گورنر کا نیتی آیوگ کی میٹنگ سے خطاب، سرکار کے اہم اقدامات کو اُجاگر کیا ،مرکزی سرکار سے بھرپور معاونت طلب کی

0 41

نئی دلّی/16؍جون 2019 ئ؁
گورنرستیہ پال ملک نے نیتی آیوگ کے گورننگ کونسل کی پانچویں میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ریاست جموں وکشمیرمیں تعمیر و ترقی میں سرعت لانے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی مداخلت طلب کی، جو ریاست میں امن و امان اور تعمیر وترقی کے لئے ضروری ہے۔
نیتی آیوگ کے گورننگ کونسل کی پانچویں میٹنگ سے خطا ب کرتے ہوئے گورنر نے گذشتہ ایک برس میں اُٹھائے گئے اہم اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں ترقیاتی عمل کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے جس کے لئے اُنہوں نے مرکزی سرکار سے بھرپور مالی مدد کی اپیل کی۔
20؍ جون 2018ء کو ریاست میں گورنر راج اور 20؍ دسمبر 2018ء کو صدر راج کے نفاذ کے بعد سے اب تک کئے گئے اہم اقدامات کو اُجاگر کرتے ہوئے گورنر نے کہاکہ ریاست میں نومبر دسمبر میں سات برس کے بعد پُر امن پنچایتی راج شہری بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے عوام کی بااختیاری سمیت کئی اہداف حاصل کئے گئے اور اِنتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی کال اور دھمکیوں کے باوجود بھی عوام نے بڑی تعداد میں ووٹ دِیا۔ اِن انتخابات میں کسی جانی نقصان کے بغیر 74فیصد ووٹنگ درج کی گئی ۔
ریاستی سرکار نے پنچایتوں کو مستحکم کرنے اور انہیں مزید اختیارات دینے کے لئے جموں وکشمیر پنچایتی راج ایکٹ میں ضروری ترامیم کو متعارف کیا ۔اس کوشش کو مزید تقویت دینے کی غرض سے ، گورنر نے کہا کہ ریاستی سرکار 20سے 27؍ جون تک بیک ٹو دِی ولیج پروگرام کا انعقاد کر رہی ہے جس کے دوران تمام گزیٹیڈ آفیسر ایک پنچایت میں دو دِن ٹھہر کر پنچایتی نمائندوں کے ساتھ جُڑ کر مختلف سرکاری خدمات کی فراہمی اور مقامی ضروریات کا جائزہ لیں گے ۔گورنر نے کہاکہ یہ ریاست میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے اور ہم پُر اُمید ہے کہ اس کی بدولت ریاست میں زمینی سطح پر جمہوریت کو فروغ دینے میں کافی مدد ملے گی۔
گورنر نے کہاکہ ریاست کے تمام خطوں کی مساوی ترقی سرکار کی ترجیح ہے۔اُنہوں نے کہاکہ جموں اور سری نگر میں ہائی سپیڈ ریل کاری ڈور اور دوسٹیلائیٹ ٹاون شپ قائم کئے جائیں گے جبکہ لداخ خطے کے عوام کی خواہشات کی قدر کرتے ہوئے اسے الگ ڈویژن بنانے کے علاوہ یونیورسٹی کے قیام اور پہاڑی کونسلوں کو بااختیار بنایا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کرگل میں لیہہ کی طرز پر عنقریب ہی ایک تجارتی ہوائی اڈہ قائم ہوگا۔
گورنر نے کہاکہ ریاست میں کالجوں کو 98سے بڑھا کر 200کیاگیا ہے جبکہ ایک سال میں ایم بی بی ایس سیٹوں کو 500سے بڑھا کر 1000کردیا ہے جو کسی بھی ریاست میں غالباً ایسا پہلا قدم ہے۔اس کے علاوہ نئی سہولیات قائم کی جارہی ہیں جن کی بدولت مستقبل میں ریاست میڈیکل ٹوراِزم کا مرکز بنے گی۔
بنیادی ڈھانچے کا ذکر کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ریاست میں 6000کروڑ روپے مالیت کے کئی پروجیکٹ زیر اِلتوا تھے جن میں سے کئی پروجیکٹ 20برس سے زیر اِلتوا تھے۔انہوں نے کہاکہ ریاستی سرکار نے جموںوکشمیر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فائنانس کارپوریشن کو قائم کر کے 18مہینوں میں زیر اِلتوا پروجیکٹوں کی تکمیل میں 8000کروڑ روپے کے قرضہ جات حاصل کئے اس قدم کو نیتی آیوگ کی طرف سے کافی سراہنا ملی ہے۔
گورنر نے کہا کہ ایسپیریشنل ڈسٹرکٹ پروگرام کے تحت ریاست میں کافی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ایک برس قبل کپواڑہ ضلع سب سے نیچے تھا جبکہ اس پروگرام کی عمل آوری سے ضلع نے بہترین کارکردگی کا مظاہر ہ کیا ہے۔اُنہوں نے کہاکہ فروری 2018ء میں سوچھ بھارت مشن کے تحت ریاست سب سے خراب کار کردگی دِکھانے والی ریاست تھی مگر ستمبر 2018 ء میں اسے کھلے میں حاجت بشری کی عادت سے پاک قرار دیا گیا۔اُنہوں نے کہاکہ سوبھاگیہ سکیم کو وقت سے پہلے مکمل کرنے پر ریاست کو قومی ایوارڈ اور ایک سو کروڑ کا ایوارڈ ملا۔
آیوشمان بھارت کے تحت ریاست میں گولڈ کارڈ اِجرأ کرنے کا تناسب سب سے زیادہ ہے اور ریاست کو ملک میں طبی خدمات کے حوالے سے سب سے بہترین ریاست قرار دیا گیا ہے جب کہ نیتی آیوگ نے گذشتہ ایک برس میں ایسپریشنل ڈسٹرکٹ پروگرام کے تحت ریاست کو مختلف ریاستوں کی درجہ بندی میں دوسرا مقام عطاکیا ہے اور پروگرام کے تحت بارہمولہ ضلع ملک میں دوسرے مقام پر ہے۔
