کشمیر کے حالات کو نیشنل میڈیا منفی انداز میں پیش کررہا ہے؛سیاحت سے جڑے افراد برہم

وادی میں موسم بہار شروع ہونے کے باوجود سیاحوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر

0 123

سرینگر : وادی میں موسم خزان شروع ہونے کے باوجود بھی سیاحوں کی کافی کمی دیکھنے کو ملی ہے جس کے نتیجے میں سیاحت سے جڑے افراد کافی پریشانی کی حالت میں ہیں ۔ اس موسم میں سیاحوں کا بھاری رش ہوتا تھا ۔ لیکن اب سیاح بلکل ہی کم دکھائی دے رہے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں موسم بہار شروع ہونے کے ساتھ ہی ساحتی سیزن بھی دستک دیتا تھا اور ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں سیاح وادی کے مختلف سیاحتی مقامات کی طرف رُخ کرکے قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوجاتے تھے تاہم رواں برس سیاحوں کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس حوالے سے سیاحتی صنعت سے وابستہ کئی افراد نے اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر میں گذشتہ چند برسوں میں ٹورسٹ بہت ہی کم آتے ہیں جس کے نتیجے میں ٹورسٹ صنعت سے جڑے افراد مایوسی کے شکار ہوگئے ہیں ۔ وادی میں حالات خراب ہونے کے باجود بھی یہاں پر سیاح کافی تعداد میں آتے تھے لیکن اب جب کہ حالات بہتر ہیں یہاں پر سیاح کافی کم دکھائی دے رہے ہیں ۔ اس دوران کئی ٹور آپریٹوں اور ٹورسٹ ٹراول ایجنٹوںنے کہا کہ سیاح کشمیر کی طرف بہت ہی کم آتے ہیںکیوں کہ نیشنل میڈیا کی جانب سے کشمیر کے حالات کے بارے میں چلائے جارہے منفی پروپگنڈا کی وجہ سے سیاح یہاںآنے سے کتراتے ہیں ۔ اس کے علاوہ سرکاری کی جانب سے اس طرف عدم توجہ بھی ایک اہم معاملہ ہے ۔ انہوںنے کہا کہ سابقہ وزرائے اعلیٰ مفتی محمدسید اور عمر عبداللہ نے سیاحتی سیکٹر کو مضبوط بنانے اور کشمیر سیاحت کو بڑھاوادینے کیلئے کافی کوششیں کی تھیں اور انہوںنے ذاتی طور پر اس کیلئے بیرون وادی جاکر کئی طرح کے پروگرامات منعقد کئے جبکہ فلم انڈسٹری سے وابستہ افراد سے بھی ملے اور انہیں یہاں آنے کیلئے قائل کیا تھا جس کی وجہ سے ملک کی مختلف ریاستوںسے ٹورسٹوںنے یہاں آنا شروع کیا لیکن موجود سرکار اس طرف کوئی دھیان نہیں دے رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ گذشتہ موسم سرماء میں جس اندازے سے برفباری ہوئی تھی اُس صورتحال کے پیش نظر یہاں پر ٹورسٹوں کا کافی رش ہونا چاہئے تھا لیکن سرکار کی عدم توجہی کی وجہ سے ٹورسٹوں کی کم تعداد یہاں آئی۔ ادھر شکارے والوں ، ہاوئس بوٹ والوں اور ہوٹل مالکان نے بھی اس طرح کے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے حالات قدرے بہتر ہیں اور اگر جھارکھنڈ چھتیس گھڑ اور دیگر شورش زدہ علاقوں کی بات کریں تو وہاں پر اس سے زیادہ حالات ابتر ہیں تاہم نیشنل میڈیا کشمیر کے حالات کو ہی بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے جس کی وجہ سے لوگ یہاں آنے میں خوف محسوس کررہے ہیں ۔سی این آئی کے مطابق انہوںنے سرکار سے مطالبہ کیاکہ کشمیر کے حالات کو منفی انداز میں پیش کرنے والی ٹی وی چینلوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ یہاںکے سیاحتی سیکٹر پر منفی اثرات نہ پڑے ۔ انہوںنے کہا کہ اس موسم میں یہاں کی بکنگ بہت ہی زیادہ ہوتی تھی اور ہوٹلوں میں جگہ ہی نہیں ملتی تھی یہاں پر ہزاروں نہیں بلکہ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں سیاح موجود ہوتے تھے جس کے نتیجے میں اس صنعت سے جڑے افراد بھی اپنا روز گار بخوبی کمالیتے تھے لیکن آج کے صورتحال مختلف ہے سیاحتی سیکٹر سے جڑے افراد کو روزانہ کا خرچہ بھی بڑی مشکل سے نکلتا ہے ۔ (سی این آئی )

تبصرے
Loading...