ویڈیو:گوپال پورہ کولگام میں فورسز اور جنگجوئوں کے مابین شبانہ خونین معرکہ آرائی، دو مقامی حزب جنگجو جاں بحق

احتجاجی مظاہروں اور مکمل ہڑتال کے بیچ دونوں مقامی جنگجو آبائی علاقوں میںسپرد خاک ، تجہیز و تکفین میں لوگوں کی بھاری شرکت

0 215

 

سرینگر/ اونتی پورہ اور سوپور کے بعد گوپال پورہ کولگام میں فورسز اور جنگجوئوں کے مابین شبانہ خونین معرکہ آرائی میں عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ دو مقامی جنگجو جاں بحق ہو گئے ۔اسی دوران احتجاجی مظاہروں اور ہڑتال کے بیچ دونوں مقامی جنگجوئوں کو آبآئی علاقے میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا جبکہ تجہیز و تکفین میں لوگوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی ۔ ادھر افواہوں کے روکتھام کیلئے ضلع کولگام میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کی گئی ۔سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گوپال پورہ کولگام میں دو جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد فوج و فورسز ، سی آر پی ایف اور ایس او جی کولگام نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں اُس گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب ایک رہائشی مکان میں محصور جنگجوئوں نے فرار ہونے کی کوشش میں فورسز پر اند دھند گولیاں چلائی جس کے ساتھ ہی فورسز نے بھی مورچہ زن ہوکر جوابی کارروائی کی جس کے ساتھ ہی علاقے میں جھڑپ شروع ہوئی ۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور جنگجوئوں کے مابین گولیوں کا کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس دوران فورسز نے مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوئوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی تاہم وہ بضد رہے جس دوران طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں گولیوں کا تبادلہ جو نہی تھم گیا تو فورسز نے جھڑپ کے مقام سے دو جنگجوئوں کی نعشیں بر آمد کی جن کی شناخت زاہد احمد مانتو ولد بشیر احمد مانتو ساکنہ فیری پورہ شوپیان اور عرفان منظور ولد منظور احمد بٹ ساکنہ پونیواہ کولگام کے بطور ہوئی ۔ دونوں کا تعلق حزب المجاہدین سے بتایا جاتا ہے ۔اور ان کے قبضے سے بھاری مقداد میں اسلحہ و گولہ بارود بھی ضبط کیا گیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ گوپال پورہ جھڑپ میں دو جنگجوئوں کے جاں بحق ہونے کی خبر ضلع کولگام کے بیشتر علاقوں میں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوںپر نکل آئے او رپولیس و فورسز پر سنگ باری شروع کی ۔ پولیس نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مارے گئے جنگجو ئوں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے علاوہ کئی اہم کیسوں میں پولیس و فورسز کو انتہائی مطلوب تھے ۔ اور ان کے خلاف مختلف پولیس تھانوں میں کیس درج تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ جھڑپ کے مقام سے قابل اعتراض مواد بھی بر آمد کیا گیا جبکہ اس سلسلے میں کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے ۔اسی دوران جونہی مہلوک جنگجوئوں کی نعشوں کو اپنے اپنے آبائی علاقوں میں پہنچایا گیا تو اس موقعے پر وہاں کہرام مچ گیااور لوگوں کا جم غفیر علاقے میں امڈ آیا اور اس دوران نہ صرف وہاں ماتم اور آہ و زاری کے رقعت آمیز مناظر دیکھے گئے بلکہ علاقے میں لاوڈ اسپیکروں پر اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کا سلسلہ ردن بھر جاری رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی دوران مہلوک جنگجوئوں کے آبائی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جس دوران نوجوانوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی ۔ اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ مکمل ہڑتال کے کولگام کے درجنوں علاقوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں نے مہلوک جنگجوئوں کے آبائی علاقوں کا رخ کیا جس دوران انہوں نے جاں بحق جنگجوئوںکے نماز جنازے ادا کئے گئے ۔ ( سی این آئی )

تبصرے
Loading...