کھٹوعہ عصمت دری اور قتل معاملہ ـ:پٹھانکوٹ کی خصوصی عدالت نے فیصلہ سنایا ، چھ ملزم مجرم قرار ، ایک بری

تین ملزمان کو عمر قید جبکہ دیگر تین کو پانچ سال کی سزا ،عمر قید پانے والے ملزمان پر ایک لاکھ روپے فی کس جرمانہ بھی عائد

0 27

سرینگر/// سال 2018کے ماہ جنوری میںجموں کے کھٹوعہ ضلع میں آٹھ سالہ خانہ بدوش لڑکی کی عصمت دری اور قتل کیس کے واقعہ میں پٹھانکوٹ کی ایک خصوصی عدالت نے کیس میں ملوث چھ ملزموں کو مجرم قرار دیا جبکہ ایک کو بری کر دیا گیا ۔اسی دوران عدالت نے مجرموں کو سزا سناتے ہوئے تین کو عمر قید جبکہ دیگر کو پانچ سال کی سزا سنائی گئی ۔ سی این آئی کے مطابق ماہ جنوری 2018میں ریاست جموں کشمیر میں اس وقت تشدد کی لہر بھڑک اٹھی جب جموں کے کھٹوعہ ضلع میں آٹھ سالہ خانہ بدوش لڑکی کی عصمت دری کے بعد قتل کا معاملہ سامنے آیا ۔ عوامی احتجاجی لہر جس میں متاثرہ کنبے کو انصاف فراہم کرنے کازور دار مطالبہ کیا گیا ہے بعد پولیس نے حرکت میں آکراس معاملے میں ملوث مندر کے پوجاری سمیت سات افراد کی گرفتاری عمل میں لائی ۔ جس کے بعد معاملہ عدالت پہنچااور کیس کو سیکورٹی وجوہات کی بنا پر پٹھانکوٹ کی ایک خصوصی عدالت میں منتقل کیا گیا ۔ پٹھانکوٹ کی عدالت میں سماعت ایک سال سے زائد عرصے تک چلی جس کے بعد سوموار کو عدالت نے فیصلہ سنایا اور کیس میں چھ ملزموں کو مجرم قرار دیدیا۔ مجرم قرار دئے گئے افرد میں رسانا گائوں کا مکھیہ سانجی رام،دو ایس پی او دیپک کھجوریہ اور سریندر ورما، ہیڈ کانسٹیبل تلک راج اور سب انسپکٹر آنند دتا شامل ہیں۔ اس کیس کے ساتویں ملزم کیخلاف الگ سے ٹرائیل چلایا جائے گا جبکہ آٹھویں ملزم کو عدالت نے بری قرار دیا ہے۔اسی دوران مجرموں کی سزا کے بارے میں عدالت کا فیصلہ دن کے دو بجے سامنے آنے تک جبکہ بعد میں اسکو چار بجے تک موخر کیا گیا تاہم چار بجے کے بعد مجرموں کو سزا سنائی گئی ۔کیس کے تین ملزمان کو عمر قید جبکہ دیگر تین کو پانچ سال کی سزا سنائی۔عمر قید پانے والے ملزمان پر ایک لاکھ روپے فی کس جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔عمر قید کی سزا پانے والے مجرموں میں رسانا مندر کا پجاری سانجی رام، دیپک کھجوریہ اور پرویش کمار عرف منو شامل ہیں۔پانچ سال کی قید اور پچاس ہزار روپے فی کس جرمانہ پانے والے تین مجرموں میں آنند دتا،تلک راج اور سریندر شامل ہیں۔اس کیس کے ایک ملزم سانجی رام کے بیٹے وشال کو عدالت نے بری کردیا۔کیس کے 8 میں سے 7 ملزمان کا فیصلہ آج سنایا گیا جبکہ آٹھواں ملزم جو کہ نابالغ ہے، کے خلاف ٹرائیل عنقریب جوینائل کورٹ میں شروع ہونے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ اس کیس میں میں سپریم کورٹ کے احکامات پر 31 مئی 2018 کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں کیس کی ان کیمرہ اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوئی تھی۔اس کیس کے ملزمان میں عصمت دری و قتل معاملہ کے منصوبہ ساز سانجی رام، اس کا بیٹا وشال جنگوترا، سانجی رام کا بھتیجا نا(بالغ) ، نابالغ ملزم کا دوست پرویش کمار عرف منو، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج اور آنند دتا شامل تھے۔چارج شیٹ میں سانجی رام پر عصمت دری و قتل کی سازش رچنے، وشال، نابالغ ملزم، پرویش اور ایس پی او دیپک کھجوریہ پر عصمت دری و قتل اور ایس پی او سریندر کمار، تحقیقاتی افسران تلک راج و آنند دتا پر جرم میں معاونت اور شواہد مٹانے کے الزامات لگے تھے۔قبل ازیں، 3جون کو جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے استغاثہ اور وکلائصفائی کی طرف سے پیش کئے گئے حتمی دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ رکھا تھا ۔(سی این آئی)

تبصرے
Loading...