورت نہیں ہے اسی لیے انہیں احتجاجی ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔لیکن جمعہ کے دن ورسٹائل اقلیتی فورم کے صدر اقبال بابوپٹھان کی قیادت میں اقلیتی نوجوانوں نے احتجاجی ریلی نکالنے کی کوشش کی۔ وہیں دوسری جانب پولیس نے امکانی احتجاج کو دیکھتے ہوئے احتجاجی مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کی۔ تاہم احتجاجی،ریلی نکالنے کی ضد کررہے تھے۔ جس کے بعد پولیس اوراحتجاجیوں میں چھڑپ ہوگئی اورکشیدگی کے سبب پولیس نے ہوائی فائرنگ کی آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس پورے واقع میں 4 پولیس اہلکارزخمی ہوگئے ہیں۔ادھر کئی مسلم تنظیموںنے کہا ہے کہ مسلم طبقہ کا احتجاج جائز ہے اور اگر اسی طرح ملک میں ہجومی تشدد کا رجحان بڑھ گیا تو حالات سنگین ہوجائیں گے انہوں نے کہا کہ جائز احتجاج میں شامل مسلم نوجوانوں کی گرفتاری غیر قانونی ہے لھٰذا تمام گرفتار شدگان کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے ۔ (سی این آئی )

تبصرے
Loading...