گورنر نے کہا کہ ریاستی سرکار تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے تاکہ ستمبر 2014ء جیسی سیلابی صورتحال پیدا نہ ہو ۔اُنہوں نے کہاکہ جھیل ولر اور جہلم کی ڈریجنگ کے لئے ایک پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس کے انہوں نے مرکزی سرکار سے فنڈنگ کی اپیل کی تاکہ سری نگر اور وادی کے دوسرے حصو ں کو مستقبل میں سیلابوں سے بچایا جاسکے۔اُنہوں نے کہاکہ ریاست میں 2021ء تک سب کو پینے کاپانی فراہم کرنے کے لئے ایک پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے لئے انہوں نے مرکزی سرکار سے بھرپور مالی مدد کی گزارش کی۔اس پروگرام سے ریاست جموںوکشمیر ملک کی پہلی ایسی ریاست ہوگی جہاں ہر ایک گھر کو پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا۔
گورنر نے کہاکہ ریاست میں اس برس اچھی خاصی برفباری اور بارش ہوئی اور انہوں نے کہاکہ ایس ڈی آر ایف کے ضوابط میں نرمی کی ضرورت ہے تاکہ 10فیصد سے زائد فنڈنگ کو برف ہٹانے اور انسداد سیلاب سے متعلق سازو سامان کی خرید ممکن ہو سکے۔انہوں نے کہاکہ مرکزی سرکار کی طرف سے منریگا کے لئے ابھی بھی رقومات واجب الادا ہے ۔اُنہوں نے کہا ہے کہ ریاست کو ایک خصوصی رعایت حاصل تھی جس کے تحت حصول اراضی کی قیمت کو پی ایم جی ایس وائی کے پروجیکٹوں میں شامل کیا گیا تھا اورریاست اس رعایت کو جاری رکھنا چاہے گی۔
باغبانی اور زرعی شعبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے گورنر نے کہاکہ باغبانی اور پشو و پالن شعبے پر توجہ دینے سے کسانوں کی آمدن کو دوگنا کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں اعلیٰ معیاری سیب ، زعفران ، اخروٹ اور دیگر میوہ جات کی بھرپور پیداوار ہوتی ہے البتہ کولڈ سٹوریج ، گریڈنگ اور پیکینگ پلانٹوں کی کمی اور دیگر ضروریات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ریاست کو نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں ۔انہوں نے ان شعبوں کے فروغ کے لئے مرکزی معاونت کی گزارش کی۔
گورنر نے کہاکہ جموں ۔سری نگر قومی شاہراہ لوگوں کے لئے کافی پریشانیوں کا باعث بنتی ہے اور اس شاہراہ پر بلا خلل آواجاہی جاری رہنے کے لئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے افسروں کی فُل ٹائم تعیناتی کے علاوہ وادی اور لداخ کوسال بھر جوڑے رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ سری نگر ہوائی اڈے کو بین الاقوامی روٹ نقشے پر لانے کی ضرورت ہے۔
گورنر نے کہاکہ ریاست رواں برس کے اختتام پر سرمایہ کاری سے متعلق سمیت کا اہتمام کر رہی ہے جس کے لئے عالمی معیار کی دو آئی ٹی پارکوں اور دیگر سہولیات کا قیام جاری ہے۔
گورنر نے کہا کہ ترقیاتی ضروریات کے لئے ریاست مرکزی پر کافی حد تک منحصر ہے اور 80,000کروڑ روپے کا وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج ریاست کے لئے کافی فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ گزشتہ ایک برس میں اس پروجیکٹ کے تحت مختلف پروجیکٹوں کی عمل آوری میں سرعت لائی گئی اور مختلف سڑکوں ،پلوں ، فلائی اووروں ، ہسپتالوں ، تعلیمی اداروں اور دیگر پروجیکٹوں پر کام شدو مد سے جاری ہے جس کی بدولت لوگوں میں توقعات بڑھ گئی ہیں۔
گورنر نے کہاکہ ریاست جموںوکشمیر ملی ٹنسی سے لڑنے میں پیش پیش ہے اور اس کے لئے بھرپور مدد کی ضرورت ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ ملی ٹنسی سے متاثرہ اضلاع کے لئے ایک خصوصی مرکزی معاونت والی سکیم کی ضرورت ہے تاکہ ملی ٹنسی کا خاتمہ کیا جاسکے۔
گورنر نے کہاکہ گزشتہ برس شری امرناتھ جی یاترا کا انعقاد احسن طریقے پر ہوا اور ہم پُر امید ہیں کہ مرکزی سرکار کی مدد سے اس برس بھی یاترا پُر امن ڈھنگ سے جاری رہے گی۔
اپنے اختتامی خطبے میں گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ گزشتہ ایک برس کی کارکردگی سے ظاہر ہے کہ ریاست میں بہتر حکومت سازی اور ترقیات ممکن ہے۔اُنہوں نے کہاکہ ریاست میں قانون کو نافذ کیا گیا ہے اور رشوت خور عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جارہا ہے ۔اُنہوں نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ مرکزی سرکار کے تعاون سے نوجوانوں کااعتماد کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ ریاستی سرکار مرکزی سرکار کے ساتھ کام کر کے یہ بات یقینی بنائے گی کہ ریاست کے عوام کا مستقبل اقتصادی اور دیگر محاذوں پر درخشاں ہو۔

تبصرے
Loading